Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

تِلۡکَ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ نَجۡعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فَسَادًا ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ﴿۸۳﴾

۸۳۔ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بنا دیتے ہیں جو زمین میں بالادستی اور فساد پھیلانا نہیں چاہتے اور (نیک) انجام تو تقویٰ والوں کے لیے ہے۔


مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیۡرٌ مِّنۡہَا ۚ وَ مَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجۡزَی الَّذِیۡنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ﴿۸۴﴾

۸۴۔ جو شخص نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر (اجر) ملے گا اور جو کوئی برائی لائے گا تو برے کام کرنے والوں کو صرف وہی بدلہ ملے گا جو وہ کرتے رہے ہیں۔

84۔ اسی آیت کے ذیل میں حدیث ہے: ویل لمن غلبت آحادہ أعشارہ (وسائل الشیعۃ 16: 103) حسرت اس شخص کے لیے جس کی اکائیاں (برائی) اس کی دہائیوں (نیکیوں) پر غالب آ جائیں۔


اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ قُلۡ رَّبِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡہُدٰی وَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ﴿۸۵﴾

۸۵۔ (اے رسول) جس نے آپ پر قرآن (کے احکام کو) فرض کیا ہے وہ یقینا آپ کو بازگشت تک پہنچانے والا ہے، کہدیجئے: میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو ہدایت لے کر آیا ہے اور اسے بھی جو واضح گمراہی میں ہے۔

85۔ یہ آیت مکہ سے ہجرت کے موقع پر اس وقت نازل ہوئی جب حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وطن یاد آیا کہ جس ذات نے آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر تبلیغ قرآن کو فرض اور لازم قرار دیا ہے وہ آپ کو دوبارہ اس جگہ (مکہ) فاتحانہ انداز میں واپس کرنے والی ہے، جہاں سے آپ کو نکلنا پڑ رہا ہے۔ یہ پیش گوئی قلیل مدت میں درست ثابت ہوئی اور رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فاتحانہ انداز میں مکہ واپس آئے۔


وَ مَا کُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ یُّلۡقٰۤی اِلَیۡکَ الۡکِتٰبُ اِلَّا رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ ظَہِیۡرًا لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۫۸۶﴾

۸۶۔ اور آپ کو یہ امید نہ تھی کہ آپ پر یہ کتاب نازل کی جائے گی مگر آپ کے رب کی رحمت سے لہٰذا آپ کافروں کے پشت پناہ ہرگز نہ بنیں۔

86۔ یعنی اگر رحمت رب آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شامل حال نہ ہوتی تو آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ امید تک نہیں کر سکتے تھے کہ یہ قرآن آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل کیا جائے گا۔ ظاہر ہے اللہ کی رحمت سے ہٹ کر نبوت مل سکتی ہے، نہ قرآن نازل ہو سکتا ہے۔

تعجب ہے کہ بعض اہل قلم نے اس بات کے اثبات کے لیے کئی صفحات لکھ ڈالے کہ حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہلے نبوت ملنے کی امید تک نہ تھی اور آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کا کبھی سوچا بھی نہ تھا، بلکہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وحی نازل ہونے کے بعد بھی شک میں رہے کہ یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ ورقہ بن نوفل نے اس بات کی طرف توجہ دلا دی کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نبوت پر فائز ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے ایسے شخص سے رابطہ فرمایا جس کو اتنا بھی علم نہ تھا، جتنا ایک دوسرے شخص ورقہ بن نوفل کو تھا۔ ہم نے یہ بات کئی بار لکھی ہے کہ وحی کا تعلق صرف حواس ظاہری سے نہیں ہوتا۔ انبیاء وحی کو اپنے پورے وجود کے ساتھ حاصل کرتے ہیں، جس میں شک و تردید کی گنجائش نہیں ہوتی۔ جس قدر انہیں اپنے وجود پر یقین ہوتا ہے اسی قدر یقین سے وحی وصول کرتے ہیں۔


وَ لَا یَصُدُّنَّکَ عَنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعۡدَ اِذۡ اُنۡزِلَتۡ اِلَیۡکَ وَ ادۡعُ اِلٰی رَبِّکَ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۚ۸۷﴾

۸۷۔ جب یہ آیات آپ کی طرف نازل ہو چکی ہیں تو کہیں یہ آپ کو اللہ کی آیات (کی تبلیغ) سے روک نہ دیں اور آپ اپنے رب کی طرف دعوت دیں اور آپ مشرکین میں ہرگز شامل نہ ہوں۔


وَ لَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۟ کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجۡہَہٗ ؕ لَہُ الۡحُکۡمُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ﴿٪۸۸﴾

۸۸۔ اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے، حکومت کا حق اسی کو حاصل ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جاؤ گے۔

88۔ وجہہ، ذاتہ، الوجہ سے ذات مراد لی جاتی ہے۔ جیسے وَجۡہَ النَّہَارِ سے مراد خود دن لیا جاتا ہے۔ ذات خدا بنفسہ موجود ہے اور غیر خدا بنفسہ موجود نہیں ہے، بلکہ بارادﮤ خدا موجود ہے۔ لہٰذا جب تک ارادﮤ خدا موجود ہے، سب موجود ہیں اور جس آن ارادﮤ خدا نہ ہو گا سب کی ہستی نابود ہو جائے گی۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾

۱۔ الف، لام ، میم۔


اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَ ہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ﴿۲﴾

۲۔ کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہنے سے چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور یہ کہ وہ آزمائے نہیں جائیں گے؟

2۔ ایمان صرف ایک لفظ اٰمَنَّا کے تلفظ سے عبارت نہیں ہے بلکہ ایک نظام اور دستور حیات کو اپنانے اور اسے اپنانے کی راہ میں پیش آنے والی تمام مشکلات و مصائب کا مجاہدانہ مقابلہ کرنے نیز کردار و امانت کا نام ہے۔ اس ایمان کی کوئی قیمت نہیں جس کا انسان کے کردار پر کوئی اثر نہ ہو۔ اگر ایمان کا رتبہ اتنا ارزاں ہوتا کہ لب ہلانے سے حاصل ہو جاتا تو صادق و کاذب کی تمیز نہ ہوتی، مجاہد اور فراری میں کوئی فرق نہ ہوتا، ایمان کے لیے قربانی دینے والوں اور ایمان کے نام پر مفاد حاصل کرنے والوں میں بھی کوئی امتیاز نہ ہوتا۔


وَ لَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾

۳۔ اور بتحقیق ہم ان سے پہلوں کو بھی آزما چکے ہیں کیونکہ اللہ کو بہرحال یہ واضح کرنا ہے کہ کون سچے ہیں اور یہ بھی ضرور واضح کرنا ہے کہ کون جھوٹے ہیں۔

3۔ آزمائش اور امتحان اللہ تعالیٰ کا دائمی قانون ہے جو تمام امتوں میں جاری رہا ہے۔ اللہ کو تو قدیم سے علم ہے کہ کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ لیکن امتحان کے ذریعے اللہ کا علم ظہور پذیر ہوتا ہے، علم کے مرحلے سے عمل کے مرحلے میں آ جاتا ہے اور عمل سے استحقاق کا مرحلہ آتا ہے۔ یعنی نیک عمل سے ثواب اور بد عمل سے عذاب کا مستحق ہونے کا مرحلہ آتا ہے۔