Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَقَدۡ عَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِیَ وَ لَمۡ نَجِدۡ لَہٗ عَزۡمًا﴿۱۱۵﴾٪

۱۱۵۔ اور بتحقیق ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد لیا تھا لیکن وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں عزم نہیں پایا ۔

115۔ آدم علیہ السلام سے جو لغزش سرزد ہوئی تھی وہ جان بوجھ کر نہ تھی بلکہ بھول کی وجہ سے سرزد ہوئی تھی اور بھول عزم میں مضبوطی نہ ہونے کی وجہ سے سرزد ہوئی تھی۔ کیونکہ عزم اور بھول میں ربط ہے۔ کسی کام کے بارے میں عزم کمزور ہوتا ہے تو وہ کام بھول جاتا ہے۔


وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اَبٰی﴿۱۱۶﴾

۱۱۶۔ اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کے لیے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا ۔


فَقُلۡنَا یٰۤـاٰدَمُ اِنَّ ہٰذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَ لِزَوۡجِکَ فَلَا یُخۡرِجَنَّکُمَا مِنَ الۡجَنَّۃِ فَتَشۡقٰی ﴿۱۱۷﴾

۱۱۷۔ پھر ہم نے کہا :اے آدم! یہ آپ اور آپ کی زوجہ کا دشمن ہے، کہیں یہ آپ دونوں کو جنت سے نکال نہ دے پھر آپ مشقت میں پڑ جائیں گے۔

117۔ یعنی آدم و حوا کو پہلے آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ تم دونوں کو جنت سے نکال دیا جائے۔


اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِیۡہَا وَ لَا تَعۡرٰی﴿۱۱۸﴾ۙ

۱۱۸۔ یقینا اس جنت میں آپ نہ تو بھوکے رہیں گے اور نہ ننگے۔

118۔ اس جنت کا محل وقوع جہاں بھی ہو اس کے یہ اوصاف تھے۔ وہاں خوراک و پوشاک کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اس سے ایک نکتہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے کہ شجرہ ممنوعہ کھانے سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم پر لباس موجود تھا۔ لہذا یہ توجیہ درست ثابت نہیں ہوتی کہ درخت کا پھل کھانے سے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی برہنگی کا احساس ہوا، بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ درخت کا پھل کھانے سے جنت کا لباس اتر گیا۔


وَ اَنَّکَ لَا تَظۡمَؤُا فِیۡہَا وَ لَا تَضۡحٰی﴿۱۱۹﴾

۱۱۹۔ اور یقینا اس میں آپ نہ تو پیاسے رہیں گے اور نہ دھوپ کھائیں گے ۔

119۔ آدم کی نفسیات میں جو کمزوریاں تھیں ابلیس نے ان کے ذریعے حملہ کیا۔ حب بقا انسان کی کمزوری ہے۔ انسان قدرتی طور پر بقا کو پسند کرتا ہے اور موت کو ناپسند کرتا ہے۔ اسی طرح سلطنت و اقتدار کو بھی، پھر سلطنت بھی ایسی جسے زوال نہ ہو۔ اس قسم کی خواہشات کے راستے سے شیطان انسان میں وسوسہ پیدا کرتا ہے۔


فَوَسۡوَسَ اِلَیۡہِ الشَّیۡطٰنُ قَالَ یٰۤـاٰدَمُ ہَلۡ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الۡخُلۡدِ وَ مُلۡکٍ لَّا یَبۡلٰی﴿۱۲۰﴾

۱۲۰۔ پھر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا: اے آدم! کیا میں تمہیں ہمیشگی کے درخت اور لازوال سلطنت کے بارے میں بتاؤں؟


فَاَکَلَا مِنۡہَا فَبَدَتۡ لَہُمَا سَوۡاٰتُہُمَا وَ طَفِقَا یَخۡصِفٰنِ عَلَیۡہِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَنَّۃِ ۫ وَ عَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی ﴿۱۲۱﴾۪ۖ

۱۲۱۔چنانچہ دونوں نے اس میں سے کھایا تو دونوں کے لیے ان کے ستر کھل گئے اور دونوں نے اپنے اوپر جنت کے پتے گانٹھنے شروع کر دیے اور آدم نے اپنے رب کے حکم میں کوتاہی کی تو غلطی میں رہ گئے ۔

121۔ اس درخت کا پھل کھانے سے حضرت آدم علیہ السلام کے جنتی لباس اتر گئے یا چھین لیے گئے؟ تفصیل کا ہمیں علم نہیں ہے، البتہ پھل کھانے اور لباس کے اترنے میں کوئی گہرا ربط ضرور تھا۔

وَ عَصٰۤی اٰدَمُ : ایک حکم تکوینی کی نافرمانی تھی جسے حکم ارشادی کہتے ہیں جس طرح طبیب حضرات مضر صحت چیزوں سے پرہیز کے لیے کہتے ہیں۔ کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو قدرتی اثر اس پر مترتب ہوتا ہے۔


ثُمَّ اجۡتَبٰہُ رَبُّہٗ فَتَابَ عَلَیۡہِ وَ ہَدٰی﴿۱۲۲﴾

۱۲۲۔ پھر ان کے رب نے انہیں برگزیدہ کیا اور ان کی توبہ قبول کی اور ہدایت دی۔

122۔ حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر بھیجنے کے بعد نبوت سے سرفراز کیا اور مکلف بنایا۔ ان کی رہنمائی فرمائی، اللہ کی مرضی کے حصول کی رہنمائی، آئندہ کے لیے نوع انسانی کی نسل کو چلانے کی رہنمائی، زندگی کے لوازمات کی رہنمائی۔ لفظ ہَدٰی مطلق ہے۔ ہر قسم کی رہنمائی کو شامل کرتا ہے۔


قَالَ اہۡبِطَا مِنۡہَا جَمِیۡعًۢا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی ۬ۙ فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشۡقٰی ﴿۱۲۳﴾

۱۲۳۔ فرمایا: یہاں سے دونوں اکٹھے اتر جاؤ ایک دوسرے کے دشمن ہو کر پھر میری طرف سے تمہارے پاس کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی اتباع کرے گا وہ نہ گمراہ ہو گا اور نہ شقی۔


وَ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا وَّ نَحۡشُرُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اَعۡمٰی﴿۱۲۴﴾

۱۲۴۔ اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اسے یقینا ایک تنگ زندگی نصیب ہو گی اور بروز قیامت ہم اسے اندھا محشور کریں گے۔

124۔ جو قلب ذکر خدا سے معطر نہ ہو اسے زندگی کا لطف نہیں آتا۔ یہ قلب اپنے خالق سے بہت مانوس ہوتا ہے اس سے جدائی کی صورت میں اسے سکون نہیں ملتا خواہ دنیا کی ساری دولت اور حکومت اس کو میسر آ جائے۔ اس سے یہ نکتہ بھی سمجھ میں آ جاتا ہے کہ انسان صرف اس دنیا کی زندگی کے لیے پیدا نہیں ہوا، کیونکہ اس دنیا کی ریل پیل سے اس کا جی نہیں بھرتا، بلکہ وہ مزید بے سکون ہو جاتا ہے۔ اگر یہ انسان صرف اسی زندگی کے لیے پیدا ہوا ہوتا تو اسی دنیا کی چیزوں سے اسے اس طرح سکون ملنا چاہیے تھا جس طرح مچھلی کو پانی میں سکون ملتا ہے۔