Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

ہُوَ الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمۡ فِی الۡاَرۡحَامِ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ﴿۶﴾

۶۔ وہی تو ہے جو (ماؤں کے) رحموں میں جیسی چاہتا ہے تمہاری تصویر بناتا ہے، اس غالب آنے والے، حکمت کے مالک کے سوا کوئی معبود نہیں۔

الارحام ، رحم کی جمع ہے۔ وہ جگہ جہاں جنین کی تخلیق و تدوین اور آیت کی تعبیر کے مطابق صورت گری ہوتی ہے۔ رحم کے اطلاق سے نزول قرآن کے زمانے اور ہمارے زمانے میں رحم مادر ذہنوں میں آتا ہے، کیونکہ گزشتہ زمانے میں ماں کے بغیر رحم کا تصور ممکن نہ تھا۔ قرآنی تعبیر میں الۡاَرۡحَامِ مطلق ذکر ہوا ہے، ارحام الامہات (ماؤں کے رحم) نہیں فرمایا، لہذا رحم میں ہر وہ جگہ شامل ہے جس میں جنین کی پرورش ہوتی ہے۔


ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَ ابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ ۚ؃ وَ مَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘؔ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ﴿۷﴾

۷۔وہی ذات ہے جس نے آپ پر وہ کتاب نازل فرمائی جس کی بعض آیات محکم (واضح) ہیں وہی اصل کتاب ہیں اور کچھ متشابہ ہیں، جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ اور تاویل کی تلاش میں متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، جب کہ اس کی (حقیقی) تاویل تو صرف خدا اور علم میں راسخ مقام رکھنے والے ہی جانتے ہیں جو کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت تو صرف عقل مند ہی قبول کرتے ہیں۔

7۔ قرآن کی آیات دو حصوں میں منقسم ہیں۔ ایک حصہ محکمات اور دوسرا متشابہات پر مشتمل ہے۔ محکم وہ عبارت ہے جس سے مطلب واضح طور پر سمجھ میں آ جائے۔ متشابہ وہ عبارت ہے جس کا مطلب از خود واضح نہ ہو۔ محکمات کو دو اعتبار سے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اول یہ کہ اسلامی دستور کی اہم دفعات محکمات میں یعنی صاف و شفاف الفاظ میں بیان کی گئی ہیں، دوم یہ کہ متشابہات کو سمجھنے کے لیے محکمات کی طرف رجوع کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے محکمات کو ام الکتاب کہا گیا ہے۔ البتہ فتنہ پرور لوگ متشابہات کو محکمات کی طرف لے جانے کی بجائے خود انہیں متشابہات کے ذو معنی ہونے سے اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہیں اور اس کی تاویل گھڑ لیتے ہیں۔ توجہ رہے کہ ہر حکم و عمل کا منطقی محور اور مرکزی نکتہ جس پر اس حکم کا دار و مدار ہوتا ہے، اس کی تاویل ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تاویل اللہ اور راسخون فی العلم جانتے ہیں، آیت میں وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ نیا جملہ نہیں بلکہ سابقہ جملے پر عطف ہے اور یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا جملہ مستانفہ حالیہ ہے اور یہی نظریہ حضرت ابن عباس کا بھی ہے۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: اول الراسخون فی العلم رسول اللّہ ۔ سب سے پہلے راسخ فی العلم رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: نحن الراسخون فی العلم و نحن نعلم تاْویلہ ۔ ہم ہی راسخون فی العلم ہیں اور ہم ہی قرآن کی تاویل جانتے ہیں۔


رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدَیۡتَنَا وَ ہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ﴿۸﴾

۸۔ ہمارے رب! جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عنایت فرما، یقینا تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔

8۔ جیسا کہ سورﮤ حمد کی تشریح میں ذکر ہوا کہ انسان مومن ہر آن اللہ کی طرف سے فیضان ہدایت کا محتاج ہوتا ہے۔ جیسا کہ دعائے ماثور میں آیا ہے: ربّ لا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین ابداً میرے مالک مجھے کبھی بھی ایک لمحے کے لیے بھی میرے حال پر نہ چھوڑ۔


رَبَّنَاۤ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ٪﴿۹﴾

۹۔ہمارے رب! بلاشبہ تو اس روز سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، بے شک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ وَقُوۡدُ النَّارِ ﴿ۙ۱۰﴾

۱۰۔جو لوگ کافر ہو گئے ہیں ان کے اموال و اولاد انہیں اللہ سے ہرگز کچھ بھی بے نیاز نہیں بنائیں گے اور یہ لوگ دوزخ کے ایندھن ہوں گے۔


کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ﴿۱۱﴾

۱۱۔ ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہو گا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے گرفت میں لے لیا اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

11۔ ان کفار کی فکری و عملی روش فرعونیوں کی طرح ہے، جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار کیا اور اپنے جرائم کے انجام کو پہنچ گئے۔ اسی طرح حضرت محمد مصطفیٰ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت کی تکذیب کرنے والوں کا انجام بھی ایسا ہی ہو گا۔


قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَتُغۡلَبُوۡنَ وَ تُحۡشَرُوۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ﴿۱۲﴾

۱۲۔(اے رسول) جنہوں نے انکار کیا ہے ان سے کہدیجئے: تم عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کی طرف اکھٹے کیے جاؤ گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔

12۔ یہ آیت جنگ بدر میں قریش کی شکست فاش کے بعد نازل ہوئی،جب حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہودیوں کو بازار قینقاع میں جمع کیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی نیز انہیں تنبیہ کی کہ کہیں ان کا حشر بھی وہی نہ ہو جائے جو قریش کا ہوا۔ یہودیوں نے کہا: ہم قریش کی طرح فنون حرب سے نابلد نہیں ہیں۔ ہمارے ساتھ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جنگ ہوئی تو آپ ہماری طاقت دیکھ لیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت میں ایک صریح پیشگوئی ہے کہ آئندہ بھی جنگیں ہوں گی اور ان جنگوں میں کفار مغلوب ہو جائیں گے اور فتح و نصرت مسلمانوں کی ہو گی۔


قَدۡ کَانَ لَکُمۡ اٰیَۃٌ فِیۡ فِئَتَیۡنِ الۡتَقَتَا ؕ فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ اُخۡرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوۡنَہُمۡ مِّثۡلَیۡہِمۡ رَاۡیَ الۡعَیۡنِ ؕ وَ اللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً لِّاُولِی الۡاَبۡصَارِ﴿۱۳﴾

۱۳۔ تمہارے لیے ان دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) باہم مقابل ہوئے ایک نشانی تھی، ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا کافر تھا وہ (کفار) ان (مسلمانوں) کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہے تھے اور خدا جسے چاہتا ہے اپنی نصرت سے اس کی تائید کرتا ہے، صاحبان بصیرت کے لیے اس واقعے میں یقینا بڑی عبرت ہے۔

13۔ سنہ 2 ہجری میں واقع ہونے والی جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے، جہاں جنگی ساز و سامان اور تعداد وغیرہ کے لحاظ سے مومنین اور کفار میں نمایاں فرق کے باوجود مومنین کو فتح و نصرت حاصل ہوئی، جو ایک معجزہ تھا۔ یہ رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حقانیت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھی۔ اس جنگ میں دشمن کے ایک ہزار جنگجوؤں کے مقابلے میں 77 مہاجرین اور 236 انصار پر مشتمل مسلمانوں کے صرف 313 سپاہی تھے۔ ایک سو گھوڑوں کے مقابلے میں صرف دو گھوڑے تھے اور تلواروں کی مقدار بھی آٹھ سے زیادہ نہ تھی۔ اس کے باوجود دشمن کو ذلت آمیز شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ مسلمانوں کے صرف بائیس افراد شہید ہوئے، جب کہ دشمن کے ستر افراد مارے گئے اور اتنے ہی اسیر ہو گئے۔


زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الۡبَنِیۡنَ وَ الۡقَنَاطِیۡرِ الۡمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَ الۡفِضَّۃِ وَ الۡخَیۡلِ الۡمُسَوَّمَۃِ وَ الۡاَنۡعَامِ وَ الۡحَرۡثِ ؕ ذٰلِکَ مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ﴿۱۴﴾

۱۴۔ لوگوں کے لیے خواہشات نفس کی رغبت مثلاً عورتیں، بیٹے، سونے اور چاندی کے ڈھیر لگے خزانے، عمدہ گھوڑے، مویشی اور کھیتی زیب و زینت بنا دی گئی ہیں، یہ سب دنیاوی زندگی کے سامان ہیں اور اچھا انجام تو اللہ ہی کے پاس ہے۔

14۔ اسلام کے نزدیک مال اگر خود مقصد ہے تو برا ہے اور اگر کسی نیک مقصد کا ذریعہ ہو تو اسے قرآن نے خیر کہا ہے۔ بالکل کشتی کے لیے پانی کی طرح، یہ پانی اگر کشتی کے نیچے رہے تو پار ہونے کے لیے بہترین ذریعہ ہے اور یہی پانی اگر کشتی کے اندر آ جائے تو اسی پانی میں ہلاکت ہے۔


قُلۡ اَؤُنَبِّئُکُمۡ بِخَیۡرٍ مِّنۡ ذٰلِکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿ۚ۱۵﴾

۱۵۔ کہدیجئے:کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز بتاؤں؟ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے نیز ان کے لیے پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی خوشنودی ہو گی اور اللہ بندوں پر خوب نگاہ رکھنے والا ہے۔