Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ عٰلِمَ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ اَنۡتَ تَحۡکُمُ بَیۡنَ عِبَادِکَ فِیۡ مَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ﴿۴۶﴾

۴۶۔ کہدیجئے: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے خالق، پوشیدہ اور ظاہری باتوں کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔

46۔ یہ لوگ ذکر خدا کو پسند نہیں کرتے۔ قُلِ اے رسول! تو اس طرح ذکر خدا کر: تو کائنات کا خالق ہے۔ غیب و شہود کا جاننے والا تو ہی ہے۔ آخری اور اٹل فیصلہ سنانے والا بھی تو ہی ہے۔ اس ذات کے ذکر کو پسند نہ کرنے والے لوگ کل اٹل فیصلے کے دن اللہ کو کیسے منہ دکھائیں گے؟


وَ لَوۡ اَنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لَافۡتَدَوۡا بِہٖ مِنۡ سُوۡٓءِ الۡعَذَابِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مَا لَمۡ یَکُوۡنُوۡا یَحۡتَسِبُوۡنَ﴿۴۷﴾

۴۷۔اور اگر ظالموں کے پاس وہ سب (دولت) موجود ہو جو زمین میں ہے اور اتنی مزید بھی ہو تو قیامت کے دن برے عذاب سے بچنے کے لیے وہ اسے فدیہ میں دینے کے لیے آمادہ ہو جائیں گے اور اللہ کی طرف سے وہ امر ان پر ظاہر ہو کر رہے گا جس کا انہوں نے خیال بھی نہیں کیا تھا۔

47۔ وَ بَدَا لَہُمۡ : مشرکین چونکہ آخرت کو نہیں مانتے تھے، اس لیے عذاب آخرت کے بارے میں ان کا تصور نہایت سطحی تھا اور عذاب الٰہی کا سامنا کریں گے تو ایسی صورت سامنے آئے گی جو ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔


وَ بَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ﴿۴۸﴾

۴۸۔ اور ان کی بری کمائی بھی ان پر ظاہر ہو جائے گی اور جس بات کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ انہیں گھیر لے گی۔

48۔ وہ دنیا میں ہادیان برحق کی طرف سے آخرت کے عذاب کی باتیں سنتے تو اس کا مزاح اڑاتے تھے، لیکن آج ان کے اپنے گناہ خود ظاہر ہو کر ان کے سامنے آئیں گے۔


فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۫ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰہُ نِعۡمَۃً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ ؕ بَلۡ ہِیَ فِتۡنَۃٌ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ﴿۴۹﴾

۴۹۔ جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اپنی طرف سے اسے نعمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے: یہ تو مجھے صرف علم کی بنا پر ملی ہے، نہیں بلکہ یہ ایک آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

49۔ وہ اس نعمت کو اپنی ذاتی مہارت کا نتیجہ تصور کرتا ہے یا وہ یہ تصور کرتا ہے کہ وہ اس نعمت کا اہل اور مستحق ہے، حالانکہ یہ نعمت اس کے لیے ایک آزمائش ہے، کیونکہ اللہ اپنے نیک بندوں کو مصائب میں مبتلا کر کے آزماتا ہے اور وہ کامیاب نکل آتے ہیں، جبکہ نافرمان بندوں کو دولت و نعمت دے کر آزماتا ہے اور یہ دولت اور نعمت ہی ان کے لیے باعث عذاب بن جاتی ہے۔


قَدۡ قَالَہَا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ﴿۵۰﴾

۵۰۔ ان سے پہلے (لوگ) بھی یہی کہا کرتے تھے تو جو کچھ وہ کرتے تھے ان کے کسی کام نہ آیا۔


فَاَصَابَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ؕ وَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ ہٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیۡبُہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ۙ وَ مَا ہُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ﴿۵۱﴾

۵۱۔ پس ان پر ان کے برے اعمال کے وبال پڑ گئے اور ان میں سے جنہوں نے ظلم کیا ہے عنقریب ان پر بھی ان کے برے اعمال کے وبال پڑنے والے ہیں اور وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتے ۔


اَوَ لَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ﴿٪۵۲﴾

۵۲۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ اور تنگ کر دیتا ہے؟ ایمان لانے والوں کے لیے یقینا اس میں نشانیاں ہیں۔

52۔ یہ بات درست ہے کہ رزق کا حصول اس کے علل و اسباب کے ساتھ مربوط ہے، لیکن اول تو اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے، ان علل و اسباب کے پیچھے ارادﮤ الٰہی کارفرما ہوتا ہے۔ ثانیاً: ان علل و اسباب کو باہم مربوط کر کے ان کی کڑیوں کو صحیح طریقے سے ملایا جائے تو نتیجہ ملتا ہے۔ ورنہ ایک شخص بہت محنت کرتا ہے، لیکن نتیجہ حاصل نہیں ہوتا کیونکہ ان مطلوبہ کڑیوں کو ملانے والا بھی ارادﮤ الٰہی ہے۔


قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ﴿۵۳﴾

۵۳۔ کہدیجئے:اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، یقینا اللہ تمام گناہوں کو معاف فرماتا ہے، وہ یقینا بڑا معاف کرنے والا ، مہربان ہے۔

53۔ یہ محبت بھرا خطاب تمام انسانوں سے ہے۔ یہاں ارتکاب جرم کے بعد اللہ کی طرف پلٹنے (توبہ کرنے) کی بات ہے، وگرنہ جرم کے ارتکاب کے ساتھ عفو اور درگزر نامعقول بات ہے کہ قوم جرم کا ارتکاب جاری رکھے اور ساتھ معافی بھی جاری رہے۔ البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ جرم کا ارتکاب ممکن ہونے کی صورت میں بندہ توبہ کرے تو تمام گناہ بخشے جائیں گے، خواہ شرک ہو یا غیر شرک اور اگر جرم کے ارتکاب کا امکان ختم ہو جائے، یعنی موت آ جائے تو اس صورت میں اللہ مشرک کو معاف نہیں کرتا۔ شرک کے علاوہ باقی گناہ پھر بھی معاف ہو سکتے ہیں: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۔ (نساء :48) اللہ شرک کو نہیں بخشتا، اس سے کمتر (گناہوں) کو جس کے لیے چاہے بخش دیتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ قرآن میں اس آیت سے وسیع تر کوئی آیت نہیں ہے۔ ممکن ہے وسعت سے مراد یہ ہو کہ یہ آیت سب بندوں اور سب گناہوں کو شامل ہے۔


وَ اَنِیۡبُوۡۤا اِلٰی رَبِّکُمۡ وَ اَسۡلِمُوۡا لَہٗ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴿۵۴﴾

۵۴۔ اور اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ قبل اس کے کہ تم پر عذاب آ جائے،پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔

54۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سابقہ آیت کا تعلق توبہ کرنے کی صورت سے ہے۔


وَ اتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَۃً وَّ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾

۵۵۔ اور تمہارے رب کی طرف سے تم پر جو بہترین (کتاب) نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو قبل اس کے کہ تم پر ناگہاں عذاب آ جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

55۔ بہترین یہ ہے کہ جس میں انسان کی نجات اور دارین کی سعادت ہے، جبکہ جن باتوں سے اجتناب کرنے کے لیے کہا گیا ہے، وہ انسان کے لیے بدترین ہیں۔