Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ اِلٰی رَبِّہِمُ الۡوَسِیۡلَۃَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ وَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَہٗ وَ یَخَافُوۡنَ عَذَابَہٗ ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحۡذُوۡرًا﴿۵۷﴾

۵۷۔ جن (معبودوں) کو یہ پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب تک رسائی کے لیے وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ ان میں کون زیادہ قریب ہو جائے اور وہ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے خائف بھی، کیونکہ آپ کے رب کا عذاب یقینا ڈرنے کی چیز ہے۔

57۔ جن کو یہ مشرکین وسیلہ بنا کر پکارتے ہیں وہ خود قرب الہی حاصل کرنے کے لیے ایسا وسیلہ تلاش کرتے ہیں جو اللہ کے زیادہ قریب ہو۔ قرب الہی حاصل کرنے کے لیے وسیلہ تلاش کرنا درست ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون سا وسیلہ اقرب ہے۔ جہاں عبادت اور انفاق وسیلہ ہیں وہاں جن ذوات مقدسہ نے عبادت کی رہنمائی کی ہے وہ بھی وسیلہ ہیں۔ وسیلہ اقرب وہ ہے جس کی نشاندہی خود اللہ نے کی ہو۔


وَ اِنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ کَانَ ذٰلِکَ فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا﴿۵۸﴾

۵۸۔ اور کوئی بستی ایسی نہیں جسے ہم قیامت کے دن سے پہلے ہلاک نہ کریں یا سخت عذاب میں مبتلا نہ کریں، یہ بات کتاب (تقدیر) میں لکھی جا چکی ہے ۔

58۔ یعنی کوئی بستی ایسی نہ ہو گی جو اللہ کے عادلانہ قانون، قانون مکافات کی زد میں نہ آئے اور وہ ہلاکت یا عذاب شدید کی صورت میں وقوع پذیر ہو گا۔ ہلاکت کو عذاب کے مقابلے میں ذکر کرنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہلاکت سے مراد طبعی موت ہے۔ وہ ہلاکت نہیں ہے جو عذاب کی صورت میں آتی ہے۔ اس لیے بعض کی یہ رائے ہے کہ ہلاکت (طبعی موت) اچھی بستیوں کے لیے ہے اور عذاب بری بستیوں کے لیے۔ لیکن ہو سکتا ہے ہلاکت اور عذاب مکافت عمل کی دو صورتیں ہوں۔

فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا : اس عالم ہستی کو اللہ تعالیٰ نے جس قانون اور دستور پر قائم کر رکھا ہے اس دستور کو لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ ، کبھی کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ کہا ہے۔ یعنی اس کائنات میں جو کچھ رونما ہوتا ہے وہ اس قانون اور اس تقدیر کے مطابق ہوتا ہے جس پر اِس کائنات کا نظام قائم ہے، جو اللہ کے اس حتمی فیصلے سے عبارت ہے کہ ہر علت پر معلول کا ترتب ضروری ہے


وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرۡسِلَ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنۡ کَذَّبَ بِہَا الۡاَوَّلُوۡنَ ؕ وَ اٰتَیۡنَا ثَمُوۡدَ النَّاقَۃَ مُبۡصِرَۃً فَظَلَمُوۡا بِہَا ؕ وَ مَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّا تَخۡوِیۡفًا﴿۵۹﴾

۵۹۔ اور نشانیاں بھیجنے سے ہمارے لیے کوئی مانع نہیں ہے سوائے اس کے کہ اس سے پہلے کے لوگوں نے اسے جھٹلایا ہے اور (مثلاً) ثمود کو ہم نے اونٹنی کی کھلی نشانی دی تو انہوں نے اس کے ساتھ ظلم کیا اور ہم ڈرانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں۔

59۔ کفار کی طرف سے تجویز شدہ معجزہ اس وقت دکھایا جاتا ہے جب ان کو تباہ کرنا مقصود ہو۔ مکہ کے کفار کی طرف سے معجزہ کا مطالبہ درحقیقت اپنی تباہی کا مطالبہ تھا، جیسا کہ قوم ثمود کو معجزہ ناقہ دکھا کر تباہ کر دیا گیا، جبکہ مشیت الٰہی یہ رہی ہے کہ ان کو سمجھنے کی مہلت دی جائے۔


وَ اِذۡ قُلۡنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ؕ وَ مَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَۃَ الۡمَلۡعُوۡنَۃَ فِی الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ نُخَوِّفُہُمۡ ۙ فَمَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا طُغۡیَانًا کَبِیۡرًا﴿٪۶۰﴾

۶۰۔ اور (اے رسول وہ وقت یاد کریں) جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کے رب نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے اور وہ درخت جسے قرآن میں ملعون ٹھہرایا گیا ہے اسے ہم نے صرف لوگوں کی آزمائش قرار دیا اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ تو ان کی بڑی سرکشی میں اضافے کا سبب بنتا جاتا ہے۔

60۔ قرآن نے جن سلسلوں کو لعنت کا نشانہ بنایا ہے وہ تین ہیں: اہل کتاب، مشرکین اور منافقین۔ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خواب میں جس ملعون سلسلہ کو مسلمانوں کے لیے آزمائش قرار دیا گیا ہے، وہ اہل کتاب اور مشرکین نہیں ہو سکتے، کیونکہ یہ دونوں اسلام کے کھلے دشمن ہیں اور جن کی دشمنی کھلی ہوئی ہے وہ آزمائش نہیں ہوتے۔آزمائش وہ لوگ ہوتے ہیں جو حق کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں یعنی منافقین۔

چنانچہ احادیث میں متعدد طرق سے وارد ہوا ہے کہ رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خواب میں دیکھا کہ بندر آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منبر پر اچھل کود کر رہے ہیں، جس کے بعد آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہت کم ہنسے۔ چنانچہ حضرت سہل بن سعد، یعلی بن مرہ، سعید بن المسیب اور حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ شجرہ ملعونہ سے مراد بنی امیہ ہیں۔ (در منثور۔ تفسیر کبیر رازی۔ تفسیر قرطبی)

امامیہ طرق سے زرارہ، حمران، محمد بن مسلم، معروف بن خربوذ، جعفی، قاسم بن سلیمان، یونس بن عبد الرحمن اور عبد الرحیم قیصر نے ائمہ اہل بیت علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ شجرہ ملعونہ سے مراد بنی امیہ ہیں۔


وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ قَالَ ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِیۡنًا ﴿ۚ۶۱﴾

۶۱۔ اور (یاد کریں) جب ہم نے فرشتوں سے کہا:آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے کہا: کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے ؟


قَالَ اَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیۡ کَرَّمۡتَ عَلَیَّ ۫ لَئِنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَاَحۡتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلًا﴿۶۲﴾

۶۲۔ پھر کہا: مجھے بتاؤ! یہی ہے وہ جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے؟ اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دی تو قلیل تعداد کے سوا میں اس کی سب اولاد کی جڑیں ضرور کاٹ دوں گا۔


قَالَ اذۡہَبۡ فَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ فَاِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمۡ جَزَآءً مَّوۡفُوۡرًا﴿۶۳﴾

۶۳۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا : دور ہو جا! ان میں سے جو کوئی تیری پیروی کرے گا تو تم سب کے لیے جہنم کی سزا ہی یقینا مکمل سزا ہے۔


وَ اسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡہُمۡ بِصَوۡتِکَ وَ اَجۡلِبۡ عَلَیۡہِمۡ بِخَیۡلِکَ وَ رَجِلِکَ وَ شَارِکۡہُمۡ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ وَ عِدۡہُمۡ ؕ وَ مَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴿۶۴﴾

۶۴۔ اور ان میں سے تو جس جس کو اپنی آواز سے لغزش سے دوچار کر سکتا ہے کر اور اپنے سواروں اور پیادوں کے ساتھ ان پر چڑھائی کر دے اور ان کے اموال اور اولاد میں ان کا شریک بن جا اور انہیں (جھوٹے) وعدوں میں لگا رکھ اور شیطان سوائے دھوکے کے انہیں اور کوئی وعدہ نہیں دیتا۔

64۔ ایک جنگ ایک معرکہ جس میں ایک طرف شیطان اپنی سوار اور پیادہ فوج اور ساز و آواز کے ساتھ اولاد آدم پر حملہ آور ہے۔ اس حملے میں شیطان درج ذیل وسائل حرب بروئے کار لاتا ہے: 1۔ آواز: حق کے مقابلے میں، ہر اس آواز کے ذریعے جس سے انسانی عقل مغلوب ہو جاتی ہے، ہر اٹھنے والی آواز کو جاذب، پرکشش بنانا اور اس پر آج کے ذرائع ابلاغ شاہد ہیں کہ سمعی ذرائع سے شیاطین کس قدر گمراہ کن افکار پھلاتے ہیں۔ 2۔ طاقت کا استعمال: وہ اپنے کارندوں کے ذریعے لوگوں کے عقل و حواس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بالکل ایک گرم معرکہ کی طرح جس میں دشمن اپنے سوار اور پیدل فوج دونوں کو جھونک دیتا ہے۔ 3۔ اقتصادی حربے: اصولی طور پر انسان اپنے فائدے کے لیے مال کماتا ہے اور اولاد پالتا ہے، مگر جب انسان شیطان کے حملے کی زد میں آتا ہے تو اس سے شیطان زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ چنانچہ آج کے شیطانی معاشروں میں مال کا اکثر حصہ غیر انسانی امور پر خرچ ہوتا ہے۔

4۔ نفسیاتی حربے: دلفریب وعدوں کے ذریعے انسان کو فریب دینا شیاطین کا خطرناک ترین ہتھیار ہے۔ وہ انسان سے دولت مندی جاہ و ریاست اور بالا دستی کے پرکشش وعدے کرتے ہیں اور انسان سے احساس گناہ سلب کر کے گناہ کو ناچیز بنا کر پیش کرتے ہیں۔ کبھی گناہ کے بعد توبہ کا فریب دے کر گناہ کے ارتکاب پر، کبھی غلط توجیہات سے گناہ کا ارتکاب کرنے پر اکساتے ہیں۔


اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیۡلًا ﴿۶۵﴾

۶۵۔ میرے بندوں پر تیری کوئی بالادستی نہیں ہے اور آپ کا رب ہی ضمانت کے لیے کافی ہے۔

65۔ یعنی شیاطین کے حربوں کے مقابلے میں مومن کے پاس عبودیت و بندگی کا اسلحہ موجود ہوتا ہے۔ یعنی جس قدر انسان اللہ کے نزدیک ہوتا ہے شیطان سے دور ہوتا ہے۔ اللہ کے نزدیک ہونے کا راستہ اس کی بندگی ہے۔


رَبُّکُمُ الَّذِیۡ یُزۡجِیۡ لَکُمُ الۡفُلۡکَ فِی الۡبَحۡرِ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا﴿۶۶﴾

۶۶۔ تمہارا رب وہ ہے جو سمندر میں تمہارے لیے کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل (روزی) تلاش کرو، اللہ تم پر یقینا نہایت مہربان ہے۔