Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قَالُوۡا تَاللّٰہِ تَفۡتَؤُا تَذۡکُرُ یُوۡسُفَ حَتّٰی تَکُوۡنَ حَرَضًا اَوۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡہٰلِکِیۡنَ﴿۸۵﴾

۸۵۔ (بیٹوں نے ) کہا: قسم بخدا ! یوسف کو برابر یاد کرتے کرتے آپ جان بلب ہو جائیں گے یا جان دے دیں گے۔


قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَ حُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴿۸۶﴾

۸۶۔ یعقوب نے کہا : میں اپنا اضطراب اور غم صرف اللہ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور اللہ کی جانب سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

86۔ یہ شکوہ اگر کسی اور سے کروں تو بے صبری کہلائے۔ میں تو اس ذات کے سامنے اپنے دل کی حالت کھول کر بیان کرتا ہوں جس سے میری ساری امیدیں وابستہ ہیں۔ عبد معبود کی بارگاہ میں جب اپنا احوال واقعی بیان کرتا ہے تو عین بندگی ہوتی ہے، یہی باتیں اگر غیر خدا سے کی جائیں تو بے صبری ہوتی ہے۔ اسی لیے حضرت یعقوب علیہ السلام فرماتے ہیں: میں تو اپنے غم و اندوہ کا اظہار کسی اور سے نہیں صرف اپنے رب سے کرتا ہوں، جس سے میری ساری امیدیں وابستہ ہیں اور اس سے میں مایوس نہیں ہوں، اس علم کی وجہ سے جو تمہارے پاس نہیں میرے پاس ہے۔


یٰبَنِیَّ اذۡہَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ یُّوۡسُفَ وَ اَخِیۡہِ وَ لَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ﴿۸۷﴾

۸۷۔ اے میرے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کے فیض سے مایوس نہ ہونا کیونکہ اللہ کے فیض سے تو صرف کافر لوگ مایوس ہوتے ہیں۔

87۔حضرت یعقوب علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام اور بنیامین کے یکجا موجود ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور ساتھ یہ درس بھی دے رہے ہیں کہ مومن اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔ کیونکہ اللہ سے مایوس ہونے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس کی قدرت و طاقت محدود ہے اور یہ کفر ہے۔


فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الۡعَزِیۡزُ مَسَّنَا وَ اَہۡلَنَا الضُّرُّ وَ جِئۡنَا بِبِضَاعَۃٍ مُّزۡجٰىۃٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡکَیۡلَ وَ تَصَدَّقۡ عَلَیۡنَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَجۡزِی الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ﴿۸۸﴾

۸۸۔ پھر جب وہ یوسف کے ہاں داخل ہوئے تو کہنے لگے: اے عزیز ! ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت تکلیف میں ہیں اور ہم نہایت ناچیز پونجی لے کر آئے ہیں پس آپ ہمیں پورا غلہ دیجئے اور ہمیں خیرات (بھی) دیجئے، اللہ خیرات دینے والوں کو یقینا اجر عطا کرنے والا ہے۔


قَالَ ہَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِیُوۡسُفَ وَ اَخِیۡہِ اِذۡ اَنۡتُمۡ جٰہِلُوۡنَ﴿۸۹﴾

۸۹۔یوسف نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ جب تم نادان تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

89۔ اس قسم کا طرز خطاب ان لوگوں کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے جن کو ان کی غلط کاریوں کی سرزنش کرنا مقصود ہو۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ابتدائے کلام میں سرزنش کا لہجہ اختیار کیا لیکن معاً اس کی توجیہ بھی بیان فرمائی کہ یہ کام تم لوگوں نے نادانی میں کیا تھا۔


قَالُوۡۤا ءَاِنَّکَ لَاَنۡتَ یُوۡسُفُ ؕ قَالَ اَنَا یُوۡسُفُ وَ ہٰذَاۤ اَخِیۡ ۫ قَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡنَا ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یَّـتَّقِ وَ یَصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ﴿۹۰﴾

۹۰۔ وہ کہنے لگے : کیا واقعی آپ یوسف ہیں ؟ کہا: میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے، اگر کوئی تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

90۔ بھائیوں نے جب یوسف علیہ السلام کو پہچان لیا تو ان کے ذہنوں میں اپنی بدسلوکی اور یوسف علیہ السلام کے حسن سلوک کا تصور گھومنا شروع ہوا ہو گا اور ان دونوں سلوکوں میں موجود نمایاں فرق نے ان کو مزید شرمندہ کیا ہو گا۔ اس جگہ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان عوامل کا ذکر کیا جن کی وجہ سے ان کو کامیابی حاصل ہوئی اور وہ ہیں صبر اور تقویٰ۔ چنانچہ قرآن کی دیگر متعدد آیات میں صبر و تقویٰ کو مشکلات سے نکلنے کا ذریعہ بتایا ہے۔


قَالُوۡا تَاللّٰہِ لَقَدۡ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَ اِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ﴿۹۱﴾

۹۱۔ انہوں نے کہا: قسم بخدا! اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی ہے اور ہم ہی خطاکار تھے۔


قَالَ لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ ؕ یَغۡفِرُ اللّٰہُ لَکُمۡ ۫ وَ ہُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ﴿۹۲﴾

۹۲۔ یوسف نے کہا: آج تم پر کوئی عتاب نہیں ہو گا، اللہ تمہیں معاف کر دے گا اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

92۔ بھائیوں نے جرم کا اعتراف کیا تو صاحب فضیلت حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے فضل کا ثبوت فراہم کیا۔ چنانچہ اس اعتراف کے جواب میں فرمایا: لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ ۔ آج تم پر کوئی عتاب نہیں ہو گا۔ رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی فتح مکہ کے موقع پر اپنے جانی دشمنوں سے درگزر فرماتے ہوئے یہی جملہ دہرایا: لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ ۔


اِذۡہَبُوۡا بِقَمِیۡصِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقُوۡہُ عَلٰی وَجۡہِ اَبِیۡ یَاۡتِ بَصِیۡرًا ۚ وَ اۡتُوۡنِیۡ بِاَہۡلِکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ﴿٪۹۳﴾

۹۳۔ یہ میرا کرتا لے جاؤ پھر اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو تو ان کی بصارت لوٹ آئے گی اور تم اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آنا۔

93۔حضرت یوسف علیہ السلام جانتے تھے کہ بھائیوں نے خون آلود قمیص والد کے سامنے پیش کی تھی، جس نے والد کو غمگین کیا تھا، سو آج قمیص کے ذریعے ہی ان کو خوشخبری دینا چاہتے تھے۔ چنانچہ روایت میں آیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا : میری یہ قمیص وہی شخص میرے والد کے پاس لے جائے جس نے میری خون آلود قمیص والد کے سامنے پیش کی تھی تاکہ جس نے میرے والد کو غمگین کیا وہی انہیں خوشخبری بھی دے۔


وَ لَمَّا فَصَلَتِ الۡعِیۡرُ قَالَ اَبُوۡہُمۡ اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ﴿۹۴﴾

۹۴۔ اور جب یہ قافلہ (مصر کی سرزمین سے) دور ہوا تو ان کے باپ نے کہا: اگر تم مجھے بہکا ہوا نہ سمجھو تو یقینا مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔

94۔ ممکن ہے یہ خوشبو حسی قوت شامہ سے نہیں، بلکہ مشام ماروائے حس سے درک کی ہو جو انبیاء کے لیے بعید نہیں ہے۔