Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیۡثَاقَہُمۡ وَ مِنۡکَ وَ مِنۡ نُّوۡحٍ وَّ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ۪ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ۙ﴿۷﴾

۷۔اور (یاد کرو) جب ہم نے انبیاء سے عہد لیا اور آپ سے بھی اور نوح سے بھی اور ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے بھی اور ان سب سے ہم نے پختہ عہد لیا۔

7۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے بالعموم اور اولوالعزم انبیاء سے بالخصوص ایک پختہ عہد لیا ہے۔ اس عہد سے کون سا عہد مراد ہے۔ اس آیت میں اس کی وضاحت نہیں ہے، تاہم یہ معلوم ہے کہ یہ عہد انبیاء علیہم السلام کی رسالت سے متعلق ہے۔ عہد و میثاق لے کر چھوڑا نہیں جاتا، بلکہ اس عہد کو پورا کر کے اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے والوں سے سوال ہو گا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: وَ لَنَسۡـَٔلَنَّ الۡمُرۡسَلِیۡنَ


لِّیَسۡـَٔلَ الصّٰدِقِیۡنَ عَنۡ صِدۡقِہِمۡ ۚ وَ اَعَدَّ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا اَلِیۡمًا ٪﴿۸﴾

۸۔ تاکہ سچ کہنے والوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور کفار کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

9۔ اس آیت اور اس کے بعد کی چند آیات میں جنگ خندق اور غزوہ بنی قریظہ کے واقعات کی طرف اشارہ ہے، جس لشکر نے مدینہ پر چڑھائی کی تھی وہ قریش قبیلہ غطفان اور یہود کا لشکر تھا۔ اس لشکر نے مدینہ کو محاصرے میں لیے لیا۔ محاصرے کو تقریباً ایک مہینہ ہوا تھا، سرد ترین موسم میں ایک سرد ترین آندھی چلی جس سے دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے اور نظر نہ آنے والے لشکر سے مراد فرشتے ہی ہو سکتے ہیں۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ جَآءَتۡکُمۡ جُنُوۡدٌ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ۚ﴿۹﴾

۹۔ اے ایمان والو! اللہ کی وہ نعمت یاد کرو جو اس نے تم پر کی جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور تمہیں نظر نہ آنے والے لشکر بھیجے اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے خوب دیکھ رہا تھا۔


اِذۡ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ وَ مِنۡ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ وَ اِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَ بَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا﴿۱۰﴾

۱۰۔ جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور (مارے دہشت کے) دل (کلیجے) منہ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔

10۔ اوپر سے یعنی مدینے کی مشرقی جانب سے آنے والے بنی قریظہ کے یہود تھے اور نیچے سے یعنی مغرب کی جانب سے آنے والے قریش اور ان کے ہم نوا تھے۔ اس وقت منافقین اور کمزور ایمان والے کہنے لگے: اب اسلام مٹ جائے گا۔ کفار کی طرف سے 15 ہزار افراد پر مشتمل لشکر نے مدینے پر حملہ کر دیا اور مدینے کا محاصرہ ہوا۔ لشکر اسلام نے سلمان فارسیؓ کے مشورے سے خندق کھود لی۔ عمرو بن عبدود نے خندق پھلانگ کر مبارزہ طلبی کی۔ علی بن ابی طالب علیہ السلام کے علاوہ کوئی مقابلہ کے لیے تیار نہ ہوا۔ علی علیہ السلام نے ایک وار میں عمرو کو قتل کیا تو لشکر کفر فرار ہو گیا۔


ہُنَالِکَ ابۡتُلِیَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ زُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِیۡدًا﴿۱۱﴾

۱۱۔ اس وقت مومنین خوب آزمائے گئے اور انہیں پوری شدت سے ہلا کر رکھ دیا گیا۔


وَ اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا﴿۱۲﴾

۱۲۔ اور جب منافقین اور دلوں میں بیماری رکھنے والے کہ رہے تھے: اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھا۔

12۔ یعنی یہ وعدہ صرف فریب ہے کہ مسلمانوں کو اللہ کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی۔ اس بات کے کہنے میں منافقین کے ساتھ کچھ ضعیف الایمان لوگ بھی شامل تھے۔ لہٰذا اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ قرآن کی تصریح کے مطابق رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہم عصروں میں تین گروہ تھے: پختہ ایمان والے، کمزور ایمان والے اور منافقین۔ چنانچہ ان تینوں کا ان آیات میں صراحت کے ساتھ ذکر ملتا ہے۔


وَ اِذۡ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ یٰۤاَہۡلَ یَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمۡ فَارۡجِعُوۡا ۚ وَ یَسۡتَاۡذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوۡرَۃٌ ؕۛ وَ مَا ہِیَ بِعَوۡرَۃٍ ۚۛ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾

۱۳۔ اور جب ان میں سے ایک گروہ کہنے لگا: اے یثرب والو! تمہارے لیے یہاں ٹھہرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے پس لوٹ جاؤ اور ان میں سے ایک گروہ نبی سے اجازت طلب کر رہا تھا یہ کہتے ہوئے: ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے، وہ صرف بھاگنا چاہتے تھے۔

13۔ ان منافقین اور کمزور ایمان والوں کا یہ کہنا تھا کہ اب یثرب یعنی مدینے میں اسلام کے دامن میں ٹھہرنے کا موقع نہیں رہا۔ فَارۡجِعُوۡا اپنی پرانی جاہلیت کی طرف واپس جانا چاہیے۔ محاذ چھوڑ کر جانے کو ارجعوا واپس جاؤ، نہیں کہتے بلکہ فرار کہتے ہیں۔ فرار کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ اپنے گھروں کی حفاظت کا بہانہ بنا کر جنگ میں شرکت سے اجتناب کرنا چاہتے تھے۔


وَ لَوۡ دُخِلَتۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَقۡطَارِہَا ثُمَّ سُئِلُوا الۡفِتۡنَۃَ لَاٰتَوۡہَا وَ مَا تَلَبَّثُوۡا بِہَاۤ اِلَّا یَسِیۡرًا﴿۱۴﴾

۱۴۔ اور اگر (دشمن) ان پر شہر کے اطراف سے گھس آتے پھر انہیں اس فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو وہ اس میں پڑ جاتے اور اس میں صرف تھوڑا ہی توقف کرتے۔

14۔ جبکہ اگر دشمن انہیں مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی دعوت دیتے تو وہ اس دعوت پر لبیک کہنے میں تاخیر نہ کرتے۔


وَ لَقَدۡ کَانُوۡا عَاہَدُوا اللّٰہَ مِنۡ قَبۡلُ لَا یُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ ؕ وَ کَانَ عَہۡدُ اللّٰہِ مَسۡـُٔوۡلًا﴿۱۵﴾

۱۵۔ حالانکہ پہلے یہ لوگ اللہ سے عہد کر چکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھیریں گے اور اللہ کے ساتھ ہونے والے عہد کے بارے میں بازپرس ہو گی۔

15۔ یعنی جنگ احد میں فرار کے بعد عہد لیا گیا تھا کہ آئندہ فرار نہیں ہوں گے۔ لیکن ان لوگوں نے بدعہدی کی۔ واضح رہے جنگ احد میں منافقین نے شرکت نہیں کی تھی، فرار ہونے والے لوگ ضعیف الایمان تھے۔


قُلۡ لَّنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا﴿۱۶﴾

۱۶۔ کہدیجئے: اگر تم لوگ موت یا قتل سے فرار چاہتے ہو تو یہ فرار تمہیں فائدہ نہ دے گا اور (زندگی کی) لذت کم ہی حاصل کر سکو گے۔