Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ یّٰحَسۡرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطۡتُّ فِیۡ جَنۡۢبِ اللّٰہِ وَ اِنۡ کُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۶﴾

۵۶۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص یہ کہے: افسوس ہے اس کوتاہی پر جو میں نے اللہ کے حق میں کی اور میں تو مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔


اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰہَ ہَدٰىنِیۡ لَکُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۵۷﴾

۵۷۔ یا وہ کہے: اگر اللہ میری ہدایت کرتا تو میں متقین میں سے ہو جاتا۔


اَوۡ تَقُوۡلَ حِیۡنَ تَرَی الۡعَذَابَ لَوۡ اَنَّ لِیۡ کَرَّۃً فَاَکُوۡنَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ﴿۵۸﴾

۵۸۔ یا عذاب دیکھ کر یہ کہے: اگر مجھے واپس (دنیا میں) جانے کا موقع ملتا تو میں نیکی کرنے والوں میں سے ہو جاتا۔

58۔ عذاب کے مشاہدے کے بعد یہ خواہش ہر مجرم کو دامن گیر ہو گی کہ مجھے ایک بار موقع دیا جائے۔ لیکن اس سفر میں برگشت نہیں ہے۔ دنیا سے شکم مادر، اور صلب پدر کی طرف برگشت ممکن نہیں ہے۔


بَلٰی قَدۡ جَآءَتۡکَ اٰیٰتِیۡ فَکَذَّبۡتَ بِہَا وَ اسۡتَکۡبَرۡتَ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ﴿۵۹﴾

۵۹۔(جواب ملے گا) کیوں نہیں! میری آیات تجھ تک پہنچیں مگر تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا۔


وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلَی اللّٰہِ وُجُوۡہُہُمۡ مُّسۡوَدَّۃٌ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡمُتَکَبِّرِیۡنَ﴿۶۰﴾

۶۰۔ اور جنہوں نے اللہ کی نسبت جھوٹ بولا قیامت کے دن آپ ان کے چہرے سیاہ دیکھیں گے، کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟


وَ یُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا بِمَفَازَتِہِمۡ ۫ لَا یَمَسُّہُمُ السُّوۡٓءُ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ﴿۶۱﴾

۶۱۔ اور اہل تقویٰ کو ان کی کامیابی کے سبب اللہ نجات دے گا، انہیں نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔


اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۫ وَّ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ﴿۶۲﴾

۶۲۔ اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔

62۔قرآنی تعلیمات میں یہ بات ایک مسلمہ امر ہے کہ خلق و تدبیر دو مختلف امور نہیں، جیسا کہ مشرکین نے خیال کر رکھا ہے کہ خالق تو اللہ ہے، لیکن امور کائنات کی تدبیر شریکوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اس آیت میں اسی بات کو واضح لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ جہاں اللہ ہر شے کا خالق ہے، وہاں وہ ہر شے کا وکیل ہے۔ یعنی ہر شے اس کے سپرد ہے۔


لَہٗ مَقَالِیۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ﴿٪۶۳﴾

۶۳۔ آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کی ملکیت ہیں اور جنہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

63۔ اسی مسلمہ حقیقت کے تحت فرمایا: زمین و آسمان کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ بنا بر این یہ قدرتی بات ہے کہ مشرکین جو غیر اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں خسارے میں ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ اس ذات کو چھوڑتے ہیں جس کے پاس سب کچھ ہے اور ایسوں کے پاس جاتے ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہیں۔


قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ﴿۶۴﴾

۶۴۔ کہدیجئے: اے نادانو! کیا تم مجھے کہتے ہو کہ میں غیر اللہ کی بندگی کروں؟

64۔ غیر اللہ کی بندگی کرنا اور اس سے لو لگانا جہالت کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ جہالت کی وجہ سے واقع اور حقیقت کا پتہ نہیں چلتا۔ جب واقع کا علم نہ ہو گا تو جاہل ظن و گمان کے پیچھے چلنا شروع کرتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق: جاہل یا زیادتی کرتا ہے یا کوتاہی۔ لہٰذا جاہل زیادتی اور کوتاہی کے درمیانی گرداب میں پھنس جاتا ہے۔


وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ﴿۶۵﴾

۶۵۔ اور بتحقیق آپ کی طرف اور آپ سے پہلے انبیاء کی طرف یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضرور حبط ہو جائے گا اور تم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔

65۔اس قانون سے کوئی شخص بالاتر نہیں ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم معصوم ہیں۔ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شرک سرزد نہیں ہوتا، تاہم یہاں یہ فرض کیا جا رہا ہے کہ اگر شرک کا عمل آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سرزد ہو جائے تو آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عمل حبط ہو جائے گا۔ یہ اس طرح ہے، جیسا کہ فرمایا: قُلۡ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ ۔ (زخرف:81) کہ دیجیے (اللہ کے لیے بیٹا ہونا محال ہے تاہم) اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا۔