Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا کَانَ حُجَّتَہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ﴿۲۵﴾

۲۵۔ اور جب ان کے سامنے ہماری آیات پوری وضاحت کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں تو ان کی حجت صرف یہی ہوتی ہے کہ وہ کہتے ہیں: اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر کے) لے آؤ۔


قُلِ اللّٰہُ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یَجۡمَعُکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ﴿٪۲۶﴾

۲۶۔ کہدیجئے: اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے پھر تمہیں مار ڈالتا ہے پھر تمہیں قیامت کے دن جس میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔


وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یَوۡمَئِذٍ یَّخۡسَرُ الۡمُبۡطِلُوۡنَ﴿۲۷﴾

۲۷۔ اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے اور جس دن قیامت برپا ہو گی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑ جائیں گے۔

27۔ اگر بفرض محال قیامت کی کوئی حقیقت نہ ہو تو اس کے قائل لوگوں کے لیے کل کوئی ندامت یا کوئی خسارہ نہیں ہو گا، لیکن اگر قیامت کا دن ثابت ہوا تو اس دن باطل پرست لوگ ہی خسارے میں ہوں گے۔


وَ تَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً ۟ کُلُّ اُمَّۃٍ تُدۡعٰۤی اِلٰی کِتٰبِہَا ؕ اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴿۲۸﴾

۲۸۔ اور آپ ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرا ہوا دیکھیں گے اور ہر ایک امت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی، آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے ہو۔

28۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان کے دو نامہ اعمال ہوں گے: ایک انفرادی نامہ عمل اور ایک اجتماعی نامہ عمل۔ یعنی ان اعمال کا جدا حساب ہو گا جن کے ارتکاب میں ساری قوم ملوث ہے۔ جرم تو ایک یزید سے سرزد ہوتا ہے، لیکن ایک قوم ایسی ہے جو اس عمل پر خوش ہے۔ خود کش حملوں سے خون مسلم کی ارزانی چند لوگ کرتے ہیں، لیکن جو لوگ فتویٰ دیتے اور ان کی پشت پر ہوتے ہیں یا اس عمل پر خوش ہوتے ہیں، وہ سب اس جرم میں شامل ہیں۔ یہ جرم اس امت کے نامہ عمل میں درج ہو گا۔ جیسا کہ ہم حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی زیارت میں پڑھتے ہیں: لَعَنَ اللہُ اُمَّۃً سَمِعَتْ بِذَلِکَ فَرَضِیَتْ بِہَ ۔ (التہذیب6: 113) وہ قوم بھی رحمت خدا سے دور ہو جس نے آپ کے قتل کی خبر سنی اور خوش ہوئی۔ چنانچہ ہر امت کی ایک جدا سرنوشت ہے۔ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّۃٍ اَجَلَہَا وَ مَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ ۔ (مومنون:43) کوئی امت اپنے مقررہ وقت سے آگے جا سکتی ہے نہ وہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ قیامت کے روز ہر امت سے ایک گواہ بھی اٹھایا جائے گا۔ (نحل : 89)


ہٰذَا کِتٰبُنَا یَنۡطِقُ عَلَیۡکُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّا کُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴿۲۹﴾

۲۹۔ ہماری یہ کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کر دے گی جو تم کرتے تھے، ہم اسے لکھواتے رہتے تھے۔

29۔ اس کائنات کا حقیقی رازداں ہی جانتا ہے کہ اس نسخہ برداری کی کیا صورت ہو گی۔ ممکن ہے کہ اس عمل کے وقت انسانی جسم میں موجود ہر ذرے سے یہ کام لیا جائے۔ اس کی بہت سی صورتیں اب تک انسان کے علم میں بھی آ چکی ہیں۔ بہرحال یہ نسخہ برداری اس قدر دقیق ہو گی کہ دوسری جگہ فرمایا: لَا یُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحۡصٰہَا (کہف : 49) کوئی بھی چھوٹا اور بڑا عمل ایسا نہ ہو گا جو اس میں ثبت نہ ہو۔


فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدۡخِلُہُمۡ رَبُّہُمۡ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ﴿۳۰﴾

۳۰۔ پھر جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالح بجا لائے انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یہی تو نمایاں کامیابی ہے۔


وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۟ اَفَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَاسۡتَکۡبَرۡتُمۡ وَ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ﴿۳۱﴾

۳۱۔ اور جنہوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا میری آیات تمہیں سنائی نہیں جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم مجرم قوم تھے۔


وَ اِذَا قِیۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ السَّاعَۃُ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا قُلۡتُمۡ مَّا نَدۡرِیۡ مَا السَّاعَۃُ ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحۡنُ بِمُسۡتَیۡقِنِیۡنَ﴿۳۲﴾

۳۲۔ اور جب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے تو تم کہتے تھے: ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے، ہمیں گمان سا ہوتا ہے اور ہم یقین کرنے والے نہیں ہیں۔

32۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کی بہ نسبت اس پر شک کرنے والے اگرچہ منطقی طرز فکر کے نزدیک ہیں، تاہم وہ یقینی دلائل و شواہد کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اس لیے نتیجہ دونوں کا ایک ہی ہو گا۔-


وَ بَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ﴿۳۳﴾

۳۳۔ اور ان پر اپنے اعمال کی برائیاں ظاہر ہو گئیں اور جس چیز کی وہ ہنسی اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔

33۔مجرم جب جرم کا ارتکاب کر رہا ہوتا ہے تو اس کو اپنے جرم کا اندازہ نہیں ہوتا، لیکن جب مکافات عمل کا وقت آتا ہے تو اس وقت اس کی برائی کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ کس درجے کا جرم تھا۔


وَ قِیۡلَ الۡیَوۡمَ نَنۡسٰکُمۡ کَمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا وَ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ﴿۳۴﴾

۳۴۔ اور کہا جائے گا: آج ہم تمہیں اسی طرح بھلا دیتے ہیں جس طرح تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا دیا تھا اور تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں ہے۔

34۔ قیامت کے دن اللہ کی طرف سے بھلا دینے کا مطلب یہ ہے : اللہ ان کو قیامت کی ہولناک حالت پر چھوڑ دے گا، جیسا کہ ان لوگوں نے روز قیامت کے بارے میں ہر ایمان و عمل کو ترک کیا تھا۔