آیات 61 - 62
 

وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ قَالَ ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِیۡنًا ﴿ۚ۶۱﴾

۶۱۔ اور (یاد کریں) جب ہم نے فرشتوں سے کہا:آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے کہا: کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے ؟

قَالَ اَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیۡ کَرَّمۡتَ عَلَیَّ ۫ لَئِنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَاَحۡتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلًا﴿۶۲﴾

۶۲۔ پھر کہا: مجھے بتاؤ! یہی ہے وہ جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے؟ اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دی تو قلیل تعداد کے سوا میں اس کی سب اولاد کی جڑیں ضرور کاٹ دوں گا۔

تشریح کلمات

لَاَحۡتَنِکَنَّ:

( ح ن ک ) یہ حنکت الدابۃ سے مشتق ہو سکتا ہے جس کے معنی اس کے منہ میں لگام دینے یا رسی باندھنے کے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے۔ احتنک الجراد الارض سے مشتق ہو جس کے معنی ٹڈی کے زمین کی روئیدگی کو صفا چٹ کر دینے کے ہیں۔ پس آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ میں انہیں اس طرح تباہ کر دوں گا جیسے ٹڈی زمین پر سے نبات صفاچٹ کر دیتی ہے۔ (راغب)

مجمع البیان میں آیا ہے: الاحتناک الاقتطاع من الاصل ۔ یعنی احتناک جڑ سے کاٹنے کے معنوں میں ہے۔

تفسیر آیات

شجرہ ملعونہ کے ذکر کے بعد ابلیس کی سرکشی، تکبر اور بنی آدم کے ساتھ اس کے بغض و عناد کا ذکر ممکن ہے اس لیے ہو کہ اس شجرہ ملعونہ کا سرا ابلیس کی سرکشی سے ملتا ہے۔ جس طرح ابلیس کا وجود ایک آزمائش و امتحان ہے، اسی طرح شجرہ ملعونہ کے وجود کا فلسفہ بھی آزمائش ہے جس سے خالص ایمان والے نفاق والوں سے ممتاز ہو جاتے ہیں۔


آیات 61 - 62