Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

لَہُمۡ مِّنۡ فَوۡقِہِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ ظُلَلٌ ؕ ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہٗ ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ﴿۱۶﴾

۱۶۔ ان کے لیے ان کے اوپر آگ کے سائبان اور ان کے نیچے بھی شعلے ہوں گے، یہ وہ بات ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، پس اے میرے بندو! مجھ سے ڈرو۔

16۔ یعنی وہ آگ میں گھرے ہوئے ہوں گے۔ ذٰلِکَ یُخَوِّفُ : یعنی شرک وہ بات ہے جس میں ملوث ہونے سے اللہ اپنے بندوں کو خبردار کرتا ہے۔


وَ الَّذِیۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ یَّعۡبُدُوۡہَا وَ اَنَابُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ ﴿ۙ۱۷﴾

۱۷۔ اور جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا ان کے لیے خوشخبری ہے، پس آپ میرے ان بندوں کو بشارت دے دیجئے،


الَّذِیۡنَ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ﴿۱۸﴾

۱۸۔ جو بات کو سنا کرتے ہیں اور اس میں سے بہتر کی پیروی کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی صاحبان عقل ہیں۔

18۔ ان بندوں کو بشارت دو جو یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ بات سن لیتے ہیں۔ یعنی تحقیق و جستجو میں ہوتے ہیں۔ پھر اس بات کو عقل و خرد کے پیمانے پر تولتے اور حق و باطل میں تمیز کرتے ہیں، بلکہ حسن اور احسن میں بھی تمیز کرتے ہیں۔ اس قسم کی تحقیق و جستجو کا شعور رکھنے والے لوگ ہدایت یافتہ ہوں گے اور صاحبان عقل بھی۔


اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَیۡہِ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ ؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِی النَّارِ ﴿ۚ۱۹﴾

۱۹۔ بھلا جس شخص پر عذاب کا فیصلہ حتمی ہو گیا ہو کیا آپ اسے بچا سکتے ہیں جو آگ میں گر چکا ہو؟

19۔ ایک شخص کفر و شرک پر ڈٹ جاتا ہے۔ توحید کی طرف آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں اللہ کا بھی فیصلہ اٹل ہو جاتا ہے۔ پھر اسے آگ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔


لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ لَہُمۡ غُرَفٌ مِّنۡ فَوۡقِہَا غُرَفٌ مَّبۡنِیَّۃٌ ۙ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۬ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ الۡمِیۡعَادَ﴿۲۰﴾

۲۰۔ لیکن جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بالا خانے ہیں جن کے اوپر (مزید) بالا خانے بنے ہوئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔


اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیۡعَ فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا مُّخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ یَجۡعَلُہٗ حُطَامًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکۡرٰی لِاُولِی الۡاَلۡبَابِ﴿٪۲۱﴾

۲۱۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی نازل کرتا ہے پھر چشمے بنا کر اسے زمین میں جاری کرتا ہے پھر اس سے رنگ برنگی فصلیں اگاتا ہے، پھر وہ خشک ہو جاتی ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئی ہیں پھر وہ اسے بھوسہ بنا دیتا ہے ؟ عقل والوں کے لیے یقینا اس میں نصیحت ہے۔

21۔ یہ لوگ لہلہاتے کھیتوں پر خزاں آتے روز دیکھتے ہیں، ہر سو اور ہر چیز میں نا پائیداری کا روز مشاہدہ کرتے ہیں، پھر بھی لوگ عقل سے کام نہیں لیتے، عبرت حاصل نہیں کرتے اور اس چند روزہ نا پائیدار زندگی پر فریفتہ ہو جاتے ہیں۔


اَفَمَنۡ شَرَحَ اللّٰہُ صَدۡرَہٗ لِلۡاِسۡلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ فَوَیۡلٌ لِّلۡقٰسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مِّنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ﴿۲۲﴾

۲۲۔ کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو اور جسے اپنے رب کی طرف سے روشنی ملی ہو (سخت دل والوں کی طرح ہو سکتا ہے؟)، پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل ذکر خدا سے سخت ہو جاتے ہیں، یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔

22۔ جس کا سینہ قبول حق کے لیے آمادہ ہو، اللہ کی طرف سے نیک توفیقات اس کے شامل حال ہو جاتی ہیں۔ قبول حق کے لیے اس کے قلب میں گنجائش پیدا ہو جاتی ہے، یعنی باتیں سمجھ میں آنا اور تاریکی چھٹنا شروع ہو جاتی ہے اور فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ اس نور کی وجہ سے بہت سے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں قبول حق کے لیے کوئی آمادگی نہیں ہے، یعنی ان کے دلوں پر نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔


اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَ قُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ﴿۲۳﴾

۲۳۔ اللہ نے ایسی کتاب کی شکل میں بہترین کلام نازل فرمایا ہے جس کی آیات باہم مشابہ اور مکرر ہیں جس سے اپنے رب سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں پھر ان کی جلدیں اور دل نرم ہو کر ذکر خدا کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، یہی اللہ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس سے ہدایت دیتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔

23۔ مُّتَشَابِہًا : اول سے لے کر آخر تک قرآن کے مختلف موضوعات کے مضامین باہم مربوط اور ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، منافی اور متضاد نہیں ہیں۔

مَّثَانِیَ : اس کے مضامین دھرائے گئے ہیں تاکہ قرآنی مطالب ذہنوں میں راسخ ہو جائیں۔ کسی بھی مطلب کو ذہن میں راسخ کرنے کے لیے دھرانے کو جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس لیے تعلیم و تربیت میں دھرائی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

تَقۡشَعِرُّ : جن کے دل خوف خدا سے معمور ہوتے ہیں، وہ جب قرآنی آیات سنتے ہیں تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر اس کے اثرات شعور و وجدان پر مترتب ہوتے ہیں اور دل میں سکون و آرام آتا ہے۔ جن کے دل خوف خدا کی نعمت سے محروم ہیں، وہ غنا کی طرز کے اشعار سن کر وجد میں آتے ہیں اور قرآن سے ان کے دل دور بھاگتے ہیں۔


اَفَمَنۡ یَّتَّقِیۡ بِوَجۡہِہٖ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ قِیۡلَ لِلظّٰلِمِیۡنَ ذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ﴿۲۴﴾

۲۴۔ کیا وہ شخص جو قیامت کے دن برے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے منہ کو سپر بناتا ہے (وہ امن پانے والوں کی طرح ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا: چکھو اس کا ذائقہ جو تم کماتے تھے۔


کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَاَتٰىہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ﴿۲۵﴾

۲۵۔ ان سے پہلوں نے تکذیب کی تو ان پر ایسی جگہ سے عذاب آیا جہاں سے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔