Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ وَ لِقَآئِہٖ فَحَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فَلَا نُقِیۡمُ لَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَزۡنًا﴿۱۰۵﴾

۱۰۵۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں اور اللہ کے حضور جانے کا انکار کیا جس سے ان کے اعمال برباد ہو گئے لہٰذا ہم قیامت کے دن ان کے (اعمال کے) لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔


ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمۡ جَہَنَّمُ بِمَا کَفَرُوۡا وَ اتَّخَذُوۡۤا اٰیٰتِیۡ وَ رُسُلِیۡ ہُزُوًا﴿۱۰۶﴾

۱۰۶۔ ان کے کفر کرنے اور ہماری آیات اور رسولوں کا استہزا کرنے کی وجہ سے ان کی سزا یہی جہنم ہے۔

105۔ 106 جو لوگ بدترین خسارے میں ہیں، ان کے بارے میں بیان جاری ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آیات الٰہی اور آخرت کا انکار کرتے تھے۔ آیات الہی میں آفاق و انفس کے ساتھ رسالت و نبوت بھی شامل ہیں جن کے یہ لوگ منکر ہیں۔ یعنی جو مطلوب تھا وہ کیا نہیں اور جو کیا وہ مطلوب نہ تھا۔ اس لیے حبط ہونا قدرتی بات ہے اور جب حبط ہو گا تو قدروں کے ترازو میں ان اعمال کا کوئی وزن نہ ہو گا۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتۡ لَہُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا﴿۱۰۷﴾ۙ

۱۰۷۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں ان کی میزبانی کے لیے یقینا جنت الفردوس ہے ۔

107۔ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ : فردوس ایسے باغ کو کہتے ہیں جس میں گھنے درخت ہوں اور غالب درخت انگور کے ہوں۔


خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا لَا یَبۡغُوۡنَ عَنۡہَا حِوَلًا﴿۱۰۸﴾

۱۰۸۔ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے کہیں اور جانا پسند نہیں کریں گے۔

10۔ کلمہ بشری استعمال میں اس لفظ کو کہتے ہیں جو کسی معنی پر دلالت کرے۔ اللہ تعالیٰ کے کلمات وہ ارادہ اور وہ تخلیق و ایجاد ہیں جو اپنے خالق اور موجد کی نشاندہی کریں، وہ فیوض ہیں جو ہمیشہ جاری رہتے ہیں: کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ۔ فیض خدا، تخلیق خدا لامحدود ہے۔ ان لامحدود کلمات کا احاطہ کرنا کسی محدود کے بس میں نہیں ہے، خواہ وہ محدود کتنا ہی عظیم اور وسیع کیوں نہ ہو۔


قُلۡ لَّوۡ کَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَ لَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا﴿۱۰۹﴾

۱۰۹۔ کہدیجئے: میرے رب کے کلمات (لکھنے) کے لیے اگر سمندر روشنائی بن جائیں تو سمندر ختم ہو جائیں گے لیکن میرے رب کے کلمات ختم نہیں ہوں گے اگرچہ ہم اتنے ہی مزید (سمندر) سے کمک رسانی کریں۔


قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا﴿۱۱۰﴾٪

۱۱۰۔ کہدیجئے: میں تم ہی جیسا ایک انسان ہوں مگر میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود تو بس ایک ہی ہے لہٰذا جو اپنے رب کے حضور جانے کا امیدوار ہے اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ ٹھہرائے۔

110۔ کہ دیجیے: میں تم جیسا انسان ہوں مِّثۡلُکُمۡ ہوں۔ جسمانی طور پر تم جیسا ہوں، ظاہر بین لوگوں کے لیے تم جیسا ہوں، تمہاری طرح مادی وسائل کو استعمال میں لاتا ہوں، کھاتا اور پیتا ہوں، سوتا ہوں، ازدواج کرتا ہوں اور اولاد رکھتا ہوں۔ تم مجھے دیگر انسانوں کی طرح چلتے، اٹھتے، بیٹھتے اور بات کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہو۔ ایک نامرئی وجود نہیں ہوں لیکن یُوۡحٰۤی اِلَیَّ مجھ پر وحی ہوتی ہے۔ میرے جس وجود پر وحی ہوتی ہے وہ تم جیسا نہیں ہے۔ یعنی میرا دل تمہارے دل کی طرح نہیں ہے۔ میرا دل مخزن راز خدا ہے نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ میری نگاہ بھی تمہاری نگاہوں کی طرح نہیں۔ مَا زَاغَ الۡبَصَرُ وَ مَا طَغٰی ۔ (نجم: 17)


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


کٓہٰیٰعٓصٓ ۟﴿ۚ۱﴾

۱۔ کاف ، ہا، یا، عین، صاد۔


ذِکۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّکَ عَبۡدَہٗ زَکَرِیَّا ۖ﴿ۚ۲﴾

۲۔ یہ اس رحمت کا ذکر ہے جو آپ کے رب نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

2۔ اس آیت میں اس بات پر روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ اللہ اپنے صالح بندوں کی خواہش کس طرح پوری کرتا ہے۔ اگر بندہ خلوص دل سے اللہ سے اپنی ساری امیدیں وابستہ کرتا ہے تو ظاہری وسائل کے فقدان کے باوجود اللہ تعالیٰ اسباب پیدا کرتا ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام خود بڑھاپے میں ہیں اور ان کی زوجہ پہلے ہی بانجھ ہیں۔


اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآءً خَفِیًّا﴿۳﴾

۳۔جب انہوں نے اپنے رب کو دھیمی آواز میں پکارا ۔

3۔ اس سے آداب دعا کا ایک اہم پہلو معلوم ہوا کہ اللہ کو دھیمی آواز میں پکارنا چاہیے۔