Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡیَنَ وَجَدَ عَلَیۡہِ اُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسۡقُوۡنَ ۬۫ وَ وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِہِمُ امۡرَاَتَیۡنِ تَذُوۡدٰنِ ۚ قَالَ مَا خَطۡبُکُمَا ؕ قَالَتَا لَا نَسۡقِیۡ حَتّٰی یُصۡدِرَ الرِّعَآءُ ٜ وَ اَبُوۡنَا شَیۡخٌ کَبِیۡرٌ﴿۲۳﴾

۲۳۔اور جب وہ مدین کے پانی پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا لوگوں کی ایک جماعت (اپنے جانوروں کو) پانی پلا رہی ہے اور دیکھا ان کے علاوہ دو عورتیں (اپنے جانور) روکے ہوئے کھڑی ہیں، موسیٰ نے کہا: آپ دونوں کا کیا مسئلہ ہے؟ وہ دونوں بولیں: جب تک یہ چرواہے (اپنے جانوروں کو لے کر) واپس نہ پلٹ جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتیں اور ہمارے والد بڑی عمر کے بوڑھے ہیں۔

23۔ اس زمانے میں مصر کا قریب ترین آزاد علاقہ مدین ہی تھا۔ یہ جگہ آج کل البدع کے نام سے مشہور ہے جو خلیج عقبہ کے مغربی ساحل پر واقع ہے۔ ان دو عورتوں نے کھڑی اور منتظر رہنے کی وجہ یہ بتائی کہ ہم عورتیں ہیں اور مرد چرواہوں کے ساتھ مزاحمت نہیں کر سکتیں۔ گھر میں ایک بوڑھا باپ ہے اور کوئی مرد نہیں۔ مجبوراً انتظار کرنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں۔ ان کے بوڑھے باپ کے بارے میں اختلاف رائے ہے کہ یہ حضرت شعیب علیہ السلام نبی تھے یا کوئی اور بزرگوار۔ آئمہ اہل البیت علیہم السلام کی روایات کے مطابق یہ بزرگوار حضرت شعیب علیہ السلام ہی تھے۔


فَسَقٰی لَہُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤی اِلَی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَیَّ مِنۡ خَیۡرٍ فَقِیۡرٌ﴿۲۴﴾

۲۴۔ موسیٰ نے ان دونوں (کے جانوروں) کو پانی پلایا پھر سایے کی طرف ہٹ گئے اور کہا: میرے رب! جو خیر بھی تو مجھ پر نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں۔

24۔ طویل سفر طے کرنے میں کافی وقت لگ گیا ہو گا اس لیے گرسنگی کی حالت میں ہونا قدرتی بات ہے۔ روایات کے مطابق جس خیر کی محتاجی کا اشارہ ہے وہ طعام ہے۔


فَجَآءَتۡہُ اِحۡدٰىہُمَا تَمۡشِیۡ عَلَی اسۡتِحۡیَآءٍ ۫ قَالَتۡ اِنَّ اَبِیۡ یَدۡعُوۡکَ لِیَجۡزِیَکَ اَجۡرَ مَا سَقَیۡتَ لَنَا ؕ فَلَمَّا جَآءَہٗ وَ قَصَّ عَلَیۡہِ الۡقَصَصَ ۙ قَالَ لَا تَخَفۡ ٝ۟ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۲۵﴾

۲۵۔ پھر ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ نے جو ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے آپ کو اس کی اجرت دیں، جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور اپنا سارا قصہ انہیں سنایا تو وہ کہنے لگے: خوف نہ کرو، تم اب ظالموں سے بچ چکے ہو۔

25۔ شرم و حیا، عورت کی زینت ہے۔ یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام درخت کے سائے میں اکیلے تھے۔ اس اکیلے مرد کے نزدیک آنے میں شرم و حیا کرنا ایک پاکیزہ ماحول کی پلی بچی کے لیے قدرتی بات ہے۔

ظالموں سے نجات کی نوید جس لہجے میں سنائی جا رہی تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نبی کی زبان سے سنائی جا رہی ہے۔


قَالَتۡ اِحۡدٰىہُمَا یٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡہُ ۫ اِنَّ خَیۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِیُّ الۡاَمِیۡنُ﴿۲۶﴾

۲۶۔ ان دونوں میں سے ایک لڑکی نے کہا: اے ابا! اسے نوکر رکھ لیجیے کیونکہ جسے آپ نوکر رکھنا چاہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو طاقتور، امانتدار ہو۔

26۔ قوت کا اندازہ چاہ سے پانی نکالتے وقت کر لیا تھا اور امانت کا مشاہدہ ان کے ہمراہ گھر آتے ہوئے کیا تھا، کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خاتون کے پیچھے چلنے سے پرہیز کیا تاکہ ان پر نگاہ نہ پڑے۔


قَالَ اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنۡ اُنۡکِحَکَ اِحۡدَی ابۡنَتَیَّ ہٰتَیۡنِ عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ ۚ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِکَ ۚ وَ مَاۤ اُرِیۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَیۡکَ ؕ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ﴿۲۷﴾

۲۷۔ (شعیب نے) کہا:میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح اس شرط پر تمہارے ساتھ کروں کہ تم آٹھ سال میری نوکری کرو اور اگر تم دس (سال) پورے کرو تو یہ تمہاری طرف سے (احسان) ہے اور میں تمہیں تکلیف میں ڈالنا نہیں چاہتا، ان شاءاللہ تم مجھے صالحین میں پاؤ گے۔

27۔ ممکن ہے اس میں یہ حکمت پوشیدہ ہو کہ آٹھ یا دس سال تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے مدین میں رہنا ضروری تھا اور اس عرصے کے بعد مصر کی حکومت میں تبدیلی کے باعث مصر جانا ممکن ہو جائے گا۔ رہا یہ سوال کہ آٹھ سال کی ملازمت حق مہر کے طور پر تھی یا اس قسم کی شرط عائد کرنا درست ہے یا نہیں وغیرہ تو یہ غیر ضروری سوال ہے۔ کیونکہ اس آیت کا مقصد فقہی مسئلہ بیان کرنا نہیں ہے جو اس سے حکم شرعی کا استنباط کیا جائے۔


قَالَ ذٰلِکَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ ؕ اَیَّمَا الۡاَجَلَیۡنِ قَضَیۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَیَّ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوۡلُ وَکِیۡلٌ﴿٪۲۸﴾

۲۸۔ موسیٰ نے کہا: یہ میرے اور آپ کے درمیان وعدہ ہے، میں ان دونوں میں سے جو بھی مدت پوری کروں مجھ پر کوئی زیادتی نہیں ہے اور جو کچھ ہم کہ رہے ہیں اس پر اللہ کارساز ہے۔

28۔ احادیث میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کیے۔


فَلَمَّا قَضٰی مُوۡسَی الۡاَجَلَ وَ سَارَ بِاَہۡلِہٖۤ اٰنَسَ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا ۚ قَالَ لِاَہۡلِہِ امۡکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ﴿۲۹﴾

۲۹۔ پھر جب موسیٰ نے مدت پوری کر دی اور وہ اپنے اہل کو لے کر چل دیے تو کوہ طور کی طرف سے ایک آگ دکھائی دی، وہ اپنے اہل سے کہنے لگے: ٹھہرو ! میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید وہاں سے میں کوئی خبر لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپ سکو۔

29۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس مصر جاتے ہوئے یہاں سے گزر رہے تھے۔


فَلَمَّاۤ اَتٰىہَا نُوۡدِیَ مِنۡ شَاطِیَٴ الۡوَادِ الۡاَیۡمَنِ فِی الۡبُقۡعَۃِ الۡمُبٰرَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنۡ یّٰمُوۡسٰۤی اِنِّیۡۤ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾

۳۰۔ پھر جب موسیٰ وہاں پہنچے تو وادی کے دائیں کنارے سے ایک مبارک مقام میں درخت سے ندا آئی: اے موسیٰ! میں ہی عالمین کا رب اللہ ہوں۔

30۔ اس سے بابرکت مقام کیا ہو سکتا ہے جس مقام کو اللہ نے اپنے کلام کے لیے منتخب کیا، اسی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہاں جوتے اتار کر آنے کا حکم ہوا۔

یہ درخت جس سے حضرت موسیٰ نے اللہ کا کلام سنا اللہ اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان ایک حجاب تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے تین طریقوں سے کلام کرتا ہے: وحی، پس حجاب، پیام رساں کے ذریعے۔ ان تین قسموں میں سے یہ درخت حجاب بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی ابتدا اِنِّیۡۤ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ میں ہی عالمین کا رب ہوں سے کی کہ اس سارے جہاں میں ایک ہی رب ہے۔ ایک ہی مالک، ایک ہی معبود ہے۔


وَ اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہۡتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدۡبِرًا وَّ لَمۡ یُعَقِّبۡ ؕ یٰمُوۡسٰۤی اَقۡبِلۡ وَ لَا تَخَفۡ ۟ اِنَّکَ مِنَ الۡاٰمِنِیۡنَ﴿۳۱﴾

۳۱۔ اور اپنا عصا پھینک دیجئے، پھر جب موسیٰ نے عصا کو سانپ کی طرح حرکت کرتے دیکھا تو پیٹھ پھیر کر پلٹے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا، (ہم نے کہا) اے موسیٰ! آگے آئیے اور خوف نہ کیجیے، یقینا آپ محفوظ ہیں۔

31۔ اژدھے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خوف بتاتا ہے کہ معجزہ فعل خدا ہے، ورنہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے معجزے سے خوف نہ آتا۔

آج یہ بات مسلم ہے کہ تمام مادی موجودات کا ابتدائی خمیر اور عناصر اولیہ ایک ہے۔ ان عناصر کی ترکیب و ترتیب مختلف ہونے سے چیزیں مختلف ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا عصا اور اژدھے کے عناصر ایک ہیں۔ اللہ اپنی قدرت کن فیکونی سے ان عناصر کی ترتیب بدل سکتا ہے اور عصا سے اژدھا اور اژدھے سے عصا بنا سکتا ہے۔ اس سے یہ بات جو ہم نے پہلے بھی لکھی ہے، واضح ہو جاتی ہے کہ معجزہ عام طبیعیاتی دفعات کے مطابق نہ سہی، لیکن قانون فطرت کے دائرے میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ معجزے کے علل و اسباب تمام انسانوں کے لیے قابل تسخیر نہیں ہیں۔


اُسۡلُکۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ ۫ وَّ اضۡمُمۡ اِلَیۡکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّہۡبِ فَذٰنِکَ بُرۡہَانٰنِ مِنۡ رَّبِّکَ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ﴿۳۲﴾

۳۲۔ (اے موسیٰ) اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال دیجئے وہ بغیر کسی عیب کے چمکدار ہو کر نکلے گا اور خوف سے بچنے کے لیے اپنے بازو کو اپنی طرف سمیٹ لیجیے، یہ دو معجزے آپ کے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے اہل دربار کے لیے ہیں، بتحقیق وہ بڑے فاسق لوگ ہیں۔

32۔ خوف سے بچنے کے لیے بازو سمیٹ لینے کا حکم ہے۔ اس عمل سے اللہ تعالیٰ دل سے خوف نکالے گا۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ید بیضا کی طرح ایک خاص عنایت ہے۔ اس کی دیگر توجیہات سیاق آیت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔