Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ کِتٰبًا فِیۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡہُ بِاَیۡدِیۡہِمۡ لَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ﴿۷﴾

۷۔اور (اے رسول) اگر ہم کاغذ پر لکھی ہوئی کوئی کتاب (بھی) آپ پر نازل کرتے اور یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے اسے چھو بھی لیتے تب بھی کافر یہی کہتے کہ یہ ایک صریح جادو کے سوا کچھ نہیں۔


وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ مَلَکٌ ؕ وَ لَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا یُنۡظَرُوۡنَ﴿۸﴾

۸۔ اور کہتے ہیں: اس (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہیں کیا گیا اور اگر ہم نے فرشتہ نازل کر دیا ہوتا تو (اب تک) فیصلہ بھی ہو چکا ہوتا پھر انہیں(ذرا)مہلت نہ دی جاتی۔

8۔ مہلت کی وضاحت یہ ہے کہ جب تک ایمان بالغیب ہے اور تعقل و تفکر کے ذریعے ایمان کی دعوت دی جاتی ہے، تب تک مہلت مل جاتی ہے، لیکن جب منکرین کے مطالبے پر ایمان شہود کی منزل میں آ جاتا ہے اور تعقل و تفکر سے گزر کر محسوسات کے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کے بعد مہلت ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ امتحان کے لیے مزید گنجائش نہیں رہتی۔ پس نتیجہ امتحان اور عذاب کا مرحلہ آ جاتا ہے۔


وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلۡنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلۡبِسُوۡنَ﴿۹﴾

۹۔اور اگر ہم اسے فرشتہ قرار دیتے بھی تو مردانہ (شکل میں) قرار دیتے اور ہم انہیں اسی شبہ میں مبتلا کرتے جس میں وہ اب مبتلا ہیں۔

9۔ اگر ہم فرشتے بھیجتے تو تمہیں وہی اشتباہ پیش آتا جواب پیش آرہا ہے۔کیونکہ ہم فرشتوں کو انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجتے تو لازماً لوگ انہیں دیکھ لیتے، ان سے ہم کلام ہوتے اور وہ فرشتے اطاعت کے لیے نمونہ عمل اور پابند احکام ہوتے۔اس صورت میں ساری بشری خاصیتیں ان میں ہوتیں۔ پس لوگ ان پر بھی وہی اعتراض کرتے جو رسولوں پر کرتے ہیں۔


وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیٴَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ﴿٪۱۰﴾

۱۰۔ اور آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتا رہا ہے آخر کار تمسخر کرنے والوں کو اسی بات نے گرفت میں لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

10۔ سنت الٰہی ہے کہ تمسخر کرنے والے اسی بات کی گرفت میں آ جاتے ہیں جس کا وہ تمسخر کرتے تھے نیز تمسخر، بذات خود دلیل اور صحیح طرز فکر کے فقدان کی دلیل ہے۔


قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ﴿۱۱﴾

۱۱۔ (ان سے) کہدیجئے : زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے؟

11۔ مطالعۂ تاریخ کی غرض سے سیر فی الارض جدید طریقہ تحقیق ہے، جس کا عربوں کو علم ہی نہ تھا۔بڑی بڑی تہذیبوں اور سلطنتوں کے باقی ماندہ کھنڈرات سے ان کے انجام بد کی گواہی مل جاتی ہے۔


قُلۡ لِّمَنۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قُلۡ لِّلّٰہِ ؕ کَتَبَ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ؕ لَیَجۡمَعَنَّکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ اَلَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ﴿۱۲﴾

۱۲۔ ان سے پوچھ لیجیے: آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے؟ کہدیجئے: (سب کچھ) اللہ ہی کا ہے، اس نے رحمت کو اپنے پر لازم کر دیا ہے، وہ تم سب کو قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ضرور بہ ضرور جمع کرے گا جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

12۔ کَتَبَ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ : اللہ نے رحمت کو اپنے ذمے لیا ہے وہ ارحم الراحمین ہے اور انسان کی تخلیق میں بھی رحیم ہے۔ چنانچہ اس نے انسان کو احسن تقویم کے سانچے میں ڈھالا۔ وہ انسان کے لیے تسخیر کائنات میں رحیم ہے۔ وہ انسانی تعلیم و تربیت میں رحیم ہے۔ انسان کی ہدایت و رہنمائی میں رحیم ہے۔ عفو و درگزر میں رحیم ہے اور قیامت کی عدالت میں رحیم ہے۔ اس رحیم و کریم رب کو چھوڑ کر بتوں کے سامنے جھکتے ہو؟


وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ﴿۱۳﴾

۱۳۔ اور جو (مخلوق) رات اور دن میں بستی ہے وہ سب اللہ کی ہے اور وہ بڑا سننے والا، جاننے والا ہے۔


قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ ہُوَ یُطۡعِمُ وَ لَا یُطۡعَمُ ؕ قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَسۡلَمَ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ﴿۱۴﴾

۱۴۔ کہدیجئے:کیا میں آسمانوں اور زمین کے خالق اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا آقا بناؤں؟ جبکہ وہی کھلاتا ہے اور اسے کھلایا نہیں جاتا، کہدیجئے : مجھے یہی حکم ہے کہ سب سے پہلے اس کے آگے سر تسلیم خم کروں اور یہ (بھی کہا گیا ہے) کہ تم ہرگز مشرکین میں سے نہ ہونا۔

14۔ اگر کسی کی عبادت اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ خالق ہے تو آسمانوں اور زمین کا خالق تو اللہ ہے۔ اگر عبادت کی وجہ یہ ہے کہ ہماری جانوں کا مالک ہے تو اللہ ہی ہر مخلوق کا مالک ہے اور اگر عبادت نعمت کی فراوانی کی بنا پر ہوتی ہے تو یہ فراوانی بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

فَاطِرِ : فطر کے لغوی معنی شگاف کے ہیں۔ اگرچہ یہ لفظ خالق کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے تاہم اللہ کا طریقۂ تخلیق شگاف ہے۔ اللہ تخم اور دانے کو چیرتا ہے۔ دانے سے تنا اس سے شاخ اس سے پتے اس سے پھول، اس سے میوے چیر کر نکالتا ہے: فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى ۔ (انعام: 95) دانے اور گھٹلی کا شگافتہ کرنے والا۔


قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ﴿۱۵﴾

۱۵۔( یہ بھی) کہدیجئے: اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔

15۔ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں خوف لاحق ہونا قدرتی بات ہے۔ اس آیت میں نہایت مؤثر انداز میں یہ بات پیش کی گئی ہے۔ رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود اپنی ذات کو پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں خود اپنے رب کی نافرمانی کرتا تو مجھے بھی خوف لاحق ہو جاتا۔ یعنی معصیت کی صورت میں عدل الٰہی سے خوف آتا ہے۔


مَنۡ یُّصۡرَفۡ عَنۡہُ یَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمَہٗ ؕ وَ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ﴿۱۶﴾

۱۶۔ جس شخص سے اس روز یہ (عذاب) ٹال دیا گیا اس پر اللہ نے(بڑا ہی) رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے۔