Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا ۫ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ﴿۱۵﴾

۱۵۔ جو نیکی کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے اور جو برائی کا ارتکاب کرتا ہے اس کا وبال اسی پر ہے، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔


وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۱۶﴾

۱۶۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکمت اور نبوت دی اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں اور ہم نے انہیں اہل عالم پر فضیلت دی۔

16۔ یعنی اس زمانے کی قوموں میں سے بنی اسرائیل ہی کو فضیلت دی اور اس بار امانت اسی قوم کے کندھوں پر رکھا۔


وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ۙ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ﴿۱۷﴾

۱۷۔ اور ہم نے انہیں امر (دین) کے بارے میں واضح دلائل دیے تو انہوں نے اپنے پاس علم آ جانے کے بعد آپس کی ضد میں آ کر اختلاف کیا، آپ کا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ فرمائے گا جن میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے۔

17۔ بنی اسرائیل کو واضح دلائل دیے۔ مِّنَ الۡاَمۡرِ سے مراد یا تو دین ہے، یعنی دین کے بارے میں دلائل دیے یا اس سے مراد رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں۔ ممکن ہے مِّنَ الۡاَمۡرِ سے مراد دلائل و معجزات عالم امری، یعنی اللہ کے حتمی فیصلے، یعنی کن فکانی ہو۔ و العلم عند اللہ۔

اخۡتَلَفُوۡۤا : آپس کی ضد میں آ کر اختلاف کیا۔ مختلف تعصب شعار لوگوں کی تحریر و تقریر سے معلوم ہوتا ہے، اکثر اختلافات کا اصل سرچشمہ ایک دوسرے کی ضد ہے۔


ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ فَاتَّبِعۡہَا وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ﴿۱۸﴾

۱۸۔ پھر ہم نے آپ کو امر (دین) کے ایک آئین پر قائم کیا، لہٰذا آپ اسی پر چلتے رہیں اور نادانوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں۔

18۔ بنی اسرائیل کی نا اہلی ثابت ہونے کے بعد اب یہ بار امانت آپ کے کندھوں پر ہے۔ بنی اسرائیل نے شریعت الٰہیہ کو نادانوں کی خواہشات کی نذر کیا تھا، آپ ایسا نہ کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت الٰہیہ کو سب سے زیادہ ناخواندہ لوگوں کی طرف سے خطرہ لاحق رہتا ہے۔


اِنَّہُمۡ لَنۡ یُّغۡنُوۡا عَنۡکَ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۚ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُتَّقِیۡنَ﴿۱۹﴾

۱۹۔ بلاشبہ یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گے اور ظالم تو یقینا ایک دوسرے کے حامی ہوتے ہیں اور اللہ پرہیزگاروں کا حامی ہے۔


ہٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ﴿۲۰﴾

۲۰۔ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بصیرت افروز اور یقین رکھنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔


اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجۡتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَہُمۡ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحۡیَاہُمۡ وَ مَمَاتُہُمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ﴿٪۲۱﴾

۲۱۔ برائی کا ارتکاب کرنے والے کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم انہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک اعمال بجا لانے والوں کو ایک جیسا بنائیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے؟ برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔

21۔ اگر ظالم و مظلوم، خیر و شر اور نیک و بد کا ایک جیسا انجام ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس کائنات پر اقدار کی حکمرانی نہیں اور جہاں اقدار کے لیے کوئی جگہ نہ ہو، وہ کائنات عبث اور بے معنی کھیل ہو کر رہ جائے گی۔


وَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَ لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ﴿۲۲﴾

۲۲۔ اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق خلق کیا ہے تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔


اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ وَ اَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰی سَمۡعِہٖ وَ قَلۡبِہٖ وَ جَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ؕ فَمَنۡ یَّہۡدِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ﴿۲۳﴾

۲۳۔ مجھے بتلاؤ جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور اللہ نے (اپنے) علم کی بنیاد پر اسے گمراہ کر دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے؟ پس اللہ کے بعد اب اسے کون ہدایت دے گا؟ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟

23۔خواہش نفس کو معبود بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کردار شریعت کی بجائے خواہشات کے تابع ہو اور جہاں شریعت اور خواہش میں تصادم ہو، وہاں اپنی خواہش کو مقدم کرے۔

وَ اَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ : اس جملے کا دوسرا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے۔ اللہ نے (اس گمراہ کے) علم کی بنیاد پر اسے گمراہ کر دیا۔ چنانچہ وہ جان بوجھ کر اللہ کی جگہ اپنی خواہشات کی پرستش کرتا تھا۔

وَّ خَتَمَ عَلٰی سَمۡعِہٖ اللہ کی طرف سے گمراہ کرنے، مہر لگانے کا کیا مطلب ہے؟ ہم نے مکرر اس بات کی وضاحت کی ہے: کوئی انسان جب قابل ہدایت نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ جب ہدایت کا سرچشمہ اس سے ہاتھ اٹھا لے تو فَمَنۡ یَّہۡدِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اللّٰہِ اللہ کے بعد اسے کون ہدایت دے گا۔


وَ قَالُوۡا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَ نَحۡیَا وَ مَا یُہۡلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہۡرُ ۚ وَ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ۚ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ﴿۲۴﴾

۲۴۔ اور وہ کہتے ہیں: زندگی تو بس یہی دنیاوی زندگی ہے (جس میں) ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مارتا ہے اور انہیں اس کا کچھ علم نہیں ہے، وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں۔

24۔ جو لوگ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ یہ زندگی کسی نظام کے تحت نہیں چل رہی کہ کسی خدا کی طرف سے ہم آئے ہوں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہو، بلکہ اس زندگی کا خاتمہ گردش ایام کے تحت ہوتا ہے، پھر لوگ نیست و نابود ہو جاتے ہیں اور اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔ ان کے پاس اس نظریہ کو اپنانے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہوتی، جبکہ دلیل کے بغیر نہ کوئی نظریہ اپنایا جا سکتا ہے، نہ اسے رد کیا جا سکتا ہے اور علم ہی دلیل ہے۔ علم کے سوا ظن و گمان کسی مؤقف کے لیے دلیل نہیں بن سکتا۔ ان دہریوں کے پاس علم یقینا نہیں ہے، کیونکہ یہ کہنا کہ اس زندگی کے سوا کوئی زندگی نہیں ہے، پوری کائنات کے بارے میں مکمل علم پر موقوف ہے کہ وہ یہ کہیں: ہم نے پوری کائنات کو ابتدا سے انتہا تک چھان مارا، لیکن کہیں بھی دوسری زندگی کی علامت نظر نہیں آئی، لہٰذا دوسری زندگی نہیں ہے۔ اس طرح کے علم کا دعویٰ وہ نہیں کر سکتے، لہٰذا یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتے کہ دوسری زندگی نہیں ہے۔