Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا فَابۡعَثُوۡا حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ یُّرِیۡدَاۤ اِصۡلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیۡنَہُمَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا خَبِیۡرًا﴿۳۵﴾

۳۵۔ اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو تو ایک منصف مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک منصف عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو اگر وہ دونوں اصلاح کی کوشش کریں تو اللہ ان کے درمیان اتفاق پیدا کرے گا، یقینا اللہ بڑا علم رکھنے والا، باخبر ہے۔

35۔خطاب، حکومت جس کے پاس مسئلہ پیش ہوا، سے ہے کہ وہ طرفین سے ایسے منصف کے تقرر کا فریضہ انجام دے کہ جن کا مطمع نظر میاں بیوی میں اصلاح کرنے کا پختہ عزم ہو۔ عدالت کی ذمہ داریوں میں سے اہم ذمے داری یہ ہے کہ خاندانوں کے مسائل ان کے اپنے اندر سے مقرر شدہ ثالثوں کے ذریعے حل کرنے کے لیے طرفین میں سے ثالث کا تقرر کرے اور خاندانی راز کو اپنے ہی خاندان کی راز داری تک محدود رہنے دیا جائے، کیونکہ زن و شوہر کے تعلقات اور ان میں ناچاقی بعض ایسی باتوں پر مشتمل ہو سکتی ہے جس کا افشا خاندانی وقار کے منافی ہو نیز خاندانی حالات کا قریب سے علم ہونے کی وجہ سے فیصلہ صائب اور سریع ہو سکتا ہے۔


وَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ﴿ۙ۳۶﴾

۳۶۔ اور تم لوگ اللہ ہی کی بندگی کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک قرار نہ دو اور ماں باپ، قریب ترین رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب ترین رشتہ دار پڑوسی، اجنبی پڑوسی، پاس بیٹھنے والے رفیقوں، مسافروں اور جو (غلام و کنیز) تمہارے قبضے میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو، بے شک اللہ کو غرور کرنے والا، (اپنی بڑائی پر) فخر کرنے والا پسند نہیں۔

36۔ خدائے واحد کی پرستش کے بعد اللہ نے والدین پر احسان کو حکماً اور اولاد کی محبت کو فطرتاً لازم قرار دیا ہے۔ چنانچہ ایک دین دار گھرانہ فطرت اور شریعت دونوں کے سایے میں محبت و احسان کی پرسکون فضا قائم کر سکتا ہے۔ اسی طرح معاشرے کے جن افراد کا اس آیت میں ذکر ہے ان پر احسان سے اسلامی معاشرے کا انسانی تصور سامنے آتا ہے۔


ۣالَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ وَ یَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ وَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿ۚ۳۷﴾

۳۷۔ (وہ لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں) جو خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کی تلقین کرتے ہیں اور اللہ نے اپنے فضل سے جو انہیں عطا کیا ہے اسے چھپاتے ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت آمیز سزا مہیا کر رکھی ہے۔

37۔ فیاضی ایک آفاقی عمل ہے سورج، زمین اور پانی اپنی فیاضی سے کائنات کو رونق فراہم کرتے ہیں۔ اس کے خلاف بخل ایک نہایت گھٹیا مزاج ہے۔ بخیل اپنے بود و باش میں فقیروں کی طرح زندگی کرتا ہے اس طرح وہ اللہ کے فضل و کرم کو چھپاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے: اِنَّ اللّٰہَ جَمِیلٌ یُحِبُ الْجَمَالَ وَ یُحِبُّ اَنْ یَرَی أَثَرَ نِعَمِہِ عَلَی عَبْدِہِ (الوسائل 5: 5 باب استحباب التجمل۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، یحب الجمال تک۔) اللہ زیبا ہے، زیبائی کو پسند کرتا ہے اور یہ بھی پسند کرتا ہے اس کی نعمت کے آثار بندے پر ظاہر ہوں۔ اس حدیث کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنا حلیہ ایسا نہیں رکھنا چاہیے کہ بد زیب نظر آئے۔


وَ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَ مَنۡ یَّکُنِ الشَّیۡطٰنُ لَہٗ قَرِیۡنًا فَسَآءَ قَرِیۡنًا﴿۳۸﴾

۳۸۔اور (وہ لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں) جو اپنا مال صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور وہ نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر اور (بات یہ ہے کہ) شیطان جس کا رفیق ہو جائے تو وہ بہت ہی برا رفیق ہے۔

38۔ اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے تو مال خرچ کرتے ہوئے ریاکاری کی ضرورت نہ تھی۔ وہ رضائے خدا اور زاد آخرت کے لیے مال خرچ کر کے مال سے خوب فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ لیکن چونکہ اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور صرف اسی چند روزہ زندگی پر ایمان رکھتے ہیں، لہٰذا مال وہ ایسی جگہ خرچ کریں گے جہاں ان کے خیال خام میں دنیاوی فائدہ ہے۔


وَ مَاذَا عَلَیۡہِمۡ لَوۡ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِہِمۡ عَلِیۡمًا﴿۳۹﴾

۳۹۔ اور اگر یہ لوگ اللہ اور روز آخرت پر ایمان لاتے اور اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے خرچ کرتے تو اس میں انہیں کوئی نقصان نہ تھا اور اللہ تو ان کا حال اچھی طرح جانتا ہے ۔

39۔حالانکہ اگر وہ ایمان باللہ کے ساتھ اپنا مال رضائے رب کے لیے خرچ کرتے تو اس میں ان کا کوئی نقصان نہ تھا۔


اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفۡہَا وَ یُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡہُ اَجۡرًا عَظِیۡمًا﴿۴۰﴾

۴۰۔ یقینا اللہ ( کسی پر) ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر (کسی کی ) ایک نیکی ہو تو (اللہ) اسے دگنا کر دیتا ہے اور اپنے ہاں سے اسے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔

40۔ راہ خدا میں مال خرچ کرنے سے نقصان اس لیے نہیں ہوتا کہ اللہ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا اور ان کے خرچ کردہ مال کی جزا دیتا ہے، بلکہ ان کی نیکیوں میں مزید اضافہ کرتا ہے اور اجر عظیم عنایت فرماتا ہے۔


فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّ جِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ؃۴۱﴾

۴۱۔پس (اس دن) کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو ان لوگوں پر بطور گواہ پیش کریں گے۔

41۔ انسانی اعمال اللہ کی طرف سے متعین شہادتوں کی گرفت میں ہوتے ہیں۔ اعضا و جوارح، ملائکہ کے ساتھ ساتھ ہر امت کے نبی اس امت کے اعمال پر شاہد ہیں۔ رسول ختمی مرتبت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اپنی امت کے اعمال کے شاہد ہیں۔ اگر ہٰۤؤُلَآءِ کا اشارہ ہر امت کے گواہ کی طرف سمجھا جائے تو آیت کا مطلب یہ بنے گا: رسالتمآب صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تمام نبیوں پر شاہد ہیں اور شاہد کے لیے حضور شرط ہے، لہٰذا رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تمام انبیاء کے اعمال پر علم حضوری حاصل ہے۔


یَوۡمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ عَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰی بِہِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَ لَا یَکۡتُمُوۡنَ اللّٰہَ حَدِیۡثًا﴿٪۴۲﴾

۴۲۔ اس روز کافر اور جو لوگ رسول کی نافرمانی کرتے رہے تمنا کریں گے کہ کاش (زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں دفن ہو کر) زمین کے برابر ہو جائیں اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡتُمۡ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ حَتّٰی تَغۡتَسِلُوۡا ؕ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤی اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الۡغَآئِطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمۡ وَ اَیۡدِیۡکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا﴿۴۳﴾

۴۳۔اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جایا کرو یہاں تک کہ تم جان لو کہ تم کیا کہ رہے ہو اور جنابت کی حالت میں بھی، یہاں تک کہ غسل کر لو مگر یہ کہ کسی راستے سے گزر رہے ہو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت کر آیا ہو یا تم نے عورتوں سے ہمبستری کی ہو اور تمہیں پانی میسر نہ آئے تو پاک مٹی پر تیمم کرو چنانچہ اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کا مسح کرو، بے شک اللہ بڑا معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔

43۔ حرمت شراب کا حکم بتدریج نافذ ہوا۔ اس آیت میں نشے کی حالت میں نماز کے نزدیک جانے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح حالت جنابت میں بھی نماز کے قریب جانے سے روکا گیا ہے۔ اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ مگر یہ کہ راستے سے گزر رہا ہو۔ اس تعبیر سے مسجد کی طرف اشارہ آگیا کہ جنابت کی حالت میں مسجد کے قریب نہ جاؤ مگر یہ کہ راستے سے گزر رہے ہو۔ اس طرح مسجد عبور کرنے کی اجازت مل گئی۔ البتہ مسجد میں بیٹھنے سے منع کیا گیا۔ مگر حضرت علی علیہ السلام و دیگر افراد اہل بیت علیہ السلام کو اجازت حاصل رہی۔ چنانچہ رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسجد کی طرف کھلنے والے سارے دروازے بند کرنے کا حکم دیا لیکن صرف حضرت علی علیہ السلام کو اجازت دے دی کہ دروازہ کھلا رکھیں۔ چنانچہ اس بات کو بارہ سے زائد جلیل القدر اصحاب نے روایت کیا ہے۔

تیمم کے موارد: مرض کی حالت میں ہو، پانی کا استعمال مضر ہو، رفع حاجت یا عورتوں سے مباشرت کی صورت میں پانی میسر نہ ہو۔ تیمم کی احتیاطی صورت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ مٹی پر مارے، پھر پوری پیشانی اور دونوں ہاتھوں پر کلائی سے انگلیوں کے سرے تک پھیر دے، دوسری دفعہ دونوں ہاتھوں کو پھر زمین پر مارے اور دونوں ہاتھوں پر کلائی سے انگلیوں کے سرے تک پھیر دے۔


اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یَشۡتَرُوۡنَ الضَّلٰلَۃَ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِیۡلَ ﴿ؕ۴۴﴾

۴۴۔ کیا آپ نے ان لوگوں کا حال نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا تھا (لیکن) وہ ضلالت خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم (بھی) گمراہ ہو جاؤ۔