Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ یُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ﴿۴۶﴾

۴۶۔ اور وہ لوگوں سے گہوارے میں اور بڑی عمر میں گفتگو کرے گا اور صالحین میں سے ہو گا۔


قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ﴿۴۷﴾

۴۷۔ مریم نے کہا: میرے رب! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہو گا؟ مجھے تو کسی شخص نے چھوا تک نہیں، فرمایا: ایسا ہی ہو گا اللہ جو چاہتا ہے خلق فرماتا ہے، جب وہ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس سے کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔

47۔ کُنۡ صرف ایک تعبیر ہے ورنہ ارادﮤ الہٰی کے نفاذ کے لیے کاف و نون کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے: یقول لما اراد کونہ کن فیکون لا بصوت یقرع ولا بنداء یسمع و انما کلامہ سبحانہ فعل منہ انشائہ ۔ (نہج البلاغہ خ 228) جب اللہ کسی چیز کے وجود کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس سے فرماتا ہے: ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے۔ یہ نہ کسی ایسی آواز سے ہوتا ہے جو بولی جائے اور نہ کسی ایسی صدا سے جو سنائی دے اور اللہ کا کلام تو بس اس کا فعل اور اس کی ایجاد ہے۔


وَ یُعَلِّمُہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ﴿ۚ۴۸﴾

۴۸۔ اور (اللہ) اسے کتاب و حکمت اور توریت و انجیل کی تعلیم دے گا۔


وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُبۡرِیٴُ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ وَ اُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَ مَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۴۹﴾

۴۹۔ اور (وہ) بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے رسول کی حیثیت سے (کہے گا:) میں تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر تمہارے پاس آیا ہوں، (وہ یہ کہ) میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی شکل کا مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور برص کے مریض کو تندرست اور مردے کو زندہ کرتا ہوں اور میں تم لوگوں کو بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں کیا جمع کر کے رکھتے ہو، اگر تم صاحبان ایمان ہو تو اس میں تمہارے لیے نشانی ہے۔

49۔ سورہ بقرہ آیت 60 کے ذیل میں اس موضوع پر ہم نے مختصراً لکھا ہے کہ معجزات، طبیعی قوانین کی عام دفعات کے تحت نہیں ہوتے، ورنہ یہ سب کے لیے قابل تسخیر ہوتے اور معجزہ نہ ہوتا۔ معجزہ اس وقت معجزہ ہوتا ہے جب یہ سطحی اور ظاہری علل و اسباب کے سلسلے کو توڑ دے۔ البتہ معجزے کے اپنے علل و اسباب ضرور ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لیے قابل تسخیر نہیں ہوتے۔ لہٰذا معجزات کے علل و اسباب کو قانونِ طبیعت کی عام دفعات میں تلاش کرنا انکار معجزہ کے مترادف ہے۔ جیسا کہ صاحب ”المنار“ نے کوشش کی ہے۔

اَخۡلُقُ لَکُمۡ : خلق متعدد معنوں میں استعمال ہوتا ہے: ٭ خلق ابداعی یعنی عدم سے وجود میں لانا۔ یہ بات صرف ذاتِ خداوندی کے ساتھ مخصوص ہے۔ ٭ خلق تشکیلی یعنی ایک شے سے دوسری شے بنانا۔ ٭ خلق تقدیری یعنی اندازہ کرنا۔ خلق ان دو معنوں میں غیر اللہ کے ساتھ بھی متصف ہو سکتا ہے۔

ولایت تکوینی: انبیاء اور اولیاء علیہم السلام اظہار حجت و اثبات حق کے لیے باذن خدا عالم خلقت کے تکوینی امور میں تصرف کرتے ہیں۔وہ مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور شق القمر کرتے ہیں نیز بوقت ضرورت دیگر معجزات رکھتے ہیں جو عالم تخلیق و تکوین سے مربوط ہیں۔ البتہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ یہ تصرف اور اختیار اللہ کے تصرف کے مقابلے میں نہیں بلکہ اللہ کے تصرف و اختیار کے ذیل میں آتا ہے۔ اس قسم کے تصرفات کے ساتھ عام طور پر باذن اللہ کا ذکر آتا ہے۔


وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ وَ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ﴿۵۰﴾

۵۰۔ اور اپنے سے پیشتر آنے والی توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور جو چیزیں تم پر حرام کر دی گئی تھیں ان میں سے بعض کو تمہارے لیے حلال کرنے آیا ہوں اور میں تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر تمہارے پاس آیا ہوں، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

50۔ قرآن کریم اس حقیقی توریت کی تصدیق فرما رہا ہے جس کی تعلیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھی ورنہ مروجہ توریت کے بارے میں تو قرآن کا مؤقف یہ ہے کہ اس میں تحریف واقع ہوئی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: میں شریعت موسوی میں جزوی ترمیم و تنسیخ کے ساتھ اسی کی تکمیل و تشریح کرنے آیا ہوں۔ اگر میں سچا نبی نہ ہوتا تو کسی نئے دین کی بنیاد رکھتا۔ سابقہ دین کی تائید اس بات کی دلیل ہے کہ میری نبوت بھی سلسلۂ نبوت کی ایک کڑی ہے۔


اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ﴿۵۱﴾

۵۱۔ بیشک اللہ میرا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذا تم اس کی بندگی کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔


فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیۡسٰی مِنۡہُمُ الۡکُفۡرَ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ۚ وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ﴿۵۲﴾

۵۲۔ جب عیسیٰ نے محسوس کیا کہ وہ لوگ کفر اختیار کر رہے ہیں تو بولے: اللہ کی راہ میں کون میرا مددگار ہو گا؟ حواریوں نے کہا: ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں۔


رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ وَ اتَّبَعۡنَا الرَّسُوۡلَ فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ﴿۵۳﴾

۵۳۔ہمارے رب! جو تو نے نازل فرمایا اس پر ہم ایمان لائے اور ہم نے رسول کی پیروی قبول کی پس ہمارا نام بھی گواہوں کے ساتھ لکھ دے۔

53۔ دعوت و تبلیغ اور ہدایت و رہبری کے مقام پر فائز ہونے اور اَنۡصَارُ اللّٰہِ کا مقام حاصل کرنے کے بعد شّٰہِدِیۡنَ میں شمار کرنے کی درخواست کی گئی جو اس مقام کا ایک لازمی امر ہے۔ یعنی جو امت کی ہدایت و رہبری کی ذمہ داری پوری کرتا ہے، وہ اس امت کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینے کا مجاز ہوتا ہے، جو ایک عظیم منصب ہے۔ چنانچہ سورہ بقرہ آیت 143 میں ذکر ہوا کہ کون لوگ امت وسط اور شاہد ہیں۔


وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ﴿٪۵۴﴾

۵۴۔ان لوگوں نے(عیسیٰ کے قتل کی) تدابیر سوچیں اور اللہ نے (بھی جوابی) تدبیر فرمائی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔


اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ﴿۵۵﴾

۵۵۔ جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ اب میں تمہاری مدت پوری کر رہا ہوں اور تمہیں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں (کی ناپاک سازشوں) سے پاک کرنے والا ہوں اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے انہیں قیامت تک کفر اختیار کرنے والوں پر بالادست رکھوں گا، پھر تم لوگوں کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر اس وقت میں تمہارے درمیان (ان باتوں کا) فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔

55۔ مُتَوَفِّیۡکَ :سے مراد وفات نہیں، مدت پوری کرنا ہے کیونکہ ٭ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ، یہودیوں نے قتل عیسیٰ علیہ السلام کی سازش کی تھی جسے اللہ نے ناکام بنا دیا۔ مُتَوَفِّیۡکَ کے معنی وفات لینے سے یہود کی ناکامی ثابت نہیں ہوتی، جب کہ آیت کے مطابق یہود ناکام ہو گئے۔٭سورہ النساء آیت 157 میں فرمایا: وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وہ نہ آپ کو قتل کر سکے نہ سولی چڑھا سکے۔ ٭ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ ، میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ چنانچہ سورة النساء میں اٹھانے کو قتل کے مقابلے میں ذکر کیا ہے: وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا۝ بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ۔ جمال الدین قاسمی اپنی تفسیر محاسن التاویل 4:108 میں اس آیت کے ذیل میں دلائل دیتے ہیں: اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر ہے۔ پھر کہتے ہیں: و ھو مذھب السلف قاطبۃ۔ یہ تمام علمائے سلف کا نظریہ ہے۔ پھر فرماتے ہیں: و قد اتفقت کلمۃ المسلمین ان اللّہ فوق عرشہ فوق سماواتہ۔ تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ اپنے عرش کے اوپر ہے، اپنے آسمانوں کے اوپر ہے۔ اس سلسلے میں اہل بیت علیہ السلام کا نظریۂ توحید ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ومن قال فیم فقد ضمنہ و من قال علام فقد اخلی منہ ۔ (نہج البلاغۃ خطبہ اوّل) جس نے یہ کہا کہ اللہ کس چیز میں ہے، اس نے اسے کسی شے کے ضمن میں فرض کر لیا اور جس نے یہ کہا کہ اللہ کس چیز پر ہے، اس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں۔