Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اِذۡ جَآءَتۡہُمُ الرُّسُلُ مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِکَۃً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ﴿۱۴﴾

۱۴۔ جب ان کے پاس پیغمبر آگئے تھے ان کے سامنے اور پیچھے سے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو وہ کہنے لگے: اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے نازل کرتا پس جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اسے نہیں مانتے۔

14۔ عاد و ثمود کی طرف رسول آئے۔ ان کے سامنے اور پیچھے سے۔ یعنی ایک رسول کے بعد دوسرے رسول آئے۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں: رسولوں نے ہر پہلو سے پیغام پہنچایا۔ کسی پہلو کو تشنہ نہیں رکھا۔ مشرکین رسولوں کے منکر تھے ان کا یہ مؤقف تھا کہ اللہ نے کسی بشر کو رسول نہیں بنایا، نہ ہی بشر اس قابل ہے کہ وہ اللہ کی نمائندگی کرے۔ یہ کام اللہ فرشتوں سے لے سکتا تھا۔ چونکہ کوئی فرشتہ رسول بن کر نہیں آیا، اس لیے اللہ نے کسی رسول کو مبعوث نہیں کیا۔


فَاَمَّا عَادٌ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ قَالُوۡا مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ؕ اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَہُمۡ ہُوَ اَشَدُّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً ؕ وَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ﴿۱۵﴾

۱۵۔ مگر عاد نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہا: ہم سے بڑھ کر طاقتور کون ہے ؟ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ جس اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ طاقتور ہے؟ (اس طرح) وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔


فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا صَرۡصَرًا فِیۡۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیۡقَہُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡیِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَخۡزٰی وَ ہُمۡ لَا یُنۡصَرُوۡنَ﴿۱۶﴾

۱۶۔ تو ہم نے منحوس ایام میں ان پر طوفانی ہوا چلا دی تاکہ ہم دنیاوی زندگی ہی میں انہیں رسوائی کا عذاب چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو زیادہ رسوا کن ہے اور ان کی مدد بھی نہیں کی جائے گی۔

16۔ وہ دن منحوس نہیں تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ دن سب کے لیے منحوس ہو جاتے، بلکہ ان دنوں میں عذاب آنے کی وجہ سے یہ دن قوم عاد کے لیے منحوس ہو گئے۔


وَ اَمَّا ثَمُوۡدُ فَہَدَیۡنٰہُمۡ فَاسۡتَحَبُّوا الۡعَمٰی عَلَی الۡہُدٰی فَاَخَذَتۡہُمۡ صٰعِقَۃُ الۡعَذَابِ الۡہُوۡنِ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿ۚ۱۷﴾

۱۷۔ اور (ادھر) ثمود کو تو ہم نے راہ راست دکھا دی تھی مگر انہوں نے ہدایت کی جگہ اندھا رہنے کو پسند کیا تو انہیں ان کے اعمال کے سبب ذلت آمیز عذاب کی بجلی نے گرفت میں لے لیا۔


وَ نَجَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ﴿٪۱۸﴾

۱۸۔ اور ہم نے انہیں بچا لیا جو ایمان لے آتے تھے اور تقویٰ اختیار کرتے تھے۔


وَ یَوۡمَ یُحۡشَرُ اَعۡدَآءُ اللّٰہِ اِلَی النَّارِ فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ﴿۱۹﴾

۱۹۔ اور جس دن اللہ کے دشمن جہنم کی طرف چلائے جائیں گے تو انہیں روک لیا جائے گا۔


حَتّٰۤی اِذَا مَا جَآءُوۡہَا شَہِدَ عَلَیۡہِمۡ سَمۡعُہُمۡ وَ اَبۡصَارُہُمۡ وَ جُلُوۡدُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ﴿۲۰﴾

۲۰۔ یہاں تک کہ جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف گواہی دیں گی کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔

20۔ جس جسم کے ساتھ دنیا میں جرم کیا ہے اسی جسم کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ وہی سیل (cell) اکٹھے کر دیے جائیں گے، جن سے دنیا میں اس کا جسم مرکب تھا۔ اگرچہ دنیا میں انسان کا جسم بدلتا رہتا ہے، تاہم اللہ کے لیے یہ کام دشوار نہیں کہ جس جسم کے ساتھ جرم سرزد ہوا ہے، وہی جسم حاضر کیا جائے۔ کوئی جرم جوانی میں سرزد ہوا ہے تو اس جسم سے، بڑھاپے میں سرزد ہوا ہے تو اس جسم سے گواہی لی جائے، چونکہ اس کی ہر حرکت اس کے جسم کے ہر سیل (cell) کے کوڈ میں ملفوف ہو گی۔


وَ قَالُوۡا لِجُلُوۡدِہِمۡ لِمَ شَہِدۡتُّمۡ عَلَیۡنَا ؕ قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ خَلَقَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ﴿۲۱﴾

۲۱۔ تو وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے: تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ وہ جواب دیں گی: اسی اللہ نے ہمیں گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویائی دی اور اسی نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا اور تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے۔

21۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن ہر وہ چیز بول اٹھے گی جس سے انسانی عمل کا ربط ہے نیز یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ہر چیز اپنی جگہ شعور رکھتی ہے، خواہ دنیا میں ہم ان کے شعور کا شعور نہیں رکھتے۔ یَوۡمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخۡبَارَہَا (زلزال:4) اس دن زمین اپنی سرگزشت سنا دے گی۔


وَ مَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ یَّشۡہَدَ عَلَیۡکُمۡ سَمۡعُکُمۡ وَ لَاۤ اَبۡصَارُکُمۡ وَ لَا جُلُوۡدُکُمۡ وَ لٰکِنۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعۡلَمُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ﴿۲۲﴾

۲۲۔ اور تم (گناہ کے وقت) اپنے کان کی گواہی سے اپنے آپ کو چھپا نہیں سکتے تھے اور نہ اپنی آنکھوں اور نہ اپنی کھالوں کی (گواہی سے) بلکہ تمہارا گمان یہ تھا کہ اللہ کو تمہارے بہت سے اعمال کی خبر نہیں ہے۔

22۔ یہ غافل انسان اس بات کی طرف متوجہ نہیں کہ اس کی ہر حرکت ہر سو اور ہر جانب سے زیر نظر ہے۔ اول تو خود اللہ تعالیٰ براہ راست اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہے، اس کے ہر عمل کی نگرانی کر رہا ہے۔ پھر زمین کی نظر بھی اس کی ہر حرکت پر جمی ہوئی ہے۔ قیامت کے دن زمین بھی گواہی دے گی، اس کے علاوہ دوسرے گواہان بھی۔


وَ ذٰلِکُمۡ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمۡ اَرۡدٰىکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ﴿۲۳﴾

۲۳۔ اور یہ تمہارا گمان تھا، جو گمان تم اپنے رب کے بارے میں رکھتے تھے اسی نے تمہیں ہلاک کر دیا اور تم خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گئے۔

23۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: مومن کو چاہیے کہ اس طرح اللہ کا خوف رکھے گویا کہ وہ آتش کے دھانے پر ہے اور اس طرح امید رکھے کہ گویا وہ اہل جنت میں سے ہے، پھر آیہ ذٰلِکُمۡ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمۡ کی تلاوت فرمائی اور فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَ جَلَّ عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِہِ اِنْ خَیْراً فَخَیْراً وَ اِنْ شَرّاً فَشَرّاً ۔ یعنی اللہ اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہے، اچھا گمان ہو تو اچھا برتاؤ ہو گا اور برا گمان ہو تو برا برتاؤ۔ (الکافی 8: 302۔ مجمع البیان)