Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِنَّہٗ لَہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ﴿۷۷﴾

۷۷۔ اور یہ اہل ایمان کے لیے یقینا ہدایت اور رحمت ہے۔


اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ بِحُکۡمِہٖ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡعَلِیۡمُ ﴿ۙۚ۷۸﴾

۷۸۔ یقینا آپ کا رب اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ کر دیتا ہے اور وہی بڑا غالب آنے والا ، بڑا علم رکھنے والا ہے۔


فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّکَ عَلَی الۡحَقِّ الۡمُبِیۡنِ﴿۷۹﴾

۷۹۔ لہٰذا آپ اللہ پر بھروسا کریں، یقینا آپ صریح حق پر ہیں۔

79۔ استقامت کے لیے دو بنیادوں کا ذکر ہے: ایک یہ کہ اس کائنات کی طاقت کے سرچشمہ ”اللہ“ پر اپنا بھروسہ قائم رکھو۔ دوم یہ کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صریح حق پر ہیں۔ حق کو دوام حاصل ہے اور باطل زوال پذیر ہے۔


اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ﴿۸۰﴾

۸۰۔ آپ نہ مردوں کو سنا سکتے ہیں نہ ہی بہروں کو اپنی دعوت سنا سکتے ہیں جب وہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں۔

80۔ جن مردوں میں سننے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی نہ ہو آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کو اپنے حق کا پیغام کیسے سنا سکتے ہیں۔ یہ استعارہ ہے ان زندوں کے لیے جو قوت فہم و ادراک سے محروم ہیں۔


وَ مَاۤ اَنۡتَ بِہٰدِی الۡعُمۡیِ عَنۡ ضَلٰلَتِہِمۡ ؕ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ﴿۸۱﴾

۸۱۔ اور نہ ہی آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راستہ دکھا سکتے ہیں، آپ ان لوگوں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرمانبردار بن جاتے ہیں۔


وَ اِذَا وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَہُمۡ دَآبَّۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُکَلِّمُہُمۡ ۙ اَنَّ النَّاسَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوۡقِنُوۡنَ﴿٪۸۲﴾

۸۲۔ اور جب ان پر وعدہ (عذاب) پورا ہونے والا ہو گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک چلنے پھرنے والا نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ درحقیقت لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے۔

82۔ دَآبَّۃً الۡاَرۡضِ: لسان العرب میں آیا ہے: و کل ماش علی الارض دابۃ۔ ہر زمین پر چلنے والے کو دَآبَّۃٍ کہتے ہیں۔ خود قرآن میں بھی انسان کو دابۃ میں شامل کیا گیا ہے: وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا (ہود:6) زمین پر چلنے پھرنے والا کوئی ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔

تفسیر مظہری 9 :50 میں آیا ہے: بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا وہ دَآبَّۃٍ ایسا دَآبَّۃٍ نہ ہو گا جس کی دم ہو، بلکہ وہ داڑھی والا دَآبَّۃٍ ہو گا۔ آپ علیہ السلام کا اس کلام سے اس طرف اشارہ ہے کہ وہ آدمی ہو گا (چوپایہ نہ ہو گا)، لہذا یہ زمین پر چلنے پھرنے والا جو لوگوں سے بات کرے گا، جسے زمین سے نکالا جائے گا، کوئی انسان ہے جسے زمین سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا، جیسا کہ بعض امامی روایات میں آیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی ذات کی طرف اشارہ ہے۔ قرآن اس مطلب کو صراحت کے ساتھ بیان کرنا نہیں چاہتا اور اجمال میں رکھنا چاہتا ہے۔ بہرحال یہ اس وقت کی بات ہے جب عذاب کا آنا یقینی ہو جائے گا اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ اس وقت یہ دَآبَّۃً الۡاَرۡضِ اللہ کی طرف سے اعلان کرے گا۔


وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوۡجًا مِّمَّنۡ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ﴿۸۳﴾

۸۳۔ اور جس روز ہم ہر امت میں سے ایک ایک جماعت کو جمع کریں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتی تھیں پھر انہیں روک دیا جائے گا۔

83۔ آیت کے سیاق سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیامت سے قبل کا واقعہ ہے، کیونکہ قیامت کے دن سب کو جمع کیا جائے گا۔ وَّ حَشَرۡنٰہُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡہُمۡ اَحَدًا ۔ (کہف: 47) جب کہ اس آیت میں ہر امت میں سے ایک ایک جماعت کو جمع کرنے کا ذکر ہے۔ اس لیے جب اس آیت کو قیامت کے دن پر محمول کیا جاتا ہے تو لوگوں کو مطلب سمجھ میں نہیں آتا اور ترجمہ میں تحریف کرنا پڑتی ہے۔


حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡ قَالَ اَکَذَّبۡتُمۡ بِاٰیٰتِیۡ وَ لَمۡ تُحِیۡطُوۡا بِہَا عِلۡمًا اَمَّا ذَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴿۸۴﴾

۸۴۔ جب سب آ جائیں گے تو (اللہ) فرمائے گا: کیا تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا تھا؟ جب کہ ابھی تم انہیں اپنے احاطہ علم میں بھی نہیں لائے تھے اور تم کیا کچھ کرتے تھے؟


وَ وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا فَہُمۡ لَا یَنۡطِقُوۡنَ﴿۸۵﴾

۸۵۔ اور ان کے ظلم کی وجہ سے بات ان کے خلاف پوری ہو کر رہے گی اور وہ بول نہیں سکیں گے۔

85۔ وَ وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ : ان ظالموں کے خلاف جو قول و قرار اللہ کی طرف سے طے تھا، وہ آج وقوع پذیر ہو گیا۔ اب یہ معذرت تک نہیں کر سکتے۔


اَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا الَّیۡلَ لِیَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ النَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ﴿۸۶﴾

۸۶۔ کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے رات اس لیے بنائی کہ وہ اس میں سکون حاصل کریں اور دن کو روشن بنایا؟ ایمان لانے والوں کے لیے اس میں یقینا نشانیاں ہیں۔