Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡـًٔا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾

۱۱۶۔ جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے اللہ کے مقابلے میں ان کے اموال اور اولاد بلاشبہ کسی کام نہ آئیں گے اور یہ لوگ جہنمی ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔


مَثَلُ مَا یُنۡفِقُوۡنَ فِیۡ ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَثَلِ رِیۡحٍ فِیۡہَا صِرٌّ اَصَابَتۡ حَرۡثَ قَوۡمٍ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَاَہۡلَکَتۡہُ ؕ وَ مَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَ لٰکِنۡ اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ﴿۱۱۷﴾

۱۱۷۔ وہ اس دنیاوی زندگی میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں تیز سردی ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اسے تباہ کر دے اور اللہ نے ان پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

116۔ 117۔ان آیات میں دشمنوں کے مالی اور انسانی وسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کے اقتصادی حربوں کے انجام کا ذکر ہے کہ وہ مال و زر کے ذریعے بھی اپنے برے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے اور تخریب کاری پر انہوں نے جتنی دولت صرف کی ہو گی وہ سب رائیگاں جائے گی۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ۚۖ وَ مَا تُخۡفِیۡ صُدُوۡرُہُمۡ اَکۡبَرُ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴿۱۱۸﴾

۱۱۸۔ اے ایمان والو! اپنوں کے سوا دوسروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ یہ لوگ تمہارے خلاف شر پھیلانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، جس بات سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچے وہی انہیں بہت پسند ہے، کبھی تو (ان کے دل کے کینہ و ) بغض کا اظہار ان کے منہ سے بھی ہوتا ہے، لیکن جو (بغض و کینہ) ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ کہیں زیادہ ہے، بتحقیق ہم نے آیات کو واضح کر کے تمہارے لیے بیان کیا ہے۔ اگر تم عقل رکھتے ہو۔

118۔ اسلامی سلطنت کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری اندرونی اور داخلی معاملات کی رازداری ہے۔ کسی دشمن کو مملکت کے امور میں راز دار بنانا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ دشمن کے عزائم برے ہوتے ہیں اور تمہارے بارے میں وہ ہمیشہ تاک میں رہتے ہیں کہ تمہاری کوئی کمزوری ان کے علم میں آ جائے تو وہ اسے اپنے حق میں اور تمہارے خلاف استعمال کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ قرآن کا یہ حکم ایک ابدی دستور، ایک لازوال نظام کا اہم ستون اور اس جامع نظام حیات کی ایک بنیادی دفعہ ہے جو ناقابل ترمیم و تنسیخ ہے۔ لیکن صد افسوس کہ اس کے باوجود مسلمانوں نے اسلامی دستور کی اس اہم شق پر عمل نہ کیا اور بہت جلد دشمنوں کو کاروبار حکومت میں دخل اندازی کا موقع فراہم کر دیا۔ قرطبی اپنے زمانے کی حالت زار پر نالاں ہیں، لیکن تفسیر منار میں یہ بھی لکھ دیا ہے : ”حضرت عمر کے زمانے ہی میں رومیوں کو منشی بنا کر بہت سے معاملات کا انچارج بنا دیا گیا تھا۔ سلطنتِ عثمانی کے زوال میں اس مسئلے کو سب سے زیادہ دخل رہا کہ اس کے اکثر سفیر غیر مسلم تھے۔“ (المنار 4:84)


ہٰۤاَنۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَہُمۡ وَ لَا یُحِبُّوۡنَکُمۡ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ کُلِّہٖ ۚ وَ اِذَا لَقُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚ٭ۖ وَ اِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَیۡکُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَیۡظِکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴿۱۱۹﴾

۱۱۹۔ تم لوگ تو اس طرح کے ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو جب کہ وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم پوری (آسمانی) کتاب کو مانتے ہو (مگر تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب خلوت میں جاتے ہیں تو تم پر غصے کے مارے انگلیاں کاٹ لیتے ہیں، ان سے کہدیجئے: تم اپنے غصے میں جل مرو، یقینا اللہ سینوں کے راز خوب جانتا ہے۔

119۔ اس آیت میں اہل کتاب کی معاندانہ روش کی ایک پیشگوئی ہے اور مسلمانوں کو تنبیہ بھی کہ تم ان سے محبت کیوں رکھتے ہو۔ اصولاً مسلمانوں کو اہل کتاب سے زیادہ متنفر ہونا چاہیے کیونکہ مسلمان اہل کتاب کے عقائد کا احترام کرتے ہیں، ان کے نبی اور ان کی کتاب کی تصدیق کرتے ہیں لیکن اہل کتاب مسلمانوں کے اعتقادات کا احترام نہیں کرتے، اس کے باوجود مسلمان اہل کتاب سے محبت رکھتے ہیں جب کہ وہ مسلمانوں سے نہ صرف محبت نہیں رکھتے بلکہ ان کے سینے مسلمانوں کے خلاف غیض و غضب سے پر ہوتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ ہمارے معاصر اہل کتاب مسلمانوں کو شدت پسند اور بنیاد پرست ہونے کے طعنے دیتے ہیں۔


اِنۡ تَمۡسَسۡکُمۡ حَسَنَۃٌ تَسُؤۡہُمۡ ۫ وَ اِنۡ تُصِبۡکُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّفۡرَحُوۡا بِہَا ؕ وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا لَا یَضُرُّکُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡـًٔا ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ﴿۱۲۰﴾٪

۱۲۰۔اگر تمہیں آسودگی میسر آتی ہے تو (وہ) انہیں بری لگتی ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو ان کی فریب کاری تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی، بے شک اللہ ان کے تمام اعمال پر احاطہ رکھتا ہے۔

120۔ دشمن کی باطنی خباثت کی نشاندہی ہو رہی ہے اور ساتھ ہی ایک بشارت بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ البتہ اس کی دو شرائط ہیں: صبر و استقامت اور تقویٰ۔ آج کے مسلمان اپنی عظمت رفتہ کو واپس لینا چاہیں تو قرآن نے اس کا طریقہ کار بتا دیا ہے کہ وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں۔ نہایت تلخ تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ دشمن کس قدر عیار ہے۔ اس کی طاقت کے مقابلے میں اگر مسلمان طاقت نہیں رکھتے تو ان کی عیاری کا مقابلہ صبر، اسلامی تعلیمات کی پابندی اور تقویٰ ہی کے ذریعے ہو سکتا ہے۔


وَ اِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَہۡلِکَ تُبَوِّیٴُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ﴿۱۲۱﴾ۙ

۱۲۱۔ اور (اے رسول! وہ وقت یاد کرو ) جب آپ صبح سویرے اپنے گھر والوں کے پاس سے نکل کر ایمان والوں کو جنگ کے لیے مختلف مورچوں پر متعین کر رہے تھے اور اللہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔

121۔ یہ جنگ احد کا تذکرہ ہے۔ شوال 3 ہجری کے اوائل میں ابو سفیان نے بدر کا بدلہ لینے کے لیے تین ہزار کی فوج لے ک رمدینے پر حملہ آور ہونا چاہا۔ رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک ہزار افراد کو لے کر نکلے۔ راستے میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر لشکر سے الگ ہو گیا اور مدینے واپس چلا گیا۔ 700 کا لشکر مقابلے کے لیے آمادہ تھا۔ اس میں رسولِ خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پچاس تیر اندازوں کو عبداللہ بن جبیر کی سربراہی میں درے پر متعین فرمایا اور تاکید فرمائی کہ اگر ہم مشرکین کو مکّہ تک یا مشرکین ہمیں مدینہ تک دھکیل دیں تو بھی تم نے یہ جگہ نہیں چھوڑنی۔ جنگ شروع ہوئی ابتدائی حملے میں دشمن پسپا ہو گیا۔ مسلمان مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے، تیر اندازوں نے بھی درہ چھوڑ دیا۔ خالد بن ولید نے موقع پا کر درے کے عقب سے حملہ کیا اور دوسری طرف سے بھاگا ہوا دشمن بھی پلٹ کر حملہ آور ہوا جس سے لشکر اسلام پراگندہ ہو گیا۔ اکثریت نے راہ فرار اختیار کی اور یہ افواہ بھی اڑ گئی کہ رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شہید ہو گئے۔ رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گرد صرف دس بارہ سرفروش رہ گئے تھے۔ تاریخ طبری کے مطابق رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمن کے اہم جتھوں کی نشاندہی فرماتے اور علی علیہ السلام ان پر حملہ کرتے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کی تلوار ٹوٹ گئی تو رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی تلوار ذوالفقار عنایت فرمائی۔ جب مسلمانوں کو پتہ چلا کہ حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زندہ ہیں تو سب واپس آگئے۔ اسی اثنا میں حضرت حمزہ علیہ السلام شہید ہو گئے اور ابو سفیان کی زوجہ ہندہ نے حضرت حمزہ علیہ السلام کا جگر چبانے کی کوشش کی۔ اسی لیے اس سلسلۂ نسب کو آکلۃ الاکباد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔


اِذۡ ہَمَّتۡ طَّآئِفَتٰنِ مِنۡکُمۡ اَنۡ تَفۡشَلَا ۙ وَ اللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴿۱۲۲﴾

۱۲۲۔(یہ اس وقت کی بات ہے) جب تم میں سے دو گروہ بزدلی دکھانے پر آمادہ ہو گئے تھے حالانکہ اللہ ان کا مددگار تھا اور مومنین کو چاہیے کہ اللہ پر توکل کریں۔


وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ﴿۱۲۳﴾

۱۲۳۔ بتحقیق بدر میں اللہ نے تمہاری مدد کی جب تم کمزور تھے،پس اللہ سے ڈرو تاکہ شکر گزار بن جاؤ۔


اِذۡ تَقُوۡلُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَلَنۡ یَّکۡفِیَکُمۡ اَنۡ یُّمِدَّکُمۡ رَبُّکُمۡ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُنۡزَلِیۡنَ﴿۱۲۴﴾ؕ

۱۲۴۔ جب آپ مومنین سے کہ رہے تھے: کیا تمہارے لیے کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے نازل فرما کر تمہاری مدد کرے ؟


بَلٰۤی ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا وَ یَاۡتُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡرِہِمۡ ہٰذَا یُمۡدِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ بِخَمۡسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ﴿۱۲۵﴾

۱۲۵۔ہاں اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو دشمن جب بھی تم پر اچانک حملہ کر دے تمہارا رب اسی وقت پانچ ہزار نشان زدہ فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔