Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِذۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ الۡفُرۡقَانَ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ﴿۵۳﴾

۵۳۔ اور (وہ وقت بھی یاد کرو ) جب ہم نے موسیٰ کو(توریت) کتاب اور فرقان (حق و باطل میں امتیاز کرنے والا قانون) عطا کیا تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔


وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ اِنَّکُمۡ ظَلَمۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ بِاتِّخَاذِکُمُ الۡعِجۡلَ فَتُوۡبُوۡۤا اِلٰی بَارِئِکُمۡ فَاقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ عِنۡدَ بَارِئِکُمۡ ؕ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ﴿۵۴﴾

۵۴۔ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم! تم نے گوسالہ اختیار کر کے یقینا اپنے آپ پر ظلم کیا ہے پس اپنے خالق کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اپنے لوگوں کو قتل کرو، تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے پھر اس نے تمہاری توبہ قبول کر لی، بے شک وہ خوب توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔


وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ﴿۵۵﴾

۵۵۔ اور (یاد کرو وہ وقت) جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم آپ پر ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک ہم خدا کو علانیہ نہ دیکھ لیں، اس پر بجلی نے تمہیں گرفت میں لے لیا اور تم دیکھتے رہ گئے۔

55۔ قوم موسیٰ علیہ السلام نے کہا : ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ اللہ آپ علیہ السلام سے ہمکلام ہوتا ہے اور آپ علیہ السلام اس کے نبی ہیں، کیونکہ وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔ ہم اس وقت تک آپ علیہ السلام کی باتوں پر یقین نہیں کریں گے جب تک خدا کو ظاہری آنکھوں سے علانیہ دیکھ نہ لیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ستر معتبر افراد کو لے کر کوہ طور پر گئے اور خدا سے آشکار ہونے کا مطالبہ کیا جس پروہ سب صَاعِقَہ کی نذر ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ جہالت پر مبنی ہونے کے علاوہ شان خداوندی کے منافی تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑی سرعت سے بلا فاصلہ نازل ہوا۔


ثُمَّ بَعَثۡنٰکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ﴿۵۶﴾

۵۶۔ پھر تمہارے مرنے کے بعد ہم نے تمہیں اٹھایا کہ شاید تم شکر گزار بن جاؤ۔


وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ﴿۵۷﴾

۵۷۔ اور ہم نے تمہارے اوپر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا، ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عنایت کی ہیں اور وہ ہم پر نہیں بلکہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔

57۔ مَن سے مراد وہ خصوصی غذا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحرائے سینا میں بنی اسرائیل پر نازل فرمائی۔ بقول توریت مَن اوس کی شکل میں نازل ہوتی تھی۔ لفظ سلوٰی ان پرندوں کے لیے استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحرائے سینا میں اسرائیلیوں کے لیے بھیجے تھے۔


وَ اِذۡ قُلۡنَا ادۡخُلُوۡا ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃَ فَکُلُوۡا مِنۡہَا حَیۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا وَّ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ خَطٰیٰکُمۡ ؕ وَ سَنَزِیۡدُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ﴿۵۸﴾

۵۸۔اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے کہا تھا: اس بستی میں داخل ہو جاؤ اور فراوانی کے ساتھ جہاں سے چاہو کھاؤ اور (شہر کے) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور کہو: گناہوں کو بخش دے تو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے اور ہم نیکوکاروں کو زیادہ ہی عطا کریں گے۔

58۔ چالیس سال کی سزا کاٹنے کے بعد جب انہیں ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم ملا تو ان سے صرف یہ کہا گیا کہ داخل ہوتے وقت اپنے گناہوں سے توبہ کرنا اور حِطَّۃٌ ”گناہ بخش دے“ کہنا لیکن انہوں نے اس حکم کا مذاق اڑایا اور حنطۃ گیہوں کہ دیا۔ الۡبَابَ سے مراد ممکن ہے کہ بیت المقدس کا وہ دروازہ ہو جسے آج بھی باب حطۃ کہا جاتا ہے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: نحن باب حطتکم ۔ ”ہم تمہارے لیے باب حطۃ ہیں“ ۔(بحار الانوار 13: 168)


فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمۡ فَاَنۡزَلۡنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ﴿٪۵۹﴾

۵۹۔ مگر ظالموں نے اس قول کو جس کا انہیں کہا گیا تھا دوسرے قول سے بدل دیا تو ہم نے ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا کیونکہ وہ نافرمانی کرتے رہتے تھے۔


وَ اِذِ اسۡتَسۡقٰی مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ فَقُلۡنَا اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ؕ فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَاعَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ اللّٰہِ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ﴿۶۰﴾

۶۰۔ اور ( اس وقت کو یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی طلب کیا تو ہم نے کہا: اپنا عصا پتھر پر ماریں۔ پس (پتھر پر عصا مارنے کے نتیجے میں) اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، ہر گروہ کو اپنے گھاٹ کا علم ہو گیا، اللہ کے رزق سے کھاؤ اور پیو اور ملک میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔

60۔ معجزات قانون طبیعیت کی عام دفعات کے بالکل مطابق نہیں ہوتے۔ ایک چٹان سے بارہ چشموں کا پھوٹنا عقلاً ممکن ہے، لیکن دو گز کا عصا مارنے سے نہیں، اس لیے معجزات سائنسی تجربات اور معمولات پر پورا نہیں اترتے۔ بعض مرعوب اذہان سائنسی اصولوں کے مطابق معجزات کی تاویل کرتے ہیں، حالانکہ فزیکلی قوانین کی عام سطحی دفعات اور ان کے کلیے دائمی حیثیت نہیں رکھتے اور ان سطحی علل و اسباب کے ماوراء حقیقی علل و اسباب کارفرما ہوتے ہیں جو دائمی ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان سطحی علل و اسباب سے ہٹ کر رونما ہونے والے واقعات میں صرف حقیقی علل و اسباب کارفرما ہوتے ہیں۔ جیسے دعا کے اثرات۔ معجزات میں حقیقی علل و اسباب کار فرما ہوتے ہیں۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ یہ علل و اسباب ناقابل تسخیر ہوتے ہیں۔ بیماری سے شفا اگر دست مسیحا کے ذریعہ ہو تو شفایابی کے علل و اسباب ناقابل تسخیر ہیں، جب کہ دوا کے ذریعہ حاصل ہونے والی شفا کے علل و اسباب قابل تسخیر ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے ہماری تفسیر کا مطالعہ فرمائیں۔

بعض اہلِ قلم کے مطابق جزیرہ نمائے سینا میں وہ چٹان ابھی تک موجود ہے اور سیاح جا کر اسے دیکھتے ہیں۔ چشموں کے شگاف اب بھی پائے جاتے ہیں۔


وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ مِنۡۢ بَقۡلِہَا وَ قِثَّآئِہَا وَ فُوۡمِہَا وَ عَدَسِہَا وَ بَصَلِہَا ؕ قَالَ اَتَسۡتَبۡدِلُوۡنَ الَّذِیۡ ہُوَ اَدۡنٰی بِالَّذِیۡ ہُوَ خَیۡرٌ ؕ اِہۡبِطُوۡا مِصۡرًا فَاِنَّ لَکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ ؕ وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ ٭ وَ بَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ﴿٪۶۱﴾

۶۱۔ اور ( وہ وقت یاد کرو) جب تم نے کہا تھا : اے موسیٰ! ہم ایک ہی قسم کے طعام پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے، پس آپ اپنے رب سے کہدیجئے کہ ہمارے لیے زمین سے اگنے والی چیزیں فراہم کرے، جیسے ساگ، ککڑی، گیہوں، مسور اور پیاز، (موسیٰ نے) کہا:کیا تم اعلیٰ کی جگہ ادنیٰ چیز لینا چاہتے ہو؟ ایسا ہے تو کسی شہر میں اتر جاؤ جو کچھ تم مانگتے ہو تمہیں مل جائے گا اور ان پر ذلت و محتاجی تھوپ دی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں مبتلا ہو گئے، ایسا اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے اور یہ سب اس لیے ہوا کہ وہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کیا کرتے تھے۔

61۔ اس آیت میں بنی اسرائیل کی سرکش ذہنیت کو بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ اپنی آزادی اور خود مختاری کی جنگ لڑ رہے تھے۔ حال ہی میں ایک جابر اور خونخوار حکمران سے نجات حاصل کی تھی۔ ایسے نامساعد حالات میں عزت سے جو بھی میسر آئے، صبر کرنا چاہیے تھا۔ لیکن یہ ناشکرے من و سلویٰ جیسی ضیافت پر بھی صبر کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھے۔ چنانچہ اس نا شکری کی وجہ سے وہ ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوئے۔

مِصۡرًا سے مراد کوئی بھی شہر ہے کیونکہ یہ چیزیں شہری اور متمدن ماحول میں میسر آتی ہیں۔ اس سے مراد معروف شہر مصر لینا درست نہیں ہے۔

ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا یعنی یہ لوگ کفر اور قتل انبیاء کے مرتکب اس لیے ہوئے کہ وہ عصیان کے عادی ہو گئے تھے اور جرائم کے ارتکاب کے بعد بھی گناہ کا احساس نہیں کرتے تھے۔


Deprecated: str_ireplace(): Passing null to parameter #3 ($subject) of type array|string is deprecated in /home/balaghroot/public_html/inc-search-results.php on line 151


اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِئِیۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۪ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ﴿۶۲﴾

۶۲۔ بے شک جو لوگ ایمان لا چکے ہیں اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابئین میں سے جو کوئی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے تو ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے اور انہیں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

62۔ آیۂ شریفہ کا ما حصل یہ بنتا ہے: اپنے زمانے کے برحق نبی اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے بعد عمل صالح بجا لانے والا نجات پائے گا۔ صابی مذہب کے کچھ پیروکار ایران اور عراق میں پائے جاتے ہیں۔ عراق میں دجلہ و فرات کے ساحلی علاقوں میں آباد صابی اپنے آپ کو حضرت یحیٰ علیہ السلام کے پیروکار سمجھتے ہیں۔ ان کی مقدس کتاب کانزا ربا اور کنزا سدرہ میں رسول اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آمد کی پیشگوئی بھی ہے۔ (قاموس قرآن)

شان نزول: حضرت سلمانؓ نے حضور اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا: میرے ان ساتھیوں کا کیا بنے گا جو اپنے دین پر عمل پیرا تھے اور عبادت گزار تھے؟ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ ابتدائے اسلام میں یہ سوال بہت سے مسلمانوں کو درپیش تھا کہ دین مسیح کے پیروکاروں کے آباء و اجداد کا انجام کیا ہو گا؟ ان کی تشفی کے لیے آیت نازل ہوئی کہ اگر وہ اپنے مذہب کے مخلص پیروکار اور عبادت گزار تھے تو نجات پائیں گے۔