Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اَلَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿ۚ۱۶﴾

۱۶۔یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں: ہمارے رب! بلاشبہ ہم ایمان لائے، پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آتش جہنم سے بچا۔


اَلصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡمُنۡفِقِیۡنَ وَ الۡمُسۡتَغۡفِرِیۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴿۱۷﴾

۱۷۔ یہ لوگ صبر کرنے والے، راست باز، مشغول عبادت رہنے والے، خرچ کرنے والے اور سحر (کے اوقات) میں طلب مغفرت کرنے والے ہیں۔

17۔ اہلِ تقویٰ کی پانچ خصلتیں بیان فرمائی ہیں: صبر، سچائی، عبادت، انفاق اور سحر خیزی یعنی رات کے آخری حصّے میں استغفار۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: جو شخص اپنی وتر کی نماز میں حالت قیام میں ستر مرتبہ استغفر اللّہ و اتوب الیہ ایک سال تک لگاتار پڑھتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سحر کے وقت طلب استغفار کرنے والوں میں شمار فرمائے گا اور اس کے لیے مغفرت واجب ہو جائے گی (المیزان 3: 119)


شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا الۡعِلۡمِ قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿ؕ۱۸﴾

۱۸۔اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں اور اہل علم نے بھی یہی شہادت دی،وہ عدل قائم کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔

18۔ یہاں توحید و عدل پر تین شہادتوں کا ذکر ہے۔ اوّل خود اللہ شہادت دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عدل قائم کرنے والا ہے۔ چنانچہ اس کی کتابِ آفاق و انفس کا ہر صفحہ اور ہر سطر اس کی وحدانیت اور اس کے عدل و انصاف پر دلالت کرتی ہے اور ذرے سے لے کر کہکشاؤں تک نظام کی وحدت، خالق کی وحدت کی دلیل ہے۔ یا من دل علی ذاتہ بذاتہ آفتاب آمد دلیلِ آفتاب ۔ دوم فرشتوں کی شہادت۔ چونکہ فرشتے نظام کائنات کے کارندے ہیں اس لیے اللہ کی وحدانیت اور اس کے عدل و انصاف کا علم رکھتے ہیں اور شہادت کا حق صرف انہیں حاصل ہوتا ہے جو علم رکھتے ہوں۔ سوم صاحبان علم جو صحیفۂ آفاق و انفس کا بغور مطالعہ کرتے ہیں اور کہ اٹھتے ہیں: رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۔(آل عمران ۱۹۱)


اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ وَ مَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ﴿۱۹﴾

۱۹۔ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اور جنہیں کتاب دی گئی انہوں نے علم حاصل ہو جانے کے بعد آپس کی زیادتی کی وجہ سے اختلاف کیا اور جو اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتا ہے تو بے شک اللہ (اس سے)جلد حساب لینے والا ہے۔

19۔ الف: مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے: لانسبن الاسلام نسبۃ لم ینسبھا احد قبلی۔ الاسلام ھو التسلیم، و التسلیم ھو الیقین، و الیقین ھو التصدیق، و التصدیق ھو الاقرار، و الاقرار ھو الاداء، و الاداء ھو العمل (نہج البلاغہ) ”میں اسلام کی ایسی تعریف کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی: اسلام تسلیم سے عبارت ہے اور تسلیم یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف ہے اور اعتراف فرض کی ادائیگی سے ہوتا ہے اور فرض کی ادائیگی عمل ہے۔ “

ب: ہر زمانے میں انسان کو نجات کا راستہ دکھانے والا ایک ہی دین اللہ کی طرف سے آتا رہا ہے جو دین اسلام ہے۔ اس دین واحد میں اہلِ کتاب نے اختلاف ڈال دیا۔ اس کی وجہ ان کی لا علمی نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ دین الہٰی میں اختلاف کی گنجائش نہیں بلکہ اس کی وجہ ان کی بے حد جاہ پرستی تھی۔

ج: ادیان عالم کے ماہرین جانتے ہیں کہ 325ء میں قسطنطنیہ کے بادشاہ نے مسیحی مذہب کے توحید پرستوں پر کفر و الحاد کا فتوی لگایا، ان کی کتابوں کو نذر آتش کیا، جب تثلیث پر مبنی مذہب کی جڑیں مضبوط بنا دی گئیں تو 628ء میں ایک قانون کے ذریعہ ان توحید پرستوں کی نسل کشی کی گئی۔ (مراغی: 3:120)


فَاِنۡ حَآجُّوۡکَ فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡہِیَ لِلّٰہِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ ؕ وَ قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ الۡاُمِّیّٖنَ ءَاَسۡلَمۡتُمۡ ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴿٪۲۰﴾

۲۰۔(اے رسول) اگر یہ لوگ آپ سے جھگڑا کریں تو ان سے کہدیجئے: میں نے اور میری اتباع کرنے والوں نے تو اللہ کے آگے سر تسلیم خم کیا ہے اور پھر اہل کتاب اور ناخواندہ لوگوں سے پوچھیے: کیا تم نے بھی تسلیم کیا ہے؟ اگر یہ لوگ تسلیم کر لیں تو ہدایت یافتہ ہو جائیں اور اگر منہ موڑ لیں تو آپ کی ذمے داری تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر خوب نظر رکھنے والا ہے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّ یَقۡتُلُوۡنَ الَّذِیۡنَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡقِسۡطِ مِنَ النَّاسِ ۙ فَبَشِّرۡہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ﴿۲۱﴾

۲۱۔ جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے انصاف کا حکم دینے والوں کو بھی قتل کرتے ہیں انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں۔


اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۫ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ﴿۲۲﴾

۲۲۔ ایسے لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہو گئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔


اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُدۡعَوۡنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ وَ ہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴿۲۳﴾

۲۳۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ہے انہیں کتاب خدا کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کج ادائی کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے۔

23۔ خیبر کے یہودیوں میں زنا اور اس کی تعزیرات کا ایک مسئلہ پیش آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف رجوع کیا۔ حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے توریت کے حوالے سے شوہر دار عورت کے ساتھ زنا کرنے کی تعزیر کے طور پر سنگساری کا حکم دیا، لیکن یہودیوں نے اس بات کے ثبوت کے باوجود کہ یہ فیصلہ توریت کے مطابق ہے اسے ماننے سے انکار کر دیا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جن کو کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ہے، سے مراد اہل کتاب و نصاریٰ ہیں۔ اس سے دو باتیں واضح ہو جاتی ہیں۔ اول یہ کہ اہل کتاب کے پاس موجود توریت و انجیل میں سے کچھ حصہ اللہ کا کلام ہے پوری نہیں، دوم یہ کہ جن آیات میں اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ کہا گیا ہے ان میں کتاب سے مراد کتاب کا ایک حصہ ہے۔


ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ۪ وَ غَرَّہُمۡ فِیۡ دِیۡنِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ﴿۲۴﴾

۲۴۔ ان کا یہ رویہ اس لیے ہے کہ وہ کہتے ہیں: جہنم کی آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو نہیں سکتی اور جو کچھ یہ بہتان تراشی کرتے رہے ہیں اس نے انہیں اپنے دین کے بارے میں دھوکے میں رکھا ہے۔

24۔ ان سیاہ کاریوں کا اصل سرچشمہ ان کے باطل نظریات ہیں جن کے تحت وہ انسانیت سوز مظالم و جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہماری معاصر تاریخ بھی ان یہودیوں کے لرزا دینے والے جرائم و مظالم سے پر ہے۔ ان باطل نظریات میں سے کچھ یہ ہیں کہ یہودی کو جہنم کی آگ گنتی کے چند ایام کے سوا چھو نہیں سکتی نیز اولاد یعقوب اللہ کی برگزیدہ مخلوق ہے اور یہ کہ اولاد یعقوب سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں کوئی عذاب وغیرہ نہیں دیا جائے گا۔


فَکَیۡفَ اِذَا جَمَعۡنٰہُمۡ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ۟ وَ وُفِّیَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ﴿۲۵﴾

۲۵۔پس اس دن ان کا کیا حال ہو گا جب ہم ان سب کو جمع کریں گے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔