Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ کُنۡتَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ﴿۲۷﴾

۲۷۔ سلیمان نے کہا: ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کیا تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹوں میں سے ہے۔


اِذۡہَبۡ بِّکِتٰبِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقِہۡ اِلَیۡہِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ مَا ذَا یَرۡجِعُوۡنَ﴿۲۸﴾

۲۸۔ میرا یہ خط لے جا اور اسے ان لوگوں کے پاس ڈال دے پھر ان سے ہٹ جا اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔


قَالَتۡ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اِنِّیۡۤ اُلۡقِیَ اِلَیَّ کِتٰبٌ کَرِیۡمٌ﴿۲۹﴾

۲۹۔ ملکہ نے کہا: اے دربار والو! میری طرف ایک محترم خط ڈالا گیا ہے ۔


اِنَّہٗ مِنۡ سُلَیۡمٰنَ وَ اِنَّہٗ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿ۙ۳۰﴾

۳۰۔ یہ سلیمان کی جانب سے ہے اور وہ یہ ہے: خدائے رحمن رحیم کے نام سے


اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَیَّ وَ اۡتُوۡنِیۡ مُسۡلِمِیۡنَ﴿٪۳۱﴾

۳۱۔ تم میرے مقابلے میں بڑائی مت کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔

31۔ یہ خط اپنے انداز ارسال، انداز کلام اور مضمون کے اعتبار سے غیر معمولی حیثیت کا حامل تھا۔ انداز ارسال: ایک پرندے کے ذریعے۔ انداز کلام: بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ سے شروع ہوتا ہے جو اس معاشرے کی ثقافت سے بالکل مختلف اور نا آشنا انداز کلام ہے۔ مضمون میں ایک دعوت ہے کہ ایک قانونی حکومت کے مقابلے میں ایک باطل نظام کو بڑائی اور سرکشی کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا فرماں بردار یا مسلم ہو کر میرے سامنے حاضر ہو جاؤ۔ یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کا فرماں بردار ہونے میں دونوں باتیں پائی جاتی ہیں: فرماں برداری بھی اور اسلام بھی۔


قَالَتۡ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡۤ اَمۡرِیۡ ۚ مَا کُنۡتُ قَاطِعَۃً اَمۡرًا حَتّٰی تَشۡہَدُوۡنِ﴿۳۲﴾

۳۲۔ ملکہ نے کہا: اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو، میں تمہاری غیر موجودگی میں کسی معاملے کا فیصلہ نہیں کیا کرتی۔

32۔ شہنشاہی نظام ہونے کے باوجود وہ استبدادی نہ تھا، بلکہ سربراہان مملکت اپنے فیصلے باہمی مشورے سے طے کیا کرتے تھے۔


قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّۃٍ وَّ اُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ ۬ۙ وَّ الۡاَمۡرُ اِلَیۡکِ فَانۡظُرِیۡ مَاذَا تَاۡمُرِیۡنَ﴿۳۳﴾

۳۳۔ انہوں نے کہا: ہم طاقتور اور شدید جنگجو ہیں تاہم فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم کرنا چاہیے۔


قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡکَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡیَۃً اَفۡسَدُوۡہَا وَ جَعَلُوۡۤا اَعِزَّۃَ اَہۡلِہَاۤ اَذِلَّۃً ۚ وَ کَذٰلِکَ یَفۡعَلُوۡنَ﴿۳۴﴾

۳۴۔ ملکہ نے کہا: بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کرتے ہیں اور اس کے عزت داروں کو ذلیل کرتے ہیں اور یہ لوگ بھی اسی طرح کریں گے۔

34۔ فاتح قوم جب فتح کے نشے میں چور ہوتی ہے تو اپنی زیر نگیں قوم کی حرمت و عزت کو لوٹ لیتی ہے۔ البتہ اسلامی فاتحین کے بارے میں گوسٹاف لوبون اپنی کتاب حضارۃ العرب میں لکھتے ہیں: چشم تاریخ نے عربوں کی طرح کسی انصاف پسند اور رحمدل فاتح کو نہیں دیکھا۔


وَ اِنِّیۡ مُرۡسِلَۃٌ اِلَیۡہِمۡ بِہَدِیَّۃٍ فَنٰظِرَۃٌۢ بِمَ یَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴿۳۵﴾

۳۵۔ اور میں ان کی طرف ایک ہدیہ بھیج دیتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ ایلچی کیا (جواب) لے کر واپس آتے ہیں۔

35۔ یعنی اگر وہ اس ہدیے سے نرم پڑ جائے تو وہ مال و دولت کا ہی بندہ ہو گا اور اس سے اسی بنیاد پر نپٹیں گے، وگرنہ مسئلہ ایمان و عقیدہ کا ہو گا، جس کے سامنے مال و منال کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔


فَلَمَّا جَآءَ سُلَیۡمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ ۫ فَمَاۤ اٰتٰىنِۦَ اللّٰہُ خَیۡرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىکُمۡ ۚ بَلۡ اَنۡتُمۡ بِہَدِیَّتِکُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ﴿۳۶﴾

۳۶۔پس جب وہ سلیمان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے جب کہ تمہیں اپنے ہدیے پر بڑا ناز ہے۔

36۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان کے تحائف بڑی حقارت کے ساتھ واپس کیے تو ملکہ سبا پر یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ مسئلہ کشور کشائی اور مال و دولت کا نہیں ہے۔