Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

سُنَّۃَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیۡلًا﴿٪۷۷﴾

۷۷۔ یہ ہمارا دستور ہے جو ان تمام رسولوں کے ساتھ رہا ہے جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا اور آپ ہمارے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔


اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡہُوۡدًا﴿۷۸﴾

۷۸۔ زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب و عشاء کی) نماز قائم کرو اور فجر کی نماز بھی کیونکہ فجر کی نماز (ملائکہ کے) حضور کا وقت ہے۔

78۔ یعنی زوال آفتاب سے لے کر رات کی تاریکی تک چار نمازوں کا وقت ہے۔ چنانچہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ یعنی زوال آفتاب غَسَقِ الَّیۡلِ یعنی نصف شب تک یہ چار نمازیں ہیں جن کے اوقات کا رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تعین فرمایا اور قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ سے مراد صبح کی نماز ہے۔

نماز فجر کے بارے میں فرمایا: صبح کی نماز مشاہدہ میں آتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ نماز صبح کو مشہود اس لیے کہا ہے کہ تَشْھَدُہُ مَلَائِکَۃُ اللَّیلالِ وَ مَلَائِکَۃُ النَّھَارِ ۔ رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ (الکافی 3 :283)

فقہ جعفری کے مطابق اوقات نماز اس طرح ہیں کہ زوال کی ابتدا ظہر کے ساتھ مخصوص ہے اور دن کا آخری حصہ عصر کے ساتھ مخصوص اور درمیانی وقت دونوں میں مشترک ہے نیز غروب کی ابتدا مغرب کے ساتھ مخصوص اور نصف شب کا آخری حصہ عشاء کے ساتھ مخصوص ہے اور درمیانی وقت دونوں میں مشترک ہے۔


وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا﴿۷۹﴾

۷۹۔ اور رات کا کچھ حصہ قرآن کے ساتھ بیداری میں گزارو، یہ ایک زائد (عمل) صرف آپ کے لیے ہے، امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔

79۔ تہجد نیند توڑنے کے معنوں میں ہے۔ یعنی رات کے آخری حصے میں نماز پڑھنے کو تہجد کہتے ہیں۔ نافلہ کے معنی ہیں فرض سے زائد یعنی یہ نماز پانچ نمازوں سے زائد ہے۔

حدیث میں آیا ہے: تین چیزیں مومن کے لیے باعث افتخار اور دنیا و آخرت کی زینت ہیں۔ آخر شب کی نماز، لوگوں کے مال سے بے نیازی اور آل محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے امام کی ولایت میں اطاعت۔ (الکافی 8: 234)


وَ قُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّ اجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا﴿۸۰﴾

۸۰۔ اور یوں کہیے: میرے رب! تو مجھے (ہر مرحلہ میں ) سچائی کے ساتھ داخل کر اور سچائی کے ساتھ (اس سے) نکال اور اپنے ہاں سے مجھے ایک قوت عطا فرما جو مددگار ثابت ہو۔


وَ قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا﴿۸۱﴾

۸۱۔ اور کہدیجئے: حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل کو تو یقینا مٹنا ہی تھا۔

81۔ یہ اعلان مکی زندگی کے نہایت سنگین مظالم کے سائے میں ہو رہا ہے، جب ان مظالم سے تنگ آکر کچھ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور بظاہر کامیابی کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ اسی مکہ میں حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بتوں پر ضرب لگا رہے تھے اور اسی آیت کی تلاوت کر رہے تھے: وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ۔


وَ نُنَزِّلُ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ مَا ہُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۙ وَ لَا یَزِیۡدُ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا خَسَارًا﴿۸۲﴾

۸۲۔ اور ہم قرآن میں سے ایسی چیز نازل کرتے ہیں جو مومنین کے لیے تو شفا اور رحمت ہے لیکن ظالموں کے لیے تو صرف خسارے میں اضافہ کرتی ہے۔

82۔ قرآن پہلے اخلاقی بیماریوں کو شفا دیتا اور انسانی نفس کو جلا بخشتا ہے نیز رذائل سے پاک کر دیتا ہے، اس کے بعد انسان کو رحمت الٰہی کا اہل بنا دیتا ہے اور اس اہلیت کے نہ ہونے کی وجہ سے یہی قرآن ظالم لوگوں کے لیے رحمت کی جگہ خسارے کا سبب بن جاتا ہے۔


وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ کَانَ یَــُٔوۡسًا﴿۸۳﴾

۸۳۔ اور جب ہم انسان کو نعمتوں سے نوازتے ہیں تو وہ روگردانی کرتا ہے اور اپنی کروٹ پھیر لیتا ہے اور جب اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے۔


قُلۡ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ؕ فَرَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ہُوَ اَہۡدٰی سَبِیۡلًا﴿٪۸۴﴾

۸۴۔کہدیجئے: ہر شخص اپنے مزاج و طبیعت کے مطابق عمل کرتا ہے، پس تمہارا رب بہتر علم رکھتا ہے کہ کون بہترین راہ ہدایت پر ہے۔

84۔ ہر شخص اپنے مزاج و طبیعت کے مطابق کام کرتا ہے، اسے بدلنا اگرچہ مشکل ہے، تاہم ناممکن نہیں ہے۔ انسانی جین (gene) میں وہ بنیادی نقشہ ہوتا ہے جس پر آگے چل کر اس کی شخصیت کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ آگے جو کچھ بننا ہے، وہ اس جین میں کمپیوٹر کے ایک کوڈ کی طرح ملفوف ہوتا ہے۔


وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ وَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِیۡلًا﴿۸۵﴾

۸۵۔ اور لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہدیجئے: روح میرے رب کے امر سے متعلق (ایک راز) ہے اور تمہیں تو بہت کم علم دیا گیا ہے۔

85۔ روح: اس حقیقت کا نام ہے جس سے حیات کی بنیاد پڑتی ہے۔ اسی سے علم اور ہدایت کو بھی روح کہتے جن سے حیات مزید فعال ہو جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن اور وحی کو روح کہا گیا ہے۔

سوال حقیقت حیات سے ہے، جو ابھی تک انسان کے لیے ایک سربستہ راز ہے۔

جواب میں اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا، بلکہ اجمالاً فرمایا کہ یہ عالم امری سے متعلق ہے۔ ممکن ہے عالم خلقی کی باتیں قابل وصف و بیان ہوں، کیونکہ یہ علل و اسباب کے تحت ہوتے ہیں جب کہ عالم امری، کن فیکونی ہوتا ہے۔ اس کی علت بس ارادہ الٰہی ہے۔

تاہم سائنسدانوں کو اس سلسلے میں کچھ پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔ چنانچہ 26 مارچ، 2000 ء کو ایک عظیم انکشاف کا اہم ترین دن قرار دیا گیا او دعویٰ کیا گیا کہ اس روز سینہ کائنات میں پوشیدہ ایک راز، رازِ حیات سے پردہ اٹھ گیا اور انسانی D.N.A میں موجود تین ارب سالموں کی منظم ترتیب کے ذریعے جینیاتی کوڈ کا معمہ حل ہو گیا۔ اس انکشاف سے یہ بات واضح ہو گئی کہ تمام زندہ موجودات کے لیے جبلتی ہدایات اللہ تعالیٰ نے خلیات (cells) کے مرکزی حصے D.N.A میں ودیعت فرمائی ہیں جو تین ارب چھوٹے سالموں پر مشتمل ہے اور حیات کا راز انہی سالموں اور ان کی منظم ترتیب میں پوشیدہ ہے۔ تفصیل کے لیے ہماری تفسیر کا مطالعہ فرمائیں۔


وَ لَئِنۡ شِئۡنَا لَنَذۡہَبَنَّ بِالَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیۡنَا وَکِیۡلًا ﴿ۙ۸۶﴾

۸۶۔ اور اگر ہم چاہیں تو ہم نے جو کچھ آپ کی طرف وحی کی ہے وہ سب سلب کر لیں، پھر آپ کو ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہیں ملے گا۔

86۔ ربط کلام اس طرح ہو سکتا ہے کہ تمہیں تو بہت کم علم دیا گیا ہے اور اے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کو وحی کے ذریعے جو کچھ دیا گیا ہے اس پر بھی آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گرفت نہیں ہے۔ ہم اگر چاہیں تو جو کچھ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وحی کے ذریعے علم دیا گیا ہے وہ سب سلب کر سکتے ہیں اور اگر ہم سلب کرنے پر آئیں تو ہمارے مقابلے میں کوئی حمائتی نہیں ملے گا کہ سلب کرنے نہ دے۔ اِلَّا رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ صرف آپ کے پروردگار کی رحمت ہے جو اس جگہ آپ کے کام آ سکتی ہے۔ عملًا نہ اللہ اس علم کو آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سلب کرے گا، نہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو رحمت رب کے سوا کسی اور حمایتی کی ضرورت ہے۔

اِنَّ فَضۡلَہٗ کَانَ عَلَیۡکَ کَبِیۡرًا : آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر یقینا اللہ کا بڑا فضل ہے جس پر اللہ کا بڑا فضل ہے، اس سے یہ فضل سلب نہیں ہو سکتا۔