Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ قُرۡاٰنًا اَعۡجَمِیًّا لَّقَالُوۡا لَوۡ لَا فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ ؕ ءَؔاَعۡجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ ؕ قُلۡ ہُوَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہُدًی وَّ شِفَآءٌ ؕ وَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرٌ وَّ ہُوَ عَلَیۡہِمۡ عَمًی ؕ اُولٰٓئِکَ یُنَادَوۡنَ مِنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ﴿٪۴۴﴾

۴۴۔ اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی زبان میں قرار دیتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیات کو کھول کر بیان کیوں نہیں کیا گیا؟ (کتاب) عجمی اور (نبی) عربی؟ کہدیجئے: یہ کتاب ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بھاری پن (بہرا پن) ہے اور وہ ان کے لیے اندھا پن ہے، وہ ایسے ہیں جیسے انہیں دور سے پکارا جاتا ہو۔

44۔ یہ قرآن اہل ایمان کے لیے ہدایت و شفا ہے، جبکہ یہی قرآن ان منکر وں کے خلاف ایک حجت ہے جن کے لیے یہ قرآن دور سے آنے والی آواز کی طرح ہے جو سنائی دیتی ہے، لیکن سمجھ میں نہیں آتی۔


وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَاخۡتُلِفَ فِیۡہِ ؕ وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّہُمۡ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ مُرِیۡبٍ﴿۴۵﴾

۴۵۔ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی بات پہلے طے نہ ہوئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا اور وہ اس (قرآن) کے بارے میں شبہ پیدا کرنے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔


مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ وَ مَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ﴿۴۶﴾

۴۶۔ جو نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لیے ہی کرتا ہے اور جو برا کام کرتا ہے خود اپنے ہی خلاف کرتا ہے اور آپ کا رب تو بندوں پر قطعاً ظلم کرنے والا نہیں ہے۔


اِلَیۡہِ یُرَدُّ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ؕ وَ مَا تَخۡرُجُ مِنۡ ثَمَرٰتٍ مِّنۡ اَکۡمَامِہَا وَ مَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِہٖ ؕ وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ اَیۡنَ شُرَکَآءِیۡ ۙ قَالُوۡۤا اٰذَنّٰکَ ۙ مَا مِنَّا مِنۡ شَہِیۡدٍ ﴿ۚ۴۷﴾

۴۷۔ قیامت کا علم اللہ کی طرف پلٹا دیا جاتا ہے، اس کے علم کے بغیر نہ کوئی پھل اپنے شگوفوں سے نکلتا ہے اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے اور جس دن وہ انہیں پکارے گا: کہاں ہیں میرے شریک؟ تو وہ کہیں گے: ہم آپ سے اظہار کر چکے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی گواہی دینے والا نہیں ہے۔

47۔ قیامت کب برپا ہو گی؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ کسی نبی مرسل کو علم ہے، نہ کسی مقرب فرشتے کو۔ مشرکین کا عقیدہ تھا کہ ان کے معبود ان کو رزق اور اولاد دیتے ہیں۔ ان کی رد میں فرمایا: اللہ کے علم کے بغیر نہ کوئی پھل اپنے شگوفوں سے نکلتا ہے، نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے۔

اس آیت میں ایک اس علم کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ سے مختص ہے۔ یعنی قیامت کا علم۔دوسرا اللہ تعالیٰ کے احاطہ علمی کا ذکر ہے، جو ہر چیز کو شامل ہے۔ تیسرا اللہ کی ربوبیت و تدبیر کا ذکر ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔

وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ : یعنی قیامت کے دن مشرکین کو پکارے گا: کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جنہیں تم نے میرا شریک بنایا تھا؟ مشرکین جواب دیں گے: ہم اس سے پہلے بھی اظہار کر چکے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی ان سے یہی سوال ہوا تھا۔ ممکن ہے یہ سوال قبر میں نکیرین کی طرف سے ہو چکا ہو۔


وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ وَ ظَنُّوۡا مَا لَہُمۡ مِّنۡ مَّحِیۡصٍ﴿۴۸﴾

۴۸۔ اور جنہیں وہ پہلے پکارتے تھے وہ ان سے ناپید ہو جائیں گے اور وہ سمجھ جائیں گے کہ ان کے لیے کوئی خلاصی نہیں ہے۔


لَا یَسۡـَٔمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَیۡرِ ۫ وَ اِنۡ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ﴿۴۹﴾

۴۹۔ انسان آسودگی مانگ مانگ کر تو تھکتا نہیں لیکن جب کوئی آفت آجاتی ہے تو مایوس ہوتا ہے اور آس توڑ بیٹھتا ہے۔

49۔ دُعَآءِ الۡخَیۡرِ : یعنی اپنی خواہش کی چیزیں مانگ کر انسان نہیں تھکتا اور نہ ہی وہ کبھی دنیا کی بھلائی سے سیر ہوتا ہے اور جب اس پر کوئی آفت آ جاتی ہے تو وہ بہت جلد مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔


وَ لَئِنۡ اَذَقۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنَّا مِنۡۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُ لَیَقُوۡلَنَّ ہٰذَا لِیۡ ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ وَّ لَئِنۡ رُّجِعۡتُ اِلٰی رَبِّیۡۤ اِنَّ لِیۡ عِنۡدَہٗ لَلۡحُسۡنٰی ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا ۫ وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِیۡظٍ﴿۵۰﴾

۵۰۔ اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اسے اپنی رحمت کی لذت چکھائیں تو ضرور کہتا ہے: یہ تو میرا حق تھا اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت آنے والی ہے اور اگر میں اپنے رب کی طرف پلٹایا بھی گیا تو میرے لیے اللہ کے ہاں یقینا بھلائی ہے، (حالانکہ) کفار کو ان کے اعمال کے بارے میں ہم ضرور بتائیں گے وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں اور انہیں بدترین عذاب چکھائیں گے۔

50۔ جب آفت کا وقت گزر جاتا ہے اور نعمتیں پھر سے لوٹ آتی ہیں تو وہ اپنے آپ کو اس کا حقدار سمجھتا ہے۔ قیامت پراول تو اس کا ایمان ہی نہیں ہوتا۔ چنانچہ وہ کہتا ہے: اگر قیامت برحق ہے تو میں وہاں بھی عیاشی کروں گا۔ یہ دنیا میں مراعات کا عادی ہے، لہٰذا خیال کرتا ہے کہ آخرت کی مراعات بھی اسی کے لیے ہوں گی۔


وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ﴿۵۱﴾

۵۱۔ اور جب ہم انسان کو نعمت سے نوازتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا اور اکڑ جاتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔


قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ ہُوَ فِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ﴿۵۲﴾

۵۲۔ کہدیجئے: مجھے بتاؤ کہ اگر (یہ قرآن) اللہ کی طرف سے ہو، پھر تم اس سے انکار کرو تو اس شخص سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہو گا جو اس (کی مخالفت) میں دور تک نکل گیا ہو؟


سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ ؕ اَوَ لَمۡ یَکۡفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ﴿۵۳﴾

۵۳۔ ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ یقینا وہی (اللہ) حق ہے، کیا آپ کے رب کا یہ وصف کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز پر خوب شاہد ہے؟

53۔ آفاق سے فتوحات اور انفس سے خود مشرکین کی سرنگونی کو مراد لیا جاتا ہے۔ یہ سوال کہ فتوحات حق کی دلیل نہیں ہے، باطل طاقتیں بھی فتوحات کر لیتی ہیں، درست نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں صرف فتوحات دلیل نہیں ہیں، بلکہ ان فتوحات کا قرآن کی پیشگوئی کے مطابق حاصل ہونا دلیل ہے۔ قرآن ان فتوحات کی مکی زندگی میں اس وقت خبر دے رہا ہے، جب وہاں ان فتوحات کے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے تھے۔

دوسری تفسیر یہ ہے: آفاق سے کائنات میں موجود نشانیاں اور انفس سے خود انسان کے وجود کے اندر موجود آیات کو مراد لیا گیا ہے۔ چنانچہ علمی ترقی کے ساتھ ساتھ آفاق و انفس میں پنہاں راز ہائے قدرت سے روز بروز پردے اٹھتے جا رہے ہیں اور یہ سلسلہ حق کے نکل کر سامنے آنے تک جاری رہے گا۔

پہلی تفسیر کے مطابق اَنَّہُ الۡحَقُّ سے قرآن مراد ہے۔ دوسری تفسیر کے مطابق اَنَّہُ قرآن بھی ہو سکتا ہے اور اللہ بھی۔