Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ فَاَصۡبَحَ ہَشِیۡمًا تَذۡرُوۡہُ الرِّیٰحُ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقۡتَدِرًا﴿۴۵﴾

۴۵۔ اور ان کے لیے دنیاوی زندگی کی یہ مثال پیش کریں: یہ زندگی اس پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمان سے برسایا جس سے زمین کی روئیدگی گھنی ہو گئی پھر وہ ریزہ ریزہ ہو گئی، ہوائیں اسے اڑاتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔


اَلۡمَالُ وَ الۡبَنُوۡنَ زِیۡنَۃُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ الۡبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیۡرٌ عِنۡدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ اَمَلًا﴿۴۶﴾

۴۶۔ مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور ہمیشہ باقی رہنے والی نیکیاں آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور امید کے اعتبار سے بھی بہترین ہیں۔

46۔ اگر انسان مال و دولت کو ایک مقدس مقصد کے لیے ذریعہ نہ بنائے اور خود اسی کو مقصد قرار دے تو یہ صرف چند روزہ دنیوی زندگی کے لیے ایک عارضی زیب و زینت ہے، جبکہ نیکیاں ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں۔

شیعہ و سنی مآخذ میں کثرت سے یہ روایت ملتی ہے کہ باقیات صالحات سے مراد تسبیحات اربعہ سبحان اللہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر ہیں۔ بعض دیگر روایات کے مطابق اس سے مراد نماز ہے۔ در حقیقت ان روایات میں باقیات صالحات کے اہم مصادیق کا ذکر ہے۔


وَ یَوۡمَ نُسَیِّرُ الۡجِبَالَ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ بَارِزَۃً ۙ وَّ حَشَرۡنٰہُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡہُمۡ اَحَدًا ﴿ۚ۴۷﴾

۴۷۔ اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور زمین کو آپ صاف میدان دیکھیں گے اور سب کو ہم جمع کریں گے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔


وَ عُرِضُوۡا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا ؕ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا کَمَا خَلَقۡنٰکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍۭ ۫ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ اَلَّنۡ نَّجۡعَلَ لَکُمۡ مَّوۡعِدًا﴿۴۸﴾

۴۸۔ اور وہ صف در صف تیرے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے (تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا) تم اسی طرح ہمارے پاس آ گئے ہو جیسا کہ ہم نے پہلی بار تمہیں خلق کیا تھا، بلکہ تمہیں تو گمان تھا کہ ہم نے تمہارے لیے وعدے کا کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے۔


وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ فَتَرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا فِیۡہِ وَ یَقُوۡلُوۡنَ یٰوَیۡلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الۡکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحۡصٰہَا ۚ وَ وَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ؕ وَ لَا یَظۡلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا﴿٪۴۹﴾

۴۹۔ اور نامۂ اعمال (سامنے) رکھ دیا جائے گا، اس وقت آپ دیکھیں گے کہ مجرمین اس کے مندرجات کو دیکھ کر ڈر رہے ہیں اور یہ کہ رہے ہیں: ہائے ہماری رسوائی! یہ کیسا نامۂ اعمال ہے؟ اس نے کسی چھوٹی اور بڑی بات کو نہیں چھوڑا (بلکہ) سب کو درج کر لیا ہے اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ ان سب کو حاضر پائیں گے اور آپ کا رب تو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

49۔ جو کچھ ان لوگوں نے کیا تھا وہ ان کو اپنے سامنے حاضر پائیں گے۔ یعنی خود عمل کو حاضر پائیں گے۔ پہلے بھی ذکر ہوا ہے کہ انسان کا عمل جب ایک بار وجود میں آتا ہے تو مٹتا نہیں ہے۔ ممکن ہے قیامت کے دن اسی عمل کو دکھایا جائے اور انسان کو اس حال میں دکھایا جائے کہ وہ یہ عمل انجام دے رہا ہے، جس میں ہر چھوٹی اور بڑی حرکت نظر آئے گی اور ان کے جرائم کے عین مطابق سزا دی جائے گی۔ نہ اس کتاب کے مندرجات میں زیادتی ہو گی، نہ اس کے مطابق سزا دینے میں۔


وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ کَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہٖ ؕ اَفَتَتَّخِذُوۡنَہٗ وَ ذُرِّیَّتَہٗۤ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِیۡ وَ ہُمۡ لَکُمۡ عَدُوٌّ ؕ بِئۡسَ لِلظّٰلِمِیۡنَ بَدَلًا﴿۵۰﴾

۵۰۔ اور (یہ بات بھی) یاد کریں جب ہم نے فرشتوں سے کہا:آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ جنات میں سے تھا، پس وہ اپنے رب کی اطاعت سے خارج ہو گیا، تو کیا تم لوگ میرے سوا اسے اور اس کی نسل کو اپنا سرپرست بناؤ گے حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟یہ ظالموں کے لیے برا بدل ہے۔

50۔ ابلیس جنات میں سے ہونے کی وجہ سے انسان کی طرح اپنے ارادے میں خود مختار ہے۔ وہ نیکی بھی کر سکتا ہے اور برائی بھی۔ اسی لیے اس نے اطاعت الٰہی سے سرکشی کی۔


مَاۤ اَشۡہَدۡتُّہُمۡ خَلۡقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لَا خَلۡقَ اَنۡفُسِہِمۡ ۪ وَ مَا کُنۡتُ مُتَّخِذَ الۡمُضِلِّیۡنَ عَضُدًا﴿۵۱﴾

۵۱۔ میں نے انہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا مشاہدہ نہیں کرایا اور نہ خود ان کی اپنی تخلیق کا اور میں کسی گمراہ کرنے والے کو اپنا مددگار بنانے والا نہیں ہوں۔

51۔ مَاۤ اَشۡہَدۡتُّہُمۡ میں ہُمۡ کی ضمیر اگر ابلیس اور اس کی اولاد کی طرف جاتی ہے تو آیت کا مطلب یہ بنتا ہے: ہم نے ابلیس اور اس کی اولاد کو کائنات کی خلقت کے وقت حاضر نہیں کیا تھا کہ ابلیس کا بھی تدبیر کائنات میں کوئی حصہ ہو، کیونکہ جب تخلیق کا مشاہدہ نہیں ہے تو ابلیس اور اس کی اولاد کو اس بارے میں علم نہیں ہے اور جب علم نہیں ہے تو علم کے بغیر تدبیر کیسے کر سکتے ہیں۔ علم کے بغیر شفاعت بھی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جہاں شفاعت کا ذکر کیا ہے، غالباً وہاں علم کا بھی ذکر آیا ہے۔

یہاں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا اللہ کو کسی کو بازو بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ اللہ کائنات کے نظام کے لیے ذرائع استعمال فرماتا ہے، احتیاج کی بنیاد پر نہیں حکمت کی بنیاد پر۔ حضرت علی علیہ السلام سے جب کہا گیا کہ آپ علیہ السلام کی حکومت کی مصلحت اس میں ہے کہ فی الحال معاویہ کو معزول نہ کیا جائے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں ظلم و جور کے ذریعے عدل قائم نہیں کروں گا۔ پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی۔

ایک نہایت قابل توجہ مطلب یہ ہے کہ اکثر یہ مسئلہ ہماری دینی زندگی میں پیش آتا ہے کہ ہم ایک کار خیر کے لیے دانستہ یا نادانستہ طور پر گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ثواب کے حصول کی راہ میں گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ ایک مسجد، مدرسہ، امام بارگاہ یا مجلس قائم کرنے کے سلسلے میں کسی مومن کی غیبت یا کسی کی اہانت کرتے ہیں یا کسی کا حق مارتے ہیں، اس سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ ہم اس کار خیر کو اللہ کی رضا جوئی کے لیے نہیں کر رہے تھے، ورنہ اس کار خیر کے ذریعے اللہ کو ناراض نہ کرتے۔ فَاعۡتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الۡاَبۡصَارِ ۔


وَ یَوۡمَ یَقُوۡلُ نَادُوۡا شُرَکَآءِیَ الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ فَدَعَوۡہُمۡ فَلَمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَہُمۡ وَ جَعَلۡنَا بَیۡنَہُمۡ مَّوۡبِقًا﴿۵۲﴾

۵۲۔ اور جس دن اللہ فرمائے گا: انہیں بلاؤ جنہیں تم نے میرا شریک ٹھہرایا تھا تو وہ انہیں بلائیں گے لیکن وہ انہیں جواب نہیں دیں گے اور ہم ان کے درمیان ہلاکت کی ایک جگہ بنا دیں گے۔


وَ رَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ مُّوَاقِعُوۡہَا وَ لَمۡ یَجِدُوۡا عَنۡہَا مَصۡرِفًا﴿٪۵۳﴾

۵۳۔ اور مجرمین اس دن آتش جہنم کا مشاہدہ کریں گے اور سمجھ جائیں گے کہ انہیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔


وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِلنَّاسِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ اَکۡثَرَ شَیۡءٍ جَدَلًا﴿۵۴﴾

۵۴۔ اور بتحقیق ہم نے اس قرآن میں انسانوں کے لیے ہر مضمون کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو (ثابت ہوا ) ہے۔