Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَوَجَدَا عَبۡدًا مِّنۡ عِبَادِنَاۤ اٰتَیۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَ عَلَّمۡنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا﴿۶۵﴾

۶۵۔ وہاں ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے (خضر) کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت عطا کی تھی اور اپنی طرف سے علم سکھایا تھا۔

65۔ جس عبد خدا سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تعلیم حاصل کرنا تھی، وہ اسلامی روایات کے مطابق حضرت خضر علیہ السلام ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معاصر نبی تھے۔ بعض روایات کے مطابق آپ ابھی تک زندہ ہیں۔

اٰتَیۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا :جسے اللہ نے اپنی رحمت سے نوازا ہے۔رحمت سے مراد قرآنی اصطلاح میں نبوت ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی نبوت کے بارے میں فرمایا: وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ ۔ (ہود : 28)


قَالَ لَہٗ مُوۡسٰی ہَلۡ اَتَّبِعُکَ عَلٰۤی اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴿۶۶﴾

۶۶۔ موسیٰ نے اس سے کہا :کیا میں آپ کے پیچھے چل سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ مفید علم سکھائیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے؟

66۔ تعلیم کے ذکر سے پہلے اتباع کا ذکر بتلاتا ہے کہ شاگرد کے لیے استاد کی اتباع اور پیروی کرنا بنیادی بات ہے اور ساتھ شاگردی کے آداب میں اتباع کو اولیت حاصل ہے۔ شاید اسی لیے اتباع کا ذکر پہلے اور تعلیم کا ذکر بعد میں آگیا۔


قَالَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا﴿۶۷﴾

۶۷۔ اس نے جواب دیا، آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔


وَ کَیۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰی مَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ خُبۡرًا﴿۶۸﴾

۶۸۔ اور اس بات پر بھلا آپ کیسے صبر کر سکتے ہیں جو آپ کے احاطہ علم میں نہیں ہے؟

68۔ انجام کا علم نہ ہو تو صبر نہیں آتا۔ لہٰذا صبر کا علم سے گہرا ربط ہے۔ اگر شفا کے حصول کا علم نہ ہو تو معالجے کی تلخی قابل تحمل نہیں ہوتی۔ حدیث میں آیا ہے: وَ مَنْ عَرَفَ قَدْرَ الصَّبْرِ لَا یَصْبِرُ عَمَّا مِنْہُ الصَّبْرُ ۔ (مستدرک الوسائل 2: 427) اگر صبر کی قدر و قیمت کا علم ہو جائے تو جس سے صبر کرنا ہوتا ہے، اس پر صبر نہ کرنے پر صبر نہ آتا۔


قَالَ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعۡصِیۡ لَکَ اَمۡرًا﴿۶۹﴾

۶۹۔ موسیٰ نے کہا: ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

69۔ یہ ایک عزم و ارادے کا اظہار ہے اور حالات کا سامنا کرنے سے پہلے یہ اظہار اپنی جگہ سچا ہے۔ یہ عہد و پیمان حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس اعتبار سے دیا ہے کہ اللہ کے حکم سے جس استاد سے علم حاصل کرنا ہے، وہ یقینا خلاف شرع کا ارتکاب نہیں کرے گا۔ بعد میں جب خلاف ورزی سرزد ہوئی، اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے عہد کی خلاف ورزی تصور نہیں کرتے تھے، جبکہ وہ حضرت خضر علیہ السلام کی خلاف ورزی پر برہم تھے۔ بادی الرائے میں اس برہمی کو خلاف ورزی تصور نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت خضر علیہ السلام کی طرف سے توجہ دلانے پر انہوں نے معذرت کی۔


قَالَ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِیۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِیۡ عَنۡ شَیۡءٍ حَتّٰۤی اُحۡدِثَ لَکَ مِنۡہُ ذِکۡرًا﴿٪۷۰﴾

۷۰۔ اس نے کہا: اگر آپ میرے پیچھے چلنا چاہتے ہیں تو آپ اس وقت تک کوئی بات مجھ سے نہیں پوچھیں گے جب تک میں خود اس کے بارے میں آپ سے ذکر نہ کروں۔

70۔ یعنی کوئی بھی حادثہ یا مسئلہ پیش آتا ہے تو اس کے انجام کا انتظار کرنا ہو گا۔ اگر اس حادثہ اور مسئلہ کی کوئی توجیہ آپ کی سمجھ میں نہ آئے تو لب اعتراض نہ کھولنا۔


فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیۡنَۃِ خَرَقَہَا ؕ قَالَ اَخَرَقۡتَہَا لِتُغۡرِقَ اَہۡلَہَا ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا اِمۡرًا﴿۷۱﴾

۷۱۔ چنانچہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو اس نے کشتی میں شگاف ڈال دیا، موسیٰ نے کہا: کیا آپ نے اس میں شگاف اس لیے ڈالا ہے کہ سب کشتی والوں کو غرق کر دیں؟ یہ آپ نے بڑا ہی نامناسب اقدام کیا ہے

71۔ اس سلسلہ تعلیم کا پہلا سبق شروع ہوتا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام سے ایسا عمل سرزد ہوتا ہے جو عقل و ضمیر کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اس واقعے کی ظاہری صورت یہ ہے کہ یہ کشتی چند مسکینوں کا واحد ذریعۂ معاش تھی اور وہ بھی حادثے کی نذر ہو گئی۔ ظاہر بین نگاہوں کے لیے یہ ناقابل فہم ہے کہ ان مسکینوں کا ذریعۂ معاش بھی چھن جائے، جبکہ اس واقعہ کا باطنی پہلو یہ ہے کہ اس حادثے کی وجہ سے ان کا ذریعہ معاش بچ جاتا ہے۔


قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا﴿۷۲﴾

۷۲۔اس نے کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے؟


قَالَ لَا تُؤَاخِذۡنِیۡ بِمَا نَسِیۡتُ وَ لَا تُرۡہِقۡنِیۡ مِنۡ اَمۡرِیۡ عُسۡرًا﴿۷۳﴾

۷۳۔موسیٰ نے کہا: مجھ سے جو بھول ہوئی ہے اس پر آپ میرا مؤاخذہ نہ کریں اور میرے اس معاملے میں مجھے سختی میں نہ ڈالیں۔

73۔ یہاں بھول بقول بعض مفسرین ترک کے معنوں میں ہے۔ یعنی میں نے جو عہد آپ کے ساتھ کیا تھا اس پر عمل کرنا ترک ہوا، اس پر معذرت چاہتا ہوں۔ یہ نامناسب اور غیر ضروری عمل سرزد ہوتے دیکھ کر بادی النظر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ردعمل ظاہر ہونا اور برہم ہونا فطری ہے۔


فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ ۙ قَالَ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَکِیَّۃًۢ بِغَیۡرِ نَفۡسٍ ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا نُّـکۡرًا﴿۷۴﴾

۷۴۔پھر روانہ ہوئے یہاں تک کہ وہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو اس نے لڑکے کو قتل کر دیا، موسیٰ نے کہا : کیا آپ نے ایک بے گناہ کو بغیر قصاص کے مار ڈالا؟ یہ تو آپ نے واقعی برا کام کیا۔

74۔ اس سلسلہ تعلیم کا دوسرا درس شروع ہوا۔ اس مرتبہ پہلے سے زیادہ قابل سرزنش اور ناقابل تحمل جرم سرزد ہوتے ہوئے دیکھا۔ ایک بیگناہ پاکیزہ جان کا قتل۔ اس مرتبہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام صبر نہ کر سکے۔ ان کا وجدان، ضمیر اور جذبہ اس عہد پر غالب آ گیا جو حضرت خضر علیہ السلام سے کر رکھا تھا۔

اس واقعہ کا ظاہری پہلو یہ ہے کہ والدین کا اکلوتا بیٹا مارا جائے، جبکہ باطنی پہلو والدین کے حق میں ہے۔