Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَقَدۡ اَہۡلَکۡنَا مَا حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡقُرٰی وَ صَرَّفۡنَا الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ﴿۲۷﴾

۲۷۔ اور بتحقیق ہم نے تمہارے گرد و پیش کی بستیوں کو تباہ کر دیا اور ہم نے (اپنی) نشانیوں کو بار بار ظاہر کیا تاکہ وہ باز آ جائیں۔

27۔ جن قوموں پر اپنے رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے تباہی آئی ہے، وہ تمہارے قریبی علاقوں میں آباد تھیں۔ جزیرۃ العرب کے جنوب میں احقاف اور شمال میں ثمودی قوم آباد تھی۔ سبا کی قوم تمہارے نزدیک یمن میں بستی تھی۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم مدین میں تمہارے شام جانے کے راستے میں آباد تھی اور قوم لوط بھی۔

وَ صَرَّفۡنَا الۡاٰیٰتِ : ہم نے اپنی نشانیوں کو مختلف شکل میں ظاہر کر کے ان کو راہ راست پر لانے کے لیے ہدایت کا ہر وسیلہ استعمال کیا۔


فَلَوۡ لَا نَصَرَہُمُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ قُرۡبَانًا اٰلِـہَۃً ؕ بَلۡ ضَلُّوۡا عَنۡہُمۡ ۚ وَ ذٰلِکَ اِفۡکُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ﴿۲۸﴾

۲۸۔ پس انہوں نے قرب الٰہی کے لیے اللہ کے سوا جنہیں اپنا معبود بنا لیا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ بلکہ وہ تو ان سے غائب ہو گئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور وہ بہتان جو وہ گھڑتے تھے۔

28۔ جن غیر اللہ کو ان لوگوں نے قرب الٰہی کے لیے وسیلہ بنایا تھا، آج قیامت کی ہولناکیوں میں ان کی مدد کیوں نہیں کی؟ مدد کیا کرتے، وہ تو ناپید ہیں۔

وَ ذٰلِکَ اِفۡکُہُمۡ حذف مضاف ہو سکتا ہے۔ یعنی وَ ذٰلِکَ اِفۡکُہُمۡ ، یہ ان کے بہتان کا برا نتیجہ ہے۔ آج ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے۔


وَ اِذۡ صَرَفۡنَاۤ اِلَیۡکَ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡہُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوۡا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ مُّنۡذِرِیۡنَ﴿۲۹﴾

۲۹۔ اور (یاد کیجیے) جب ہم نے جنات کے ایک گروہ کو آپ کی طرف متوجہ کیا تاکہ قرآن سنیں، پس جب وہ رسول کے پاس حاضر ہو گئے تو (آپس میں) کہنے لگے: خاموش ہو جاؤ! جب تلاوت ختم ہو گئی تو وہ تنبیہ (ہدایت) کرنے اپنی قوم کی طرف واپس لوٹ گئے۔

29۔ ان آیات کے شان نزول میں مذکور ہے کہ رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے طائف کا سفر اختیار فرمایا کہ شاید کوئی اس دعوت کو قبول کر ے، لیکن کسی نے آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت قبول نہ کی۔ واپسی کے موقع پر وادی نخلہ کی ایک منزل میں آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قیام فرمایا۔ وہاں نماز میں آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قرآن کی تلاوت فرمائی۔ جنوں کا ایک گروہ وہاں سے گزر رہا تھا۔ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلاوت کی آواز سن کر وہ رک گئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے: خاموش رہو۔ تلاوت سننے کے بعد وہ مسلمان ہوئے اور انہوں نے اپنی قوم میں جا کر اسلام کی تبلیغ کا کام شروع کیا۔


قَالُوۡا یٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا کِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ یَہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ وَ اِلٰی طَرِیۡقٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ﴿۳۰﴾

۳۰۔ انہوں نے کہا: اے ہماری قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے، وہ حق اور راہ راست کی طرف ہدایت کرتی ہے۔

30۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنات ادیان سماوی سے واقف تھے، خاص طور پر دین موسیٰ علیہ السلام سے۔


یٰقَوۡمَنَاۤ اَجِیۡبُوۡا دَاعِیَ اللّٰہِ وَ اٰمِنُوۡا بِہٖ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُجِرۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ﴿۳۱﴾

۳۱۔ اے ہماری قوم! اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لے آؤ کہ اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے بچائے گا۔

31۔ اللہ کی طرف بلانے والے سے مراد رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں۔

یَغۡفِرۡ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ : ایمان لانے پر کفر کی حالت میں سرزد ہونے والے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: اِنۡ یَّنۡتَہُوۡا یُغۡفَرۡ لَہُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ ۔ (انفال:38) اگر یہ لوگ (شرک سے) باز آ جائیں تو گزشتہ گناہ معاف کر دے گا۔


وَ مَنۡ لَّا یُجِبۡ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَیۡسَ لَہٗ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءُ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ﴿۳۲﴾

۳۲۔ اور جو اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول نہیں کرتا وہ زمین میں (اللہ کو) عاجز نہیں کر سکے گا اور اللہ کے سوا اس کا کوئی سرپرست بھی نہیں ہو گا، یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔


اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ لَمۡ یَعۡیَ بِخَلۡقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ یُّحۡیِۦَ الۡمَوۡتٰی ؕ بَلٰۤی اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۳۳﴾

۳۳۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو خلق فرمایا ہے اور جو ان کے خلق کرنے سے عاجز نہیں آیا وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے؟ ہاں! وہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے۔

33۔ وَ لَمۡ یَعۡیَ : العی عاجز ہونے اور تھک جانے کے معانی بتائے جاتے ہیں۔ ہم نے عاجز ہونے کے معنی مراد لیے ہیں۔ چونکہ مشرکین حیات بعد موت کے امکان کے قائل نہ تھے، یعنی اللہ کو عاجز تصور کرتے تھے۔ جو لوگ العی کو تھکاوٹ کے معنی میں لیتے ہیں، وہ کہتے اس سے یہود کی رد مراد ہے، جو کہتے ہیں: خدا چھ دنوں میں کائنات کی تخلیق کے بعد تھک گیا تھا۔ یہ معنی سیاق آیت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے، چونکہ اس آیت میں مشرکین کی رد پر بات ہو رہی ہے، اہل کتاب کے کسی عقیدے کی رد کے درپے نہیں ہے۔


وَ یَوۡمَ یُعۡرَضُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَلَی النَّارِ ؕ اَلَیۡسَ ہٰذَا بِالۡحَقِّ ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَ رَبِّنَا ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ﴿۳۴﴾

۳۴۔ اور جس روز کفار آگ کے سامنے لائے جائیں گے (اس وقت ان سے پوچھا جائے گا) کیا یہ برحق نہیں ہے؟ وہ کہیں گے: ہاں! ہمارے رب کی قسم (یہ حق ہے) اللہ فرمائے گا : پھر عذاب چکھو اپنے اس کفر کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو۔


فَاصۡبِرۡ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الۡعَزۡمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسۡتَعۡجِلۡ لَّہُمۡ ؕ کَاَنَّہُمۡ یَوۡمَ یَرَوۡنَ مَا یُوۡعَدُوۡنَ ۙ لَمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَۃً مِّنۡ نَّہَارٍ ؕ بَلٰغٌ ۚ فَہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡفٰسِقُوۡنَ﴿٪۳۵﴾

۳۵۔ پس (اے رسول) صبر کیجیے جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے (طلب عذاب میں) جلدی نہ کیجیے، جس دن یہ اس عذاب کو دیکھیں گے جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے تو انہیں یوں محسوس ہو گا گویا (دنیا میں دن کی) ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے، (یہ ایک) پیغام ہے، پس وہی لوگ ہلاکت میں جائیں گے جو فاسق ہیں۔

35۔ اگر چہ تمام انبیاء اپنے مقام پر عزم و حوصلہ کے مالک تھے، تاہم جن انبیاء کو شریعت دی گئی ہے، انہیں اولو العزم انبیا ء کہتے ہیں۔ وہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت خاتم الانبیاء محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم