Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴿۴۸﴾

۴۸۔ اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے تو ان میں سے ایک فریق منہ پھیر لیتا ہے۔

48۔ مقدموں کے فیصلے کے لیے اللہ اور رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف بلانے سے واضح مراد اسلامی قانون ہے، جس کا ماخذ قرآن و حدیث ہے۔ اسلامی قانون سے روگردانی خدا اور رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلمسے روگردانی ہے۔


وَ اِنۡ یَّکُنۡ لَّہُمُ الۡحَقُّ یَاۡتُوۡۤا اِلَیۡہِ مُذۡعِنِیۡنَ ﴿ؕ۴۹﴾

۴۹۔ اور اگر حق ان کے موافق ہو تو فرمانبردار بن کر رسول کی طرف آ جاتے ہیں۔

49۔ جو لوگ صرف اپنے مفاد کی خاطر اسلامی شریعت کا سہارا لیتے ہیں وہ در حقیقت شریعت کی اطاعت نہیں، بلکہ اپنے مفاد کی پیروی کرتے ہیں۔


اَفِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ اَمِ ارۡتَابُوۡۤا اَمۡ یَخَافُوۡنَ اَنۡ یَّحِیۡفَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَ رَسُوۡلُہٗ ؕ بَلۡ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴿٪۵۰﴾

۵۰۔ کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا انہیں کوئی شبہ یا ڈر ہے کہ کہیں اللہ اور اس کا رسول ان کے ساتھ ظلم نہ کریں؟ (نہیں) بلکہ یہ لوگ خود ظالم ہیں۔

50۔ جو لوگ احکام شریعت پر عمل نہیں کرتے، ان کے دلوں میں یا تو سرے سے ایمان نہیں ہے یا وہ اللہ اور اس کے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں تذبذب میں ہیں یا وہ اللہ و رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے انصاف کی توقع نہیں رکھتے۔ ان تینوں صورتوں میں یہ نادان خود اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں۔


اِنَّمَا کَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴿۵۱﴾

۵۱۔ جب مومنوں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو مومنوں کا قول تو بس یہ ہوتا ہے کہ وہ کہیں: ہم نے سن لیا اور اطاعت کی اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔


وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَخۡشَ اللّٰہَ وَ یَتَّقۡہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ﴿۵۲﴾

۵۲۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا اور اس (کی نافرمانی) سے بچتا ہے تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔


وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ لَئِنۡ اَمَرۡتَہُمۡ لَیَخۡرُجُنَّ ؕ قُلۡ لَّا تُقۡسِمُوۡا ۚ طَاعَۃٌ مَّعۡرُوۡفَۃٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴿۵۳﴾

۵۳۔ اور یہ لوگ اللہ کی کڑی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر آپ انہیں حکم دیں تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے، ان سے کہدیجئے: تم قسمیں نہ کھاؤ، اچھی اطاعت (قسم سے بہتر) ہے، بتحقیق اللہ کو تمہارے اعمال کا ۔خوب علم ہے۔

53۔ یہ لوگ آپ کو یقین دلانے کے لیے کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ حکم دیں تو ہم جنگ کے لیے ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔ ایسے لوگوں سے فرمایا: قسمیں مت کھاؤ۔ طَاعَۃٌ مَّعۡرُوۡفَۃٌ ۔ جنگ میں نکلنا ایک کھلی اطاعت ہے۔ وقت آنے پر معلوم ہو جائے گا۔ یا یہ معنی ہیں: تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے۔ تیسرے معنی یہ کیے گئے ہیں: یہ ایک واجب اطاعت ہے قسم کی ضرورت نہیں ہے۔


قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡہِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیۡکُمۡ مَّا حُمِّلۡتُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوۡہُ تَہۡتَدُوۡا ؕ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ﴿۵۴﴾

۵۴۔ کہدیجئے: اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم نے منہ موڑ لیا تو سمجھ لو کہ جو بار رسول پر رکھا گیا ہے اس کے وہ ذمے دار ہیں اور جو بار تم پر رکھا گیا ہے اس کے تم ذمے دار ہو اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کی ذمے داری تو صرف یہ ہے کہ واضح انداز میں تبلیغ کریں۔

54۔ اگر تم نے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت نہ کی تو اس میں رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قطعاً کوئی نقصان نہیں ہے۔ کیونکہ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر تمہاری ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ صرف واضح انداز میں تبلیغ کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔


Deprecated: str_ireplace(): Passing null to parameter #3 ($subject) of type array|string is deprecated in /home/balaghroot/public_html/inc-search-results.php on line 151


وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ﴿۵۵﴾

۵۵۔ تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں اللہ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ انہیں زمین میں اس طرح جانشین ضرور بنائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو جانشین بنایا اور جس دین کو اللہ نے ان کے لیے پسندیدہ بنایا ہے اسے پائدار ضرور بنائے گا اور انہیں خوف کے بعد امن ضرور فراہم کرے گا، وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس کے بعد بھی جو لوگ کفر اختیار کریں گے پس وہی فاسق ہیں۔

55۔ خلافت سے مراد صرف غلبہ اور اقتدار نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں، بلکہ جس خلافت کا اس آیت میں وعدہ دیا جا رہا ہے وہ درج ذیل اصولوں پر قائم ہے۔ i ایمان۔ii عمل صالح iii۔ ان کے پسندیدہ دین کی پائداری۔iv خوف کے بعد امن۔ v شرک سے پاک خالص اللہ کی بندگی۔ لہذا ہر منصف اس آیت سے یہ نتیجہ اخذ کرے گا کہ اس آیت میں ان لوگوں کی بات ہو رہی ہے جن کے اقتدار کے سائے میں دین کو استحکام ملے گا۔ واضح رہے حکومت کا استحکام اور ہے اور دین کا استحکام اور ہے، بلکہ مسلمانوں کا استحکام اور ہے اور اسلام کا استحکام اور ہے۔ ممکن ہے کسی دور میں اسلام کے زرین اصولوں کے استحکام کے لیے جنگ لڑی جا رہی ہو، مسلمانوں میں بے چینی ہو، لیکن اسلام کو تحفظ مل رہا ہو۔ چنانچہ یہ بھی ممکن ہے کہ مسلمانوں کی حکومت کو تو استحکام ہو لیکن اسلامی اصول پامال ہو رہے ہوں اور دین کی تمکین و استحکام، اس کے نظام عدل و انصاف کا قیام، ہر قسم کے ظلم و زیادتی کو جڑ سے اکھاڑ دینا اور ہر قسم کے شرک سے پاک اللہ کی بندگی ہے اور ظہورمہدی (عج) کے بعد ہی یہ وعدہ پورا ہو سکتا ہے۔


وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴿۵۶﴾

۵۶۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

56۔ اللہ کی رحمت کے شامل حال ہونے کے لیے نماز، زکوٰۃ اور اطاعت رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شرط ہے۔یہاں تین رابطوں کا ذکر ہے۔ نماز سے اللہ کے ساتھ، زکوٰۃ سے لوگوں کے ساتھ اور اطاعت رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زمین پر اللہ کی حکومت کے ساتھ۔ ان تین رابطوں کے استوار ہونے کے بعد بندہ قابل رحمت بنتا ہے۔


لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ وَ لَبِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ﴿٪۵۷﴾

۵۷۔ آپ یہ خیال نہ کریں کہ کافر لوگ زمین میں ( ہمیں) عاجز بنا دیں گے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا جو بدترین ٹھکانا ہے۔

57۔ یہ رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لیے ایک خوش خبری ہے کہ کافر آپ کا راستہ نہیں روک سکیں گے بلکہ وہ نابود ہو کر جہنم رسید ہو جائیں گے۔