Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَ لَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا﴿۳۷﴾

۳۷۔ اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو، بلاشبہ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ ہی بلندی کے لحاظ سے پہاڑوں تک پہنچ سکتے ہو۔


کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنۡدَ رَبِّکَ مَکۡرُوۡہًا﴿۳۸﴾

۳۸۔ ان سب کی برائی آپ کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔

37۔38 تکبر کرنے والا عموماً اپنی چال میں اپنی بڑائی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ چنانچہ بردباری کا اظہار بھی چال کے ذریعے ہوتا ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے تکبر انسان کی شخصیت میں احساس خلا کے تدارک کی ناکام کوشش ہے، جس طرح نیم خواندہ شخص اپنے علمی خلا کو القاب کے ذریعے پر کرنا چاہتا ہے۔ چونکہ تکبر کا تعلق دوسروں سے بھی ہے یعنی متکبر شخص دوسروں کو زیر اور اپنے آپ کو دوسروں سے اونچا دکھانا چاہتا ہے، اس لیے تکبر ایک ایسی بیماری ہے جس کے منفی اثرات معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ لوگ تکبر کرنے والوں سے متنفر ہوتے ہیں جس سے باہمی مودت و محبت متاثر ہوتی ہے۔


ذٰلِکَ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤی اِلَیۡکَ رَبُّکَ مِنَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ وَ لَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتُلۡقٰی فِیۡ جَہَنَّمَ مَلُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا﴿۳۹﴾

۳۹۔ یہ حکمت کی وہ باتیں ہیں جو آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی کی ہیں اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ ورنہ ملامت کا نشانہ اور راندہ درگاہ بنا کر جہنم میں ڈال دیے جاؤ گے۔

39۔ اگرچہ خطاب رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ہے۔ لیکن اصل مخاطب ہر انسان ہے۔ قرآن مجید اس قسم کا طرز خطاب اس وقت اختیار کرتا ہے جب موضوع اہمیت کا حامل ہو۔ جیسے کوئی شخص اپنے غلاموں کو ایک اہم ترین حکم دینا چاہتا ہے تو وہ اپنے عزیز بیٹے کو خطاب کر کے کہ دے کہ اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں تیرا انجام اچھا نہ ہو گا تو غلاموں کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ موضوع کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔


اَفَاَصۡفٰىکُمۡ رَبُّکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا ؕ اِنَّکُمۡ لَتَقُوۡلُوۡنَ قَوۡلًا عَظِیۡمًا﴿٪۴۰﴾

۴۰۔ (اے مشرکین) کیا تمہارے رب نے تم کو بیٹوں کے لیے چن لیا اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا، بتحقیق تم لوگ بہت بڑی (گستاخی کی) بات کرتے ہو۔


وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِیَذَّکَّرُوۡا ؕ وَ مَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا نُفُوۡرًا﴿۴۱﴾

۴۱۔اور ہم نے اس قرآن میں (دلائل کو) مختلف انداز میں بیان کیا ہے تاکہ یہ لوگ سمجھ لیں مگر وہ مزید دور جا رہے ہیں۔

41۔ قرآن نے اپنی تعلیمات کے بارے میں کوئی ابہام نہیں چھوڑا ہے۔ مشرکین اگر توحید کو نہیں مانتے تو یہ اس لیے نہیں کہ دلیل میں قوت نہیں ہے، بلکہ یہ ان مشرکین کے عناد کی وجہ سے ہے کہ وہ ان دلائل سے متاثر ہونے کی بجائے مزید متنفر ہو جاتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں دلائل قائم کرنے کا کیا فائدہ؟ جواب یہ ہے کہ اگرچہ ان دلائل سے چند معاندین کی نفرت میں اضافہ ہو گا مگر ان دلائل سے ہدایت لینے والے تا قیامت ہدایت لیتے رہیں گے اور معاندین پر حجت پوری ہو جائے گی۔


قُلۡ لَّوۡ کَانَ مَعَہٗۤ اٰلِـہَۃٌ کَمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰی ذِی الۡعَرۡشِ سَبِیۡلًا﴿۴۲﴾

۴۲۔ کہدیجئے: اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہ رہے ہیں تو وہ مالک عرش تک پہنچنے کے لیے راستہ تلاش کرتے۔

42۔ اس کائنات میں دوسرے خداؤں کا بھی دخل ہوتا تو ان خداؤں کے ارادوں میں تصادم ہوتا اور نظم کائنات درہم برہم ہو جاتا۔ بعض مفسرین کی رائے کے مطابق اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے: تو وہ مالک عرش کے مقابلے میں آنے کی کوشش کرتے


سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا کَبِیۡرًا﴿۴۳﴾

۴۳۔ پاکیزہ اور بالاتر ہے وہ ان باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔


تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ وَ لٰکِنۡ لَّا تَفۡقَہُوۡنَ تَسۡبِیۡحَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیۡمًا غَفُوۡرًا﴿۴۴﴾

۴۴۔ ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں جو موجودات ہیں سب اس کی تسبیح کرتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی ثناء میں تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو، اللہ یقینا نہایت بردبار، معاف کرنے والا ہے۔

44۔ تسبیح تنزیہ الہٰی بیان کرنے کو کہتے ہیں کہ اس کی ذات ہر نقص و عیب سے پاک ہے اور کائنات کی ہر چیز تسبیح کرتی ہے۔ تسبیح ارادے کے ساتھ تنزیہ کرنے کو کہتے ہیں۔ اس لیے آیت سے یہ بات بھی ضمناً ثابت ہو جاتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز میں شعور ہے۔ قرآن میں ہدہد اور چیونٹی کے شعور کا ذکر ملتا ہے۔ سورۃ انبیاء آیت 79 اور سورۃ ص آیت 18 میں پہاڑوں کی تسبیح کا ذکر ہے۔ انسان اور باقی موجودات کے درجاتِ شعور میں نمایاں فرق کی وجہ سے انسان اس شعور کا ادراک نہیں کر سکتا جو اپنے سے مختلف درجہ میں ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر شے کی تسبیح سے زبان حال کو مراد لینا آیت کی ظاہری دلالت کے ساتھ سازگار نہیں ہے کہ قرآن کہے ان کی تسبیح کو تم سمجھتے نہیں اور ہم کہیں:ہم نے سمجھ لیا ہے اور اس سے مراد زبان حال ہے۔


وَ اِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾

۴۵۔ اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک نامرئی پردہ حائل کر دیتے ہیں۔


وَّ جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ وَ اِذَا ذَکَرۡتَ رَبَّکَ فِی الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَہٗ وَلَّوۡا عَلٰۤی اَدۡبَارِہِمۡ نُفُوۡرًا﴿۴۶﴾

۴۶۔ اور ہم ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتے ہیں کہ وہ کچھ سمجھ ہی نہ سکیں اور ان کے کانوں میں سنگینی کر دیتے ہیں اور جب آپ قرآن میں اپنے یکتا رب کا ذکر کرتے ہیں تو وہ نفرت سے اپنی پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔

46۔ یہ آیت مکہ کے ان مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جب رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رات کو تلاوت قرآن کرتے تھے اور خانہ کعبہ کے پاس نماز ادا فرماتے تھے تو وہ ان کو اذیت دیتے اور ان کو پتھر مارتے اور اسلام کی طرف لوگوں کو دعوت دینے میں حائل ہوتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے لطف و کرم فرمایا اور تلاوت قرآن کے وقت وہ حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اذیت نہیں دے سکتے تھے۔ (مجمع البیان)