Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴿۷۶﴾

۷۶۔ جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اسے سب کا علم ہے اور سب معاملات کی برگشت اللہ ہی کی طرف ہے۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ارۡکَعُوۡا وَ اسۡجُدُوۡا وَ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمۡ وَ افۡعَلُوا الۡخَیۡرَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚٛ۷۷﴾۩

۷۷۔ اے ایمان والو! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو نیز نیک عمل انجام دو، امید ہے کہ (اس طرح) تم فلاح پا جاؤ ۔

77۔ فلاح و نجات کے اسباب، رکوع و سجود اور ہر قدم پر اللہ کی بندگی کے دستور پر چلنے اور نیک عمل انجام دینے میں منحصر ہیں۔ یعنی ایمان کے بعد جن چیزوں پر ایمان لایا ہے، ان پر عمل کرنے میں نجات ہے۔


وَ جَاہِدُوۡا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖ ؕ ہُوَ اجۡتَبٰىکُمۡ وَ مَا جَعَلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ مِنۡ حَرَجٍ ؕ مِلَّۃَ اَبِیۡکُمۡ اِبۡرٰہِیۡمَ ؕ ہُوَ سَمّٰىکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۬ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَ فِیۡ ہٰذَا لِیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَہِیۡدًا عَلَیۡکُمۡ وَتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ ۚۖ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اعۡتَصِمُوۡا بِاللّٰہِ ؕ ہُوَ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ فَنِعۡمَ الۡمَوۡلٰی وَ نِعۡمَ النَّصِیۡرُ﴿٪۷۸﴾

۷۸۔ اور راہ خدا میں ایسے جہاد کرو جیسے جہاد کرنے کا حق ہے، اس نے تمہیں منتخب کیا ہے اور دین کے معاملے میں تمہیں کسی مشکل سے دوچار نہیں کیا، یہ تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے۔ اسی نے تمہارا نام مسلمان رکھا اس (قرآن) سے پہلے اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسول تم پر گواہ رہے اور تم لوگوں پر گواہ رہو، لہٰذا نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ کے ساتھ متمسک رہو، وہی تمہارا مولا ہے سو وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔

78۔ خطاب اہل ایمان کی ایک جماعت سے ہے کہ ان کو اللہ نے چند باتوں سے نوازا ہے۔ i۔ ان کو اللہ نے راہ خدا میں جہاد کے لیے منتخب کیا ہے۔ ii۔ ان کو ایک سہل اور آسان شریعت عنایت فرمائی ہے جس میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ واضح رہے کہ نفی حرج، ایک ضابطہ ہے جس کی رو سے حرج (غیر معمولی مشقت) پر مشتمل کوئی حکم شریعت میں موجود نہیں ہے اور اگر کسی غیر حرجی حکم پر معروضی طور پر حرج لازم آئے تو اس حکم کی نفی ہو جاتی ہے۔ مثلا وضو کے لیے پانی استعمال کرنے میں اگر حرج ہے یعنی غیر معمولی مشقت برداشت کرنا پڑے تو وضو کا حکم اٹھ جاتا ہے اور اس کی جگہ تیمم کا حکم آتا ہے۔ نفی حرج اس امت پر اللہ کی رحمت ہے۔iii ۔ تمام انبیاء کے پیروکار مسلم کہلاتے ہیں۔ ابراہیمی، موسوی، مسیحی اور محمدی نہیں کہلاتے۔ حالانکہ سیاق آیت سے واضح ہے کہ اس الٰہی پیغام کے تمام ماننے والوں کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے مسلم نام رکھا گیا ہے۔ ہُوَسَمّٰىكُمُ اور اجْتَبٰىكُمْ کے مخاطبین کے بارے میں مولانا مودودی کا سہو قلم اور تضاد بیانی قابل مطالعہ ہے۔

یہ خطاب مومنین کی ایک برگزیدہ جماعت کے لیے ہونے پر قرائن موجود ہیں۔ وہ ہیں: اجۡتَبٰىکُمۡ اللہ نے تمہیں منتخب کیا ہے۔ اَبِیۡکُمۡ اِبۡرٰہِیۡمَ تمہارے باپ ابراہیم۔ وَتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ اور تم لوگوں پر گواہ رہو۔ ظاہر ہے کہ سب لوگوں میں یہ باتیں نہیں پائی جاتیں۔ یہ ایسا ہے کہ جیسا کہ بنی اسرائیل سے خطاب میں فرمایا: وَ جَعَلَکُمۡ مُّلُوۡکًا ۔ (مائدہ: 20) ظاہر ہے سب کو بادشاہ نہیں بنایا۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾

۱۔ وہ ایمان والے یقینا فلاح پا گئے

1۔ فلاح و کامیابی کے لیے ایمان شرط ہے۔ ایمان دل سے باور کرنے اور یقین حاصل کرنے کا نام ہے۔ اگر صرف عدم انکار ہو تو اسے اسلام کہتے ہیں، جس پر صرف ظاہری احکام اسلام مرتب ہوتے ہیں مثلا حلیت ذبیحہ و مناکحہ وغیرہ۔ ایمان کے بعد فلاح کے لیے دوسری شرط نماز میں خشوع و انکساری ہے۔ واضح رہے کہ نماز خشوع قلب کے ساتھ قبول ہو گی اور نماز کی قبولیت پر ثواب و رضائے رب مترتب ہوتی ہے۔ اگر قبول نہ ہو تو ثواب نہیں ہے۔ نماز بجا لانے کی وجہ سے عذاب بھی نہیں ہے۔ تیسری شرط لغویات سے اجتناب ہے۔ لغو اس عمل کو کہتے ہیں جس کا فائدہ نہ دنیا کے لیے ہو اور نہ آخرت کے لیے۔ چوتھی شرط زکوٰۃ کا ادا کرنا ہے۔ واضح رہے کہ ہر قسم کے مال کا انفاق زکوٰۃ ہے، آگے اس کی اصطلاحات مختلف ہیں۔ مثلاً خمس، فطرہ، عشر وغیرہ۔ پانچویں شرط پاکدامنی و عفت ہے۔ چھٹی شرط امانتوں کی ادائیگی اور معاہدوں کی پابندی ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں باتیں اسلام کے نزدیک انسانی حقوق میں شامل ہیں۔ فریق مقابل خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم، اس کے معاملے میں امانت کی ادائیگی اور معاہدوں کی پاسداری لازمی ہے۔ ساتویں شرط نمازوں کی محافظت ہے۔ یعنی نماز کے اوقات اور حدود کی محافظت۔ ایسے لوگ جنت فردوس کے مالک و وارث ہوں گے۔ حدیث نبوی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کے لیے دو مقام نہ ہوں: ایک جنت میں اور ایک جہنم میں۔ پس اگر کوئی جہنم جاتا ہے تو جنت میں اس کے مقام کے وارث اہل جنت ہوں گے۔ یعنی اپنے اعمال کی جزا میں جو مقام ملے گا یہ اس کے علاوہ ہے اور بغیر زحمت کے اللہ کی طرف سے عنایۃً مل رہا ہے۔ اس لیے اس کو وراثت سے تعبیر فرمایا ہے۔


الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾

۲۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں،


وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾

۳۔ اور جو لغویات سے منہ موڑنے والے ہیں،


وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾

۴۔ اور جو زکوٰۃ کا عمل انجام دینے والے ہیں،


وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾

۵۔ اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں،


اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾

۶۔ سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت ہوتی ہیں کیونکہ ان پر کوئی ملامت نہیں ہے۔

6۔ اس آیت سے لوگ حرمت متعہ پر استدلال کرتے ہیں کہ متعہ والی عورت نہ تو ازواج کے حکم میں شامل ہے اور نہ لونڈی کے حکم میں ہے۔ جبکہ اسی آیت سے یہ ثابت ہے کہ متعہ والی عورت ازواج میں شامل ہے۔ کیونکہ یہ آیت بالاتفاق مکی ہے اور متعہ دور مکی میں بالاتفاق جائز اور مشروع تھا۔ غیر امامیہ کا اس بات میں اختلاف ہے کہ متعہ کی حرمت کا حکم خیبر کے موقع پر آیا تھا یا فتح مکہ کے سال۔ لہٰذا اس آیت کے نزول کے موقع پر جب متعہ جائز تھا تو متعہ والی عورت لونڈی یقینا نہیں تھی، لہذا ازواج میں یقینا شامل تھی۔ بعض اہل قلم کا قانونِ متعہ پر اعتراض قابل مطالعہ ہے جو فی الحقیقت اس کے مقنن پر اعتراض ہے۔