Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَاَذَاقَہُمُ اللّٰہُ الۡخِزۡیَ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ﴿۲۶﴾

۲۶۔ پھر اللہ نے انہیں دنیاوی زندگی میں رسوائی کا ذائقہ چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے، اے کاش! وہ جان لیتے۔


وَ لَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿ۚ۲۷﴾

۲۷۔ اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثالیں دی ہیں شاید وہ نصیحت حاصل کریں۔

27۔ قرآن میں اپنے مطالب لوگوں کے اذہان میں راسخ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام طرز بیان استعمال فرمائے ہیں: دھرائی، مثالوں، محسوسات اور مسلمات کے ذریعے مطالب بیان ہوئے ہیں، خصوصاً مثالوں سے زیادہ کام لیا گیا ہے، کیونکہ ایک فکری مطلب کو محسوس چیز کی شکل میں لانے سے مطلب واضح ہو جاتا ہے اور انسان محسوسات سے زیادہ مانوس ہوتے ہیں۔


قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا غَیۡرَ ذِیۡ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ﴿۲۸﴾

۲۸۔ ایسا قرآن جو عربی ہے، جس میں کوئی عیب نہیں ہے تاکہ یہ تقویٰ اختیار کریں۔

28۔ قرآن عربی زبان میں ہے اور جس رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے، وہ عربی ہے اور جس قوم پر اس دعوت کی بنیاد رکھی ہے، وہ قوم عربی ہے۔ وہ قوم اس دعوت کو عالمین تک پہنچانے کے لیے اساس قرار پاتی ہے، نہ یہ کہ دین اسی قوم تک محدود رہ جائے۔


ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ۚ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ﴿۲۹﴾

۲۹۔ اللہ ایک شخص (غلام) کی مثال بیان فرماتا ہے جس (کی ملکیت) میں کئی بدخو (مالکان) شریک ہیں اور ایک(دوسرا) مرد (غلام) ہے جس کا صرف ایک ہی آقا ہے، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ الحمد للہ،بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے ۔


اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ ﴿۫۳۰﴾

۳۰۔ (اے رسول) یقینا آپ کو بھی انتقال کرنا ہے اور انہیں بھی یقینا مرنا ہے۔

30۔ اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے کوئی نہیں آیا۔ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ اس میں دو نکات کی طرف اشارہ ہے: اول رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس دنیا سے جانے سے یہ مشن ختم نہیں ہو گا، جیسا کہ مشرکین اس انتظار میں ہیں۔ دوم اس دنیا سے جانے کے بعد مشرک مومن ظالم مظلوم کا مقدمہ اللہ کے حضور پیش ہو گا۔


ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ﴿٪۳۱﴾

۳۱۔ پھر قیامت کے دن تم سب اپنے رب کے سامنے مقدمہ پیش کرو گے۔

31۔ قیامت کے دن اللہ کے سامنے ہر مظلوم اپنا مقدمہ پیش کرے گا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت علی علیہ السلام کا یہ قول منقول ہے: انا اول من یجثو بین یدی الرحمن للخصومۃ یوم القیامۃ ۔ (صحیح البخاری، کتاب المغازی 8: 25) سب سے پہلے میں اللہ کے حضور اپنا مقدمہ پیش کروں گا۔


فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَ کَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَہٗ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡکٰفِرِیۡنَ﴿۳۲﴾

۳۲۔ پس اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے پاس آئی تو اسے جھٹلا دیا؟ کیا کفار کے لیے جہنم میں ٹھکانا نہیں ہے؟


وَ الَّذِیۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَ صَدَّقَ بِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ﴿۳۳﴾

۳۳۔ اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ اہل تقویٰ ہیں۔

33۔ قرطبی، آلوسی اور سیوطی نے اپنی تفاسیر نیز ابن مغازلی اور گنجی نے اپنی مناقب میں یہ روایت بیان کی ہے: الذی جاء بالصدق سے مراد پیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں اور صدق بہ سے مراد علی علیہ السلام ہیں۔


لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ ذٰلِکَ جَزٰٓوٴُا الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۴﴾

۳۴۔ ان کے لیے جو کچھ وہ چاہیں ان کے رب کے پاس ہے، نیکی کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔


لِیُکَفِّرَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا وَ یَجۡزِیَہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ﴿۳۵﴾

۳۵۔ تاکہ اللہ ان کے بدترین اعمال کو مٹا دے اور جو بہترین اعمال انہوں نے انجام دیے ہیں انہیں ان کا اجر عطا کرے۔