Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾

۷۔ لہٰذا جو ان کے علاوہ اوروں کے طالب ہو جائیں تو وہ زیادتی کرنے والے ہوں گے۔


وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾

۸۔ اور وہ جو اپنی امانتوں اور معاہدوں کا پاس رکھنے والے ہیں،


وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَوٰتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾

۹۔ اور جو اپنی نمازوں کی محافظت کرنے والے ہیں،


اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾

۱۰۔ یہی لوگ وارث ہوں گے،


الَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۱۱﴾

۱۱۔ جو (جنت) فردوس کی میراث پائیں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔


وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۚ۱۲﴾

۱۲۔ اور بتحقیق ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے بنایا۔


ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ﴿۪۱۳﴾

۱۳۔ پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ پر نطفہ بنا دیا۔

13۔ ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً : پھر ہم نے اس مٹی کو نطفہ بنا دیا۔ اس وقت تک کی معلومات کے مطابق نطفہ نصف سیل (Cell) کا نام ہے جو جرثومہ پدر اور تخم مادر سے عبارت ہے۔ آیت کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب جرثومہ پدر تخم مادر کے ساتھ مل جاتا ہے تو نطفہ وجود میں آتا ہے۔ فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ اس نطفے کو ایسے مستقر میں رکھ دیا جو مکین یعنی طاقتور ہے۔ جو اس نطفے کو تحفظ دے سکتا اور اس کی پرورش کر سکتا ہے۔ یہ طاقتور جگہ رحم مادر ہے۔


ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾

۱۴۔ پھر ہم نے نطفے کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کو بوٹی کی شکل دی پھر بوٹی سے ہڈیاں بنا دیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر ہم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنا دیا، پس بابرکت ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین خالق ہے

14۔ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ : حیات و شعور کا مالک بنا دیا۔ حیات اس کائنات کی پراسرار مخلوق اور اپنے خالق کی خلاقیت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔


ثُمَّ اِنَّکُمۡ بَعۡدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوۡنَ ﴿ؕ۱۵﴾

۱۵۔پھر اس کے بعد تم بلاشبہ مر جاتے ہو۔


ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ تُبۡعَثُوۡنَ﴿۱۶﴾

۱۶۔ پھر تمہیں قیامت کے دن یقینا اٹھایا جائے گا۔