Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ قَدِمۡنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنۡ عَمَلٍ فَجَعَلۡنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾

۲۳۔ پھر ہم ان کے کیے ہوئے عمل کی طرف توجہ کریں گے اور ان کے کیے ہوئے عمل کو اڑتی ہوئی خاک بنا دیں گے۔

23۔ مشرک ایک مجرم ہے اس میں کوئی حُسۡنُ نہیں ہے۔ عمل کرنے والا مجرم ہے تو اس کے عمل میں کوئی حسن نہیں آئے گا۔ لہٰذا جس شخص میں ایمان نہیں اس میں کوئی حسن نہیں۔ نتیجتاً اس کے عمل میں بھی کوئی حسن نہ ہو گا۔

ہَبَآءً : ان زروں کو کہتے ہیں جو روشندانوں سے آنے والی سورج کی روشنی میں غبار کی طرح نظر آتے ہیں۔


اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ یَوۡمَئِذٍ خَیۡرٌ مُّسۡتَقَرًّا وَّ اَحۡسَنُ مَقِیۡلًا﴿۲۴﴾

۲۴۔ اہل جنت اس دن بہترین ٹھکانے اور بہترین سکون کی جگہ میں ہوں گے۔


وَ یَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ وَ نُزِّلَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ تَنۡزِیۡلًا﴿۲۵﴾

۲۵۔ اور اس دن آسمان ایک بادل کے ذریعے پھٹ جائے گا اور فرشتے لگاتار نازل کیے جائیں گے۔

25۔ آسمان پھٹ جائے گا۔ یعنی آسمان کے راستے کھل جائیں گے اور بادل کے سائبانوں میں فرشتے زمین پر اتریں گے۔


اَلۡمُلۡکُ یَوۡمَئِذِۣ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ؕ وَ کَانَ یَوۡمًا عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ عَسِیۡرًا﴿۲۶﴾

۲۶۔ اس دن سچی بادشاہی صرف خدائے رحمن کی ہو گی اور کفار کے لیے وہ بہت مشکل دن ہو گا۔


وَ یَوۡمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیۡہِ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِی اتَّخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِیۡلًا﴿۲۷﴾

۲۷۔ اور اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور کہے گا: کاش میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔


یٰوَیۡلَتٰی لَیۡتَنِیۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِیۡلًا﴿۲۸﴾

۲۸۔ ہائے تباہی! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔


لَقَدۡ اَضَلَّنِیۡ عَنِ الذِّکۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِیۡ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴿۲۹﴾

۲۹۔ اس نے مجھے نصیحت سے گمراہ کر دیا جب کہ میرے پاس نصیحت آ چکی تھی اور انسان کے لیے شیطان بڑا ہی دغا باز ہے۔

29۔ ایسا اکثر ہوتا ہے اور تاریخ اسلام میں بھی ہوا ہے کہ اچھے خاصے دینداروں کو مفاد پرستوں نے گمراہ کیا اور اپنے نا جائز عمل کی توجیہ کر کے اپنے آپ کو اور دوسروں کو جھوٹی تسلی دیتے رہے۔


وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا﴿۳۰﴾

۳۰۔ اور رسول کہیں گے: اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو واقعی ترک کر دیا تھا۔

30۔ قیامت کے روز جہاں گمراہ لوگ اپنے کیے پر نادم ہوں گے، وہاں رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اللہ کی بارگاہ میں ان مجرموں کے جرم سے متعلق جو بنیادی مسئلہ اٹھائیں گے، وہ ہے قرآن کو ترک کرنا اور جو دستور حیات آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انسانوں کے لیے عنایت فرمایا تھا اسے ان لوگوں نے قابل اعتنا نہ سمجھا اور اس کی جگہ انسان کے خود ساختہ دستور حیات پر عمل کرنے اور اس کے مطابق فیصلے کرنے کو قابل فخر سمجھا۔


وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ ہَادِیًا وَّ نَصِیۡرًا﴿۳۱﴾

۳۱۔ اور اس طرح ہم نے ہر نبی کے لیے مجرمین میں سے بعض کو دشمن بنایا ہے اور ہدایت اور مدد دینے کے لیے آپ کا رب کافی ہے۔

31۔ ہماری سنت (روش) اس طرح نہیں ہے کہ ادھر انبیاء کی طرف سے حق کی دعوت آ گئی ادھر لوگ اس کی طرف جوق در جوق آ جاتے ہوں بلکہ اس دعوت کے سامنے دشمنوں کی بہت بڑی رکاوٹ حائل ہو گی اور مشکلات و صعوبتوں کے حوصلہ شکن سلسلوں کو پھلانگنا پڑے گا۔ اگر یہ کوئی آسان کام ہوتا تو سب یہ کام کرتے اور حق و باطل میں تمیز ختم ہو جاتی۔ البتہ استقامت اور ثابت قدمی دکھانے کے بعد آخر میں اللہ کی نصرت آ جاتی ہے۔


وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَۃً وَّاحِدَۃً ۚۛ کَذٰلِکَ ۚۛ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَ رَتَّلۡنٰہُ تَرۡتِیۡلًا﴿۳۲﴾

۳۲۔ اور کفار کہتے ہیں: اس (شخص) پر قرآن یکبارگی نازل کیوں نہیں ہوا ؟ (بات یہ ہے کہ) اس طرح (آہستہ اس لیے اتارا) تاکہ اس سے ہم آپ کے قلب کو تقویت دیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنایا ہے۔

32۔ قرآن کو دفعتاً نہیں تدریجاً نازل کرنے کی بنیادی وجہ یہ بتائی کہ اس کے ذریعے اللہ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دل کو ثبات دیتا رہا۔ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دل کی کمزوری سے کوئی عدم ثبات کا خطرہ نہ تھا، بلکہ جس جاہلی معاشرے کی تربیت کرنا تھی اس کے لیے وقت درکار تھا۔ دفعتاً کتاب پڑھانے سے یہ مسئلہ حل نہ ہوتا۔ اس عظیم انقلاب کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے فطرت سے ہم آہنگ تدریجی قدم اٹھانا ضروری تھا۔