Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَعۡصِمُکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَ بِکُمۡ سُوۡٓءًا اَوۡ اَرَادَ بِکُمۡ رَحۡمَۃً ؕ وَ لَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا﴿۱۷﴾

۱۷۔ کہدیجئے: اللہ سے تمہیں کون بچا سکتا ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے؟ یا تم پر رحمت کرنا چاہے(تو کون روک سکتا ہے؟) اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو نہ ولی پائیں گے اور نہ مددگار۔


قَدۡ یَعۡلَمُ اللّٰہُ الۡمُعَوِّقِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ الۡقَآئِلِیۡنَ لِاِخۡوَانِہِمۡ ہَلُمَّ اِلَیۡنَا ۚ وَ لَا یَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿ۙ۱۸﴾

۱۸۔ اللہ تم میں سے رکاوٹیں ڈالنے والوں کو خوب جانتا ہے اور ان کو جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں: ہماری طرف آؤ اور جو جنگ میں کبھی کبھار ہی شرکت کرتے ہیں۔

18۔ تمہارے درمیان موجود ان منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کی ان باتوں سے اللہ واقف ہے، جو کہتے ہیں: چھوڑ دو اس دین و مذہب کی باتوں کو اور ہماری طرح عافیت کی راہ اختیار کرو۔


اَشِحَّۃً عَلَیۡکُمۡ ۚۖ فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَیۡتَہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ تَدُوۡرُ اَعۡیُنُہُمۡ کَالَّذِیۡ یُغۡشٰی عَلَیۡہِ مِنَ الۡمَوۡتِ ۚ فَاِذَا ذَہَبَ الۡخَوۡفُ سَلَقُوۡکُمۡ بِاَلۡسِنَۃٍ حِدَادٍ اَشِحَّۃً عَلَی الۡخَیۡرِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا فَاَحۡبَطَ اللّٰہُ اَعۡمَالَہُمۡ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا﴿۱۹﴾

۱۹۔ تم سے دریغ رکھتے ہیں چنانچہ جب خوف کا وقت آ جائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ آنکھیں پھیرتے ہوئے ایسے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہو، پھر جب خوف ٹل جاتا ہے تو وہ مفاد کی حرص میں چرب زبانی کے ساتھ تم پر بڑھ چڑھ کر بولیں گے، یہ لوگ ایمان نہیں لائے اس لیے اللہ نے ان کے اعمال حبط کر دیے اور یہ اللہ کے لیے (بہت) آسان ہے۔

19۔ ان لوگوں نے اگر اچھے اعمال انجام دیے ہیں تو بھی ان کے اعمال حبط ہو گئے، کیونکہ ان کے اعمال میں اچھائی ہو تو بھی خود ان لوگوں میں کوئی اچھائی نہیں ہے۔ نہ حسن ایمان، نہ حسن نیت۔

اَشِحَّۃً عَلَیۡکُمۡ : تمہارا ساتھ دینے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ نہ جان کی قربانی دیتے ہیں، نہ مال کی۔ البتہ کامیابی کی صورت میں مالی مفادات حاصل کرنے اور غنیمت میں حصہ جتانے کے لیے چرب زبانی کے ساتھ بولیں گے۔ اسلامی تاریخ ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے کہ جن لوگوں نے رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ جہاد میں ایک کافر کو بھی نہیں مارا، بعد میں اسلام کے پھلنے اور پھیلنے کے بعد انہی لوگوں نے سب سے زیادہ مفادات حاصل کیے۔

فَاَحۡبَطَ اللّٰہُ اَعۡمَالَہُمۡ : منافقین کا کوئی عمل، ابتدا ہی سے عمل تصور نہیں ہوتا کہ بعد میں حبط ہو جائے۔ یہ ان مسلمانوں کا ذکر ہے جن کا عمل جنگ سے فرار نہ ہونے کی صورت میں قبول ہونا تھا۔


یَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ یَذۡہَبُوۡا ۚ وَ اِنۡ یَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ یَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّہُمۡ بَادُوۡنَ فِی الۡاَعۡرَابِ یَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۡۢبَآئِکُمۡ ؕ وَ لَوۡ کَانُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِیۡلًا﴿٪۲۰﴾

۲۰۔ یہ خیال کر رہے ہیں کہ (ابھی) فوجیں گئی نہیں ہیں اور اگر وہ پھر حملہ کریں تو یہ آرزو کریں گے کہ کاش! صحرا میں دیہاتوں میں جا بسیں اور تمہاری خبریں پوچھتے رہیں، اگر وہ تمہارے درمیان ہوتے تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیتے۔


لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا ﴿ؕ۲۱﴾

۲۱۔ بتحقیق تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روز آخرت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔

21۔ اس جنگ میں کوئی ایسی مشقت نہ تھی جو دوسروں نے اٹھائی ہو اور رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نہ اٹھائی ہو۔ خندق کھودنے میں، محاصرے کے دوران بھوک اور پیاس اور سردی کی تکلیفیں اٹھانے میں، جہاد کے تمام مراحل میں رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک بہترین نمونہ تھے۔

لہٰذا رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نمونہ ہیں جہاد کے لیے، نمونہ ہیں مشقت اٹھانے میں، نمونہ ہیں مساوات میں کہ عام رعایا کے برابر مشقت اٹھائی، نمونہ ہیں میدان جنگ میں استقامت کا، نمونہ ہیں دوسروں کے برابر بھوک اور پیاس کی تکلیفیں اٹھانے میں۔


وَ لَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَ مَا زَادَہُمۡ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسۡلِیۡمًا ﴿ؕ۲۲﴾

۲۲۔ اور جب مومنوں نے لشکر دیکھے تو کہنے لگے: یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور تسلیم میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

22۔ راسخ الایمان مومنین کا ذکر ہے، جب ان مومنین نے لشکر احزاب کو دیکھا تو مومنین کو دی گئی فتح و نصرت کی نوید یاد آ گئی اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا، جبکہ منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کی اللہ پر بدگمانی میں اضافہ ہوا۔


مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیۡہِ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ ۫ۖ وَ مَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِیۡلًا ﴿ۙ۲۳﴾

۲۳۔ مومنین میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا، ان میں سے بعض نے اپنی ذمے داری کو پورا کیا اور ان میں سے بعض انتظار کر رہے ہیں اور وہ ذرا بھی نہیں بدلے۔

23۔ عہد شکن لوگوں کے مقابلے میں عہد میں سچوں، بدل جانے والوں کے مقابلے میں نہ بدلنے والوں کا ذکر ہے۔ شواہد التنزیل میں آیا ہے: حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: فینا نزلت یہ آیت ہماری شان میں نازل ہوئی ہے۔ اس جنگ میں حضرت علی علیہ السلام نے عمرو بن عبدود کو قتل کیا، جسے رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مومن اور مشرک کا نہیں، ایمان اور شرک کا مقابلہ قرار دیا۔ برز الایمان کلہ الی الشرک کلہ ۔ (شرح نہج البلاغۃ 13: 262)


لِّیَجۡزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیۡنَ بِصِدۡقِہِمۡ وَ یُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ اِنۡ شَآءَ اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿ۚ۲۴﴾

۲۴۔ تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کی جزا دے اور چاہے تو منافقین کو عذاب دے یا ان کی توبہ قبول کرے، اللہ یقینا بڑا معاف کرنے والا، رحیم ہے۔


وَ رَدَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِغَیۡظِہِمۡ لَمۡ یَنَالُوۡا خَیۡرًا ؕ وَ کَفَی اللّٰہُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ الۡقِتَالَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیۡزًا ﴿ۚ۲۵﴾

۲۵۔ اللہ نے کفار کو اس حال میں پھیر دیا کہ وہ غصے میں (جل رہے) تھے، وہ کوئی فائدہ بھی حاصل نہ کر سکے، لڑائی میں مومنین کے لیے اللہ ہی کافی ہے اور اللہ بڑا طاقت والا، غالب آنے والا ہے۔


وَ اَنۡزَلَ الَّذِیۡنَ ظَاہَرُوۡہُمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مِنۡ صَیَاصِیۡہِمۡ وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعۡبَ فَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ وَ تَاۡسِرُوۡنَ فَرِیۡقًا ﴿ۚ۲۶﴾

۲۶۔ اور اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان (حملہ آوروں) کا ساتھ دیا اللہ نے انہیں ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں (تمہارا) رعب ڈال دیا کہ تم ان میں سے ایک گروہ کو قتل کرنے لگے اور ایک گروہ کو تم نے قیدی بنا لیا۔

26۔ غزوئہ بنی قریظہ کی طرف اشارہ ہے کہ بنی قریظہ کے یہودیوں کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ تھا۔ اس کے باوجود ان لوگوں نے جنگ احزاب میں مشرکین کی حمایت اور کمک کی تھی۔جنگ خندق کی فتح کے بعد حکم خدا سے رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بنی قریظہ کا محاصرہ کیا، پچیس راتوں کے بعد بنی قریظہ کے یہودیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے بہت بڑا اسلحہ ذخیرہ کر رکھا تھا یا اس سے پہلے ان یہودیوں نے مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کی تھی اور مشرکین کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ تیسری بات یہ ہے کہ بنی قینقاع کے یہودیوں کو عبد اللہ بن ابی (منافق) کے حلیف ہونے کی بنیاد پر اس کے کہنے پر چھوڑ دیا گیا تو یہ یہودی خیبر اور دیگر علاقوں میں جا کر مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے لگے۔ اس لیے ان یہودیوں کو قتل کرنا لازمی ہو گیا تھا۔