Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

بَلِ اللّٰہَ فَاعۡبُدۡ وَ کُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ﴿۶۶﴾

۶۶۔ بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور شکر گزاروں میں سے ہو جاؤ۔


وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ٭ۖ وَ الۡاَرۡضُ جَمِیۡعًا قَبۡضَتُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ﴿۶۷﴾

۶۷۔ اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر شناسی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے اور قیامت کے دن پوری زمین اس کے قبضہ قدرت میں ہو گی اور آسمان اس کے دست قدرت میں لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں۔

67۔ اللہ کی ناقدری کا یہ عالم کہ کسی نے اللہ کی بیٹیاں بنا لیں، کسی نے اس کے لیے بیٹے اور بعض نے اللہ کے لیے ہاتھ، پاؤں، چہرہ اور اعضا و جوارح بنا لیے جو انسان کے لیے ہیں۔ تَعٰلٰی اللّٰہَ عَمَّا يَصِفُوْنَ ۔ اس ناقدری کی وجہ سے وہ آخرت اور یوم الحساب کے منکر ہیں، جس دن کل کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہو گی۔ دنیا میں کل کائنات اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے، لیکن قیامت کے دن اس کا بھرپور اظہار ہو گا۔


وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخۡرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ﴿۶۸﴾

۶۸۔ اور (جب) صور میں پھونک ماری جائے گی تو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب بیہوش ہو جائیں گے مگر جنہیں اللہ چاہے، پھر دوبارہ اس میں پھونک ماری جائے گی تو اتنے میں وہ سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔

68۔ اس آیت میں دو مرتبہ صور پھونکنے کا ذکر ہے۔ پہلے صور سے سب مر جائیں گے، صَعِقَ کے معنی تو بے ہوشی کے ہیں لیکن اس کی تفسیر موت سے کی جاتی ہے۔ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ مگر جنہیں اللہ چاہے، وہ نہیں مریں گے۔ اس سلسلے میں مفسرین کے متعدد اقوال نقل ہوئے ہیں۔ ممکن ہے کہ چند ذوات پہلے صور میں زندہ رہیں، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ مریں گی نہیں۔ دوسرے صور سے سب زندہ ہو جائیں گے۔

فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ کا دوسرا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے: اتنے میں وہ سب کھڑے ہو کر (حکم خدا ) کا انتظار کرنے لگیں گے۔


وَ اَشۡرَقَتِ الۡاَرۡضُ بِنُوۡرِ رَبِّہَا وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ وَ جِایۡٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ﴿۶۹﴾

۶۹۔ اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک جائے گی اور (اعمال کی) کتاب رکھ دی جائے گی اور پیغمبروں اور گواہوں کو حاضر کیا جائے گا اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

69۔ قیامت کے دن زمین نور پروردگار سے چمک اٹھے گی۔ بعض مفسرین اس سے مراد عدل و انصاف لیتے ہیں۔ لیکن علامہ طباطبائی کے نزدیک اس سے مراد پردوں کا ہٹنا اور حقائق کا عیاں ہونا ہے۔

سورئہ بقرہ آیت 143 کے حاشیے میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: ولا یکون الشھداء علی الناس الا الائمۃ و الرسل ۔ (بحار الانوار 23: 351) لوگوں پر گواہ صرف ائمہ اور انبیاء مرسل ہو سکتے ہیں۔ اللہ کی بارگاہ میں قیامت کے دن قائم ہونے والی عدالت گاہ کا ذکر ہے، جس میں رب العالمین خود ہر چیز سے آگاہ ہونے کے باوجود گواہ طلب کرے گا اور گواہی کے مطابق فیصلہ ہو گا۔ وہاں انسان کو صرف اس کا عمل کام دے گا اور گواہ بھی عقائد کی روشنی میں انجام پانے والے عمل ہی کی گواہی دیں گے۔ واضح رہے کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے نزدیک جیسا کہ منکر کے کردار کی کوئی قدر نہ ہو گی، ان عقائد کی بھی کوئی قدر نہ ہو گی جن کا کردار پر کوئی اثر نہ ہو۔ اگلی آیتوں میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ کی عدالت سے فارغ ہونے کے بعد گروہ در گروہ اہل جہنم، جہنم کی طرف اور اہل جنت، جنت کی طرف چلائے جائیں گے۔


وَ وُفِّیَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَا یَفۡعَلُوۡنَ﴿٪۷۰﴾

۷۰۔ اور ہر شخص نے جو عمل کیا ہے اسے اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور اللہ ان کے اعمال سے خوب واقف ہے۔


وَ سِیۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا فُتِحَتۡ اَبۡوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَتۡلُوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ رَبِّکُمۡ وَ یُنۡذِرُوۡنَکُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَ لٰکِنۡ حَقَّتۡ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ﴿۷۱﴾

۷۱۔ اور کفار گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور جہنم کے کارندے ان سے کہیں گے: کیا تمہارے پاس تم میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے، جو تمہارے رب کی آیات تمہیں سناتے اور اس دن کے پیش آنے کے بارے میں تمہیں متنبہ کرتے؟ وہ کہیں گے: ہاں (کیوں نہیں!) لیکن (اب) کفار کے حق میں عذاب کا فیصلہ حتمی ہو چکا ہے۔


قِیۡلَ ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ﴿۷۲﴾

۷۲۔ کہا جائے گا: جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جس میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، پس تکبر کرنے والوں کا کتنا برا ٹھکانا ہے۔


وَ سِیۡقَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ اِلَی الۡجَنَّۃِ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا وَ فُتِحَتۡ اَبۡوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمۡ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ طِبۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ﴿۷۳﴾

۷۳۔اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ہیں انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف چلایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور جنت کے منتظمین ان سے کہیں گے: تم پر سلام ہو۔ تم بہت خوب رہے، اب ہمیشہ کے لیے اس میں داخل ہو جاؤ۔


وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ صَدَقَنَا وَعۡدَہٗ وَ اَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡجَنَّۃِ حَیۡثُ نَشَآءُ ۚ فَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِیۡنَ﴿۷۴﴾

۷۴۔ اور وہ کہیں گے: ثنائے کامل ہے اس اللہ کے لیے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہمیں اس سرزمین کا وارث بنایا کہ جنت میں ہم جہاں چاہیں جگہ بنا سکیں، پس عمل کرنے والوں کا اجر کتنا اچھا ہے۔

74۔ ارض سے مراد ارض جنت ہے، یعنی حمد و ستائش اس ذات کے لیے ہے، جس نے ہمیں جنت کی سرزمین کا وارث بنایا کہ ہم جہاں چاہیں قیام کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں مومن کو ایک وسیع سلطنت مل جائے گی، جس میں مختلف مقامات ہوں گے، جہاں چاہے قیام کرے۔


وَ تَرَی الۡمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ ۚ وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ قِیۡلَ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ﴿٪۷۵﴾

۷۵۔ اور آپ فرشتوں کو عرش کے گرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی ثناء کے ساتھ تسبیح کرتے ہوئے دیکھیں گے اور لوگوں کے درمیان برحق فیصلہ ہو چکا ہو گا اور کہا جائے گا: ثنائے کامل اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔

75۔ جب آسمانوں کو لپیٹ لیا جائے گا تو اس وقت عرش الٰہی اور اس کے گرد موجود فرشتے نظر آئیں گے۔ عرش اس مقام ربوبیت کو کہتے ہیں جہاں سے تدبیر کائنات سے متعلق اوامر صادر ہوتے ہیں اور عرش کے گرد وہ فرشتے ہیں جو ان اوامر کو نافذ کرتے ہیں۔ اس طرح آیت کا ظاہری مفہوم یہ بنتا ہے کہ جب آسمانوں کو لپیٹ لیا جائے گا تو اس وقت اوامر الٰہی اور اس کے نافذ کرنے والے ہی نظر آئیں گے۔

وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ : اس وقت جن کے درمیان فیصلہ کرنا تھا ان میں فیصلہ بھی ہو چکا ہو گا۔ قُضِيَ کو ماضی کے معنوں میں لینا مناسب ہے۔