Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

یَعۡمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِیۡبَ وَ تَمَاثِیۡلَ وَ جِفَانٍ کَالۡجَوَابِ وَ قُدُوۡرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا ؕ وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ﴿۱۳﴾

۱۳۔ سلیمان جو چاہتے یہ جنات ان کے لیے بنا دیتے تھے، بڑی مقدس عمارات، مجسمے، حوض جیسے پیالے اور زمین میں گڑی ہوئی دیگیں، اے آل داؤد! شکر ادا کرو اور میرے بندوں میں شکر کرنے والے کم ہیں۔

13۔ تمثال سے مراد جانداروں کا مجسمہ نہیں بلکہ روایات کے مطابق وہ درختوں کی تمثال بناتے تھے۔ شیخ انصاری مکاسب محرمہ میں فرماتے ہیں: جانداروں کا مجسمہ بنانا بلا اختلاف حرام ہے۔

وَقُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ : دیگیں گڑی ہوئی اس لیے ہوتی ہوں گی کہ وہ اتنی بڑی ہوتی تھیں کہ انہیں منتقل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ممکن ہے ان میں افواج کے لیے کھانا پکتا ہو۔


فَلَمَّا قَضَیۡنَا عَلَیۡہِ الۡمَوۡتَ مَا دَلَّہُمۡ عَلٰی مَوۡتِہٖۤ اِلَّا دَآبَّۃُ الۡاَرۡضِ تَاۡکُلُ مِنۡسَاَتَہٗ ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الۡجِنُّ اَنۡ لَّوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ الۡغَیۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِی الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ ﴿ؕ۱۴﴾

۱۴۔ پھر جب ہم نے سلیمان کی موت کا فیصلہ کیا تو ان جنات کو سلیمان کی موت کی بات کسی نے نہ بتائی سوائے زمین پر چلنے والی (دیمک) کے جو ان کے عصا کو کھا رہی تھی، پھر جب سلیمان زمین پر گرے تو جنوں پر بات واضح ہو گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کے اس عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔

14۔اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جنات غیب کا علم نہیں رکھتے جیسا کہ مشرکین مکہ کا عقیدہ تھا: وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الۡجِنَّ وَ خَلَقَہُمۡ ۔ (انعام: 100) اور انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک قرار دیا حالانکہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔


لَقَدۡ کَانَ لِسَبَاٍ فِیۡ مَسۡکَنِہِمۡ اٰیَۃٌ ۚ جَنَّتٰنِ عَنۡ یَّمِیۡنٍ وَّ شِمَالٍ ۬ؕ کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ رَبِّکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ ؕ بَلۡدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّ رَبٌّ غَفُوۡرٌ﴿۱۵﴾

۱۵۔بتحقیق(اہل) سبا کے لیے ان کی آبادی میں ایک نشانی تھی، (یعنی) دو باغ دائیں اور بائیں تھے، اپنے رب کے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو، ایک پاکیزہ شہر (ہے) اور بڑا بخشنے والا رب۔

15۔سبا سے مراد وہ علاقہ ہے جسے آج ہم یمن کہتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ نہایت سر سبز تھا اور یہاں ہر طرف باغات نظر آتے تھے۔


فَاَعۡرَضُوۡا فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ سَیۡلَ الۡعَرِمِ وَ بَدَّلۡنٰہُمۡ بِجَنَّتَیۡہِمۡ جَنَّتَیۡنِ ذَوَاتَیۡ اُکُلٍ خَمۡطٍ وَّ اَثۡلٍ وَّ شَیۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِیۡلٍ﴿۱۶﴾

۱۶۔ پس انہوں نے منہ پھیر لیا تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیج دیا اور ان دو باغوں کے عوض ہم نے انہیں دو ایسے باغات دیے جن میں بدمزہ پھل اور کچھ جھاؤ کے درخت اور تھوڑے سے بیر تھے۔

16۔ابن عباس اور قدیم کتبات کے مطابق عَرِم سد (بند) کو کہتے ہیں۔ یہ بند تاریخ میں سد مآرب کے نام سے مشہور ہے۔ مآرب اس زمانے میں یمن کا دارالسلطنت تھا۔ لہٰذا سیل العرم اس سیلاب کو کہا گیا ہے جو کسی بند کے ٹوٹنے سے آیا تھا۔ چنانچہ اس سیلاب سے یمن کا سارا علاقہ تباہ ہو گیا۔ اس زمانے کے سبا والوں نے ایک عظیم سد بنایا تھا جس سے آب پاشی کا بہترین نظام وجود میں آیا اور سارا علاقہ سر سبز ہو گیا تھا۔ سیلاب کی تباہی کے بعد وہاں جھاڑیاں اگتی تھیں۔


ذٰلِکَ جَزَیۡنٰہُمۡ بِمَا کَفَرُوۡا ؕ وَ ہَلۡ نُجٰزِیۡۤ اِلَّا الۡکَفُوۡرَ﴿۱۷﴾

۱۷۔ ان کی ناشکری کے سبب ہم نے انہیں یہ سزا دی اور کیا (ایسی) سزا ناشکروں کے علاوہ ہم کسی اور کو دیتے ہیں؟

17۔ کفران نعمت کی سزا کبھی دنیا میں سلب نعمت اور آخرت میں عذاب کی صورت میں ملتی ہے۔


وَ جَعَلۡنَا بَیۡنَہُمۡ وَ بَیۡنَ الۡقُرَی الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا قُرًی ظَاہِرَۃً وَّ قَدَّرۡنَا فِیۡہَا السَّیۡرَ ؕ سِیۡرُوۡا فِیۡہَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیۡنَ﴿۱۸﴾

۱۸۔ اور ہم نے ان کے اور جن بستیوں کو ہم نے برکت سے نوازا تھا، کے درمیان چند کھلی بستیاں بسا دیں اور ان میں سفر کی منزلیں متعین کیں، ان میں راتوں اور دنوں میں امن کے ساتھ سفر کیا کرو۔

18۔ برکت والی بستیوں سے مراد بلاد شام ہی ہو سکتے ہیں۔ قرآن ان علاقوں کا ہمیشہ ذکر برکت والے کے نام سے کرتا ہے۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ہم نے یمن اور شام کے درمیان ایسی کھلی یا شاہراہ پر واقع بستیاں بسائیں اور سفر کی ایسی منزلیں مقرر کیں کہ پورا سفر امن کا سفر رہے۔


فَقَالُوۡا رَبَّنَا بٰعِدۡ بَیۡنَ اَسۡفَارِنَا وَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَجَعَلۡنٰہُمۡ اَحَادِیۡثَ وَ مَزَّقۡنٰہُمۡ کُلَّ مُمَزَّقٍ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ﴿۱۹﴾

۱۹۔ پس انہوں نے کہا : ہمارے رب! ہمارے سفر کی منزلوں کو لمبا کر دے اور انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا چنانچہ ہم نے بھی انہیں افسانے بنا دیا اور انہیں مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، یقینا اس (واقعہ) میں ہر صبر اور شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔

19۔ اس نا شکری پر مشتمل مطالبے کے نتیجے میں ان کو اللہ نے ایسا منتشر کیا کہ ان کی تباہی آنے والی نسلوں کے لیے ضرب المثل بن گئی۔ تفرقوا ایادی سبا ۔

ممکن ہے وہ نا شکری کی زبان حال سے کہ رہے ہوں، ورنہ سفر کی منزلوں کو لمبا کرنے کا مطالبہ ممکن ہے شعوری طور پر نہ کیا ہو۔ والعلم عند اللہ ۔


وَ لَقَدۡ صَدَّقَ عَلَیۡہِمۡ اِبۡلِیۡسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوۡہُ اِلَّا فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ﴿۲۰﴾

۲۰۔ اور بتحقیق ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا گمان درست پایا اور انہوں نے اس کی پیروی کی سوائے مومنوں کی ایک جماعت کے۔

20۔ شیطان نے کہا: میں اولاد آدم کو گمراہ کروں گا سوائے مخلص بندوں کے۔


وَ مَا کَانَ لَہٗ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَۃِ مِمَّنۡ ہُوَ مِنۡہَا فِیۡ شَکٍّ ؕ وَ رَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَفِیۡظٌ﴿٪۲۱﴾

۲۱۔ اور ابلیس کو ان پر کوئی بالادستی حاصل نہ تھی مگر ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ آخرت کا ماننے والا کون ہے اور ان میں سے کون اس بارے میں شک میں ہے اور آپ کا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔

21۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے بہت سے اسباب فراہم فرمائے ہیں، جیسے ضمیر، عقل، فرشتے اور انبیاء علیہم السلام، وہاں گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کو بھی نہیں روکا جیسے خواہشات، شیاطین جن اور شیاطین انس وغیرہ۔ ان دونوں راستوں کے درمیان انسان کو کھڑا کیا گیا تاکہ ایمان اور شک والوں میں امتیاز ہو جائے۔


قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۚ لَا یَمۡلِکُوۡنَ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا لَہُمۡ فِیۡہِمَا مِنۡ شِرۡکٍ وَّ مَا لَہٗ مِنۡہُمۡ مِّنۡ ظَہِیۡرٍ﴿۲۲﴾

۲۲۔ کہدیجئے: جنہیں تم اللہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو انہیں پکارو، وہ ذرہ بھر چیز کے مالک نہیں ہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ہی ان دونوں میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے اس کا کوئی مددگار ہے۔