Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اِنَّا مُنۡزِلُوۡنَ عَلٰۤی اَہۡلِ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ﴿۳۴﴾

۳۴۔ بے شک ہم اس بستی میں رہنے والوں پر آسمان سے آفت نازل کرنے والے ہیں اس بدعملی کی وجہ سے جس کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے۔


وَ لَقَدۡ تَّرَکۡنَا مِنۡہَاۤ اٰیَۃًۢ بَیِّنَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ﴿۳۵﴾

۳۵۔ اور بتحقیق ہم نے عقل سے کام لینے والوں کے لیے اس بستی میں ایک واضح نشانی چھوڑی ہے۔

35۔ یہ تصور مسلمہ شمار کیا جاتا ہے کہ ایک ہولناک زلزلے کے نتیجے میں شہر سدوم دھنس گیا اور اس جگہ بحیرہ مردار وجود میں آیا، جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نشانی آج بھی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ میں نے 2001ء میں بحیرہ مردار کا معائنہ کیا ہے۔ موجودہ اردن اور فلسطین کے درمیان واقع اس علاقے پر آج بھی موت کے آثار چھائے ہوئے ہیں۔


وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ۙ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ ارۡجُوا الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ﴿۳۶﴾

۳۶۔ اور (ہم نے) مدین کی طرف ان کی برادری کے شعیب (کو بھیجا) تو انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اور روز آخرت کی امید رکھو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو ۔


فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ ﴿۫۳۷﴾

۳۷۔ پس انہوں نے شعیب کی تکذیب کی تو انہیں زلزلے نے گرفت میں لے لیا پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

37۔ سورہ ہود میں فرمایا: اس قوم کو خوفناک آواز نے ہلاک کیا ہے۔ ممکن ہے خوفناک دھماکے سے شدید زلزلے کے ساتھ خوفناک آواز بھی نکلی ہو۔


وَ عَادًا وَّ ثَمُوۡدَا۠ وَ قَدۡ تَّبَیَّنَ لَکُمۡ مِّنۡ مَّسٰکِنِہِمۡ ۟ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ کَانُوۡا مُسۡتَبۡصِرِیۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾

۳۸۔ اور عاد و ثمود کو (بھی ہلاک کیا) اور بتحقیق ان کے مکانوں سے تمہارے لیے یہ بات واضح ہو گئی اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کو آراستہ کیا اور انہیں راہ (راست) سے روکے رکھا حالانکہ وہ ہوش مند تھے۔

38۔ وَ کَانُوۡا مُسۡتَبۡصِرِیۡنَ : وہ ہوش مند تھے۔ اس جملے کی دو تفسیریں ہیں: ایک یہ کہ یہ قوم راہ راست سے منحرف ہونے سے پہلے دین فطرت دین توحید پر تھی۔ دوسری تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شیطان کے ہتھے اس لیے نہیں چڑھے کہ یہ نادان لوگ تھے، بلکہ یہ خاصے عقل و خرد کے مالک تھے۔

پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ آج جن مقامات کو احقاف، یمن اور حضر موت کہتے ہیں، یہاں قوم عاد آباد تھی اور شمال حجاز میں رابغ سے لے کر عقبہ تک اور خیبر سے لے کر تبوک تک کے تمام علاقوں میں قوم ثمود آباد تھی۔


وَ قَارُوۡنَ وَ فِرۡعَوۡنَ وَ ہَامٰنَ ۟ وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مُّوۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا کَانُوۡا سٰبِقِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۹﴾

۳۹۔ اور قارون و فرعون اور ہامان کو (بھی ہم نے ہلاک کیا) اور بتحقیق موسیٰ واضح دلائل لے کر ان کے پاس آئے تھے پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن وہ (ہماری گرفت سے) نکل نہ سکے ۔


فَکُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِ حَاصِبًا ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡہُ الصَّیۡحَۃُ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا ۚ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ﴿۴۰﴾

۴۰۔ پس ان سب کو ان کے گناہ کی وجہ سے ہم نے گرفت میں لیا پھر ان میں سے کچھ پر تو ہم نے پتھر برسائے اور کچھ کو چنگھاڑ نے گرفت میں لیا اور کچھ کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ کو ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا مگر یہ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے۔

40۔ چنانچہ گناہوں کی سزا کے طور پر قوم عاد پر پتھر برسائے، قوم ثمود کو دھماکے سے تباہ کیا، قارون کو زمین میں دھنسا دیا اور فرعون کو غرق کر دیا۔

یہ سزائیں خود ان کے کرتوتوں کے لازمی نتائج کے طور پر وقوع پذیر ہوئیں۔ ان سزاؤں کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ نے ان پر ظلم کیا ہو۔ یہاں اہل مکہ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ تم تاریخ کے اس مکافات عمل سے مستثنیٰ نہیں ہو۔ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہونے والا ہے۔


مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ کَمَثَلِ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۖۚ اِتَّخَذَتۡ بَیۡتًا ؕ وَ اِنَّ اَوۡہَنَ الۡبُیُوۡتِ لَبَیۡتُ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ﴿۴۱﴾

۴۱۔ جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا ولی بنایا ہے ان کی مثال اس مکڑی کی سی ہے جو اپنا گھر بناتی ہے اور گھروں میں سب سے کمزور یقینا مکڑی کا گھر ہے اگر یہ لوگ جانتے ہوتے۔

41۔ اس کائنات میں قوت کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے۔ اگر کسی کے پاس کوئی طاقت موجود ہے تو اسی سرچشمے سے متصل اور اسی طاقت کے ذیل میں واقع ہونے کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی اس سلسلے سے باہر چلا جاتا ہے تو اس کی بے ثباتی اور ناتوانی مکڑی کے جالے کی طرح ہے، جو معمولی چوٹ کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔


اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ﴿۴۲﴾

۴۲۔ یہ لوگ اللہ کے علاوہ جس چیز کو پکارتے ہیں اللہ کو یقینا اس کا علم ہے اور وہی بڑا غالب آنے والا،حکمت والا ہے۔


وَ تِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚ وَ مَا یَعۡقِلُہَاۤ اِلَّا الۡعٰلِمُوۡنَ﴿۴۳﴾

۴۳۔ اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں مگر ان کو علم رکھنے والے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔

43۔ عام سطحی ذہن ان مثالوں میں مشبہ بہ (جس کی تشبیہ دی گئی ہے) کی طرف جاتا ہے۔ وہ عظیم ہے تو تمثیل عظیم، وہ حقیر ہے تو تمثیل حقیر ہے۔ جب کہ اہل علم کا ذہن وجہ شبہ کی طرف جاتا ہے۔ مکڑی کی مثال میں عامۃ الناس کا ذہن مکڑی کی طرف اور اہل علم کا ذہن نا پائیداری کی طرف جاتا ہے، جس سے اس مثال کی لطافت سمجھ میں آتی ہے۔