Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ قَلۡبِہٖ وَ اَنَّہٗۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ﴿۲۴﴾

۲۴۔ اے ایمان والو! اللہ اور رسول کو لبیک کہو جب وہ تمہیں حیات آفرین باتوں کی طرف بلائیں اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور یہ بھی کہ تم سب اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔

24۔ اسلامی تعلیمات دستور حیات ہی نہیں، بلکہ اس دستور میں، حیات بھی ہے اور ابدی حیات بھی۔ رسول اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کا ہر لفظ اور ہر حرف حیات ابدی کے لیے زندہ خلیوں کی مانند ہے، جس سے ایک زندہ و فعال ہستی وجود میں آتی ہے۔


وَ اتَّقُوۡا فِتۡنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمۡ خَآصَّۃً ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ﴿۲۵﴾

۲۵۔ اور اس فتنے سے بچو جس کی لپیٹ میں تم میں سے صرف ظلم کرنے والے نہیں بلکہ (سب) آئیں گے اور یہ جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

25۔ کچھ فتنے ایسے ہوتے ہیں جن کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں اور ان کی لپیٹ میں بے گناہ افراد بھی آتے ہیں۔ مثلاً خیانت حکمران کرتے ہیں لیکن اس کی سزا اقتصادی، عسکری اور ثقافتی میدانوں میں پوری امت کو بھگتنا پڑتی ہے۔ تفرقہ بازی، تنگ نظر لوگ کرتے ہیں مگر اس کے منفی اثرات پوری قوم پر پڑتے ہیں۔


وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِیۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ تَخَافُوۡنَ اَنۡ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىکُمۡ وَ اَیَّدَکُمۡ بِنَصۡرِہٖ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ﴿۲۶﴾

۲۶۔اور (وہ وقت) یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، تمہیں زمین میں کمزور سمجھا جاتا تھا اور تمہیں خوف رہتا تھا کہ مبادا لوگ تمہیں ناپید کر دیں تو اس نے تمہیں پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہیں تقویت پہنچائی اور تمہیں پاکیزہ روزی عطا کی تاکہ تم شکر کرو۔

26۔ مسلمانوں کو مکی زندگی یاد دلائی جا رہی ہے کہ جہاں معدودے چند مسلمان ہمیشہ کفار کے خطرے میں گھرے ہوئے ہوتے تھے، اللہ نے ان کو مدینہ میں امن کی جگہ دے دی اور کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی مدد فرمائی اور جنگی غنیمت سے ان کو روزی عطا فرمائی۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ وَ تَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴿۲۷﴾

۲۷۔اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو اور اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو درحالیکہ تم جانتے ہو۔


وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ اَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ﴿٪۲۸﴾

۲۸۔اور جان لو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں اور بے شک اللہ ہی کے ہاں اجر عظیم ہے۔

28۔ مال و اولاد خود مقصد ہیں یا رضائے رب کا ذریعہ؟ اس کی مثال کشتی اور پانی کی سی ہے۔ پانی اگر کشتی کے نیچے رہے تو پار ہونے کا بہترین ذریعہ ہے اور اگر یہی پانی کشتی کے اندر آجائے تو غرق ہونے کا سبب بنتا ہے۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ فُرۡقَانًا وَّ یُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ﴿۲۹﴾

۲۹۔ اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو تو وہ تمہیں (حق و باطل میں) تمیز کرنے کی طاقت عطا کرے گا اور تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

29۔ اہل تقویٰ کا ضمیر شفاف، وجدان صاف، احساس زندہ اور عقل بیدار ہوتی ہے، اس لیے انہیں حق و باطل کی تمیز میں مشکل پیش نہیں آتی۔ حدیث میں آیا ہے: المومن ینظر بنور ﷲ ۔ (بحار الانوار 7: 323) مومن نور خدا کی روشنی میں دیکھتا ہے۔


وَ اِذۡ یَمۡکُرُ بِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِیُثۡبِتُوۡکَ اَوۡ یَقۡتُلُوۡکَ اَوۡ یُخۡرِجُوۡکَ ؕ وَ یَمۡکُرُوۡنَ وَ یَمۡکُرُ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ﴿۳۰﴾

۳۰۔ اور (وہ وقت یاد کریں) جب یہ کفار آپ کے خلاف تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں یا آپ کو قتل کر دیں یا آپ کو نکال دیں وہ اپنی چال سوچ رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔

30۔ یہ آیت تاریخ اسلام کے عظیم واقعے (ہجرت) کے بارے میں ہے جب مکہ کے سرداروں نے دار الندوہ میں جمع ہو کر رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قید کرنے یا جلا وطن یا شہید کرنے پر غور کیا۔ آخرکار ابوجہل کی اس تجویز پر اتفاق ہوا کہ تمام قبائل کی شرکت سے محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کیا جائے۔ ادھر جبرئیل امین نے رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا: آج رات آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے بستر پر نہ سوئیں بلکہ اپنی جگہ علی بن ابی طالب علیہ السلام کو سلائیں۔ علی علیہ السلام بستر رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سوئے اور رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہجرت فرما گئے۔ امام علی علیہ السلام نے جان نثاری و فداکاری کی ایک ابدی مثال قائم کی۔ چنانچہ خود حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: وقیت بنفسی خیر من وطئ الحصی ۔ روئے زمین پر چلنے والوں میں سے سب سے بہتر ہستی کی خاطر میں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ (بحار الانوار 19: 63۔ روح المعانی 9: 198)

اقول: فدتک نفسی یا خیر من وفی ۔


وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ ہٰذَاۤ ۙ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ﴿۳۱﴾

۳۱۔اور جب انہیں ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں: ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو ایسی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں، یہ تو وہی داستان ہائے پارینہ ہیں۔

31۔ صرف لوگوں کی توجہ قرآن سے ہٹانے اور اس معجزہ کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کہتے تھے ہم بھی ایسی عبارت اور ایسا مضمون بنا سکتے ہیں۔ اگر وہ اس پر قادر ہوتے تو ایسا ضرور کرتے اور ایک نہیں کئی ایک عبارتیں یکے بعد دیگرے ہر سو سے بن کر آ جاتیں اور قرآن کے خلاف جنگ کرنے اور جانی قربانیاں دینے کی نوبت نہ آتی۔


وَ اِذۡ قَالُوا اللّٰہُمَّ اِنۡ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِکَ فَاَمۡطِرۡ عَلَیۡنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ﴿۳۲﴾

۳۲۔ اور (یہ بھی یاد کرو) جب انہوں نے کہا: اے اللہ! اگر یہ بات تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی دردناک عذاب نازل کر ۔

32۔یہ ایک چیلنج تھا جو رسالتمآب صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کی حقانیت کے خلاف کیا گیا۔ یہ چیلنج کرنے والا کون تھا مفسرین میں اختلاف ہے۔ علامہ امینی نے الغدیر جلد اول صفحہ 239۔266 میں شیعہ و سنی متعدد مصادر سے ذکر کیا ہے کہ یہ چیلنج غدیر کے موقع پر کیا گیا اور چیلنج کرنے والا حارث بن نعمان فہری تھا، جب رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غدیر کے موقع پر فرمایا : من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ تو حارث فہری نے جو منافق تھا، کہا: آپ نے توحید کا حکم دیا ہم نے مان لیا، بتوں سے بیزاری کا حکم دیا ہم نے مان لیا، اپنی رسالت کی تصدیق کرنے کے لیے کہا ہم نے تصدیق کی، پھر جہاد، حج، روزہ، نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہم نے مان لیا۔ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان پر اکتفا نہ کیا اور اس لڑکے کو اپنا خلیفہ بنا دیا اور کہ دیا: من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ ۔ کیا آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اپنی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی طرف سے ہے۔ نعمان لوٹا اور کہا: اے اللہ اگر یہ بات حق ہے اور آپ کی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے۔ اتنے میں ایک پتھر آسمان سے اس پر گرا اور وہ مر گیا۔ آیۂ سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ (معارج:1) اسی سلسلے میں نازل ہوا۔

اس واقعہ کو ابو عبیدہ ھروی متوفی 223ھ نے اپنی تفسیر غریب القرآن میں، ابوبکر نقاش موصلی متوفی 351ھ نے اپنی تفسیر شفاء الصدور میں، ابو اسحاق بقلی متوفی 427ھ نے اپنی تفسیر میں، حاکم حسکانی نے دعاۃ الھداۃ میں، ابوبکر یحییٰ قرطبی متوفی 567ھ نے سورﮤ المعارج کی تفسیر میں، سبط ابن جوزی متوفی 654ھ نے تذکرہ میں، حموینی متوفی 722ھ نے فراید السمطین میں و دیگر 30 کے قریب علماء نے ذکر کیا ہے۔


وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ﴿۳۳﴾

۳۳۔اور اللہ ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا جب تک آپ ان کے درمیان موجود ہیں اور نہ ہی اللہ انہیں عذاب دینے والا ہے جب وہ استغفار کر رہے ہوں۔