Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قَالَ فَمَا خَطۡبُکَ یٰسَامِرِیُّ﴿۹۵﴾

۹۵۔ کہا : اے سامری! تیرا مدعا کیا ہے؟


قَالَ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ یَبۡصُرُوۡا بِہٖ فَقَبَضۡتُ قَبۡضَۃً مِّنۡ اَثَرِ الرَّسُوۡلِ فَنَبَذۡتُہَا وَ کَذٰلِکَ سَوَّلَتۡ لِیۡ نَفۡسِیۡ﴿۹۶﴾

۹۶۔ اس نے کہا: میں نے ایسی چیز کا مشاہدہ کیا جس کا دوسروں نے مشاہدہ نہیں کیا پس میں نے فرستادہ خدا کے نقش قدم سے ایک مٹھی(بھر خاک) اٹھا لی پھر میں نے اسے (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور میرے نفس نے یہ بات میرے لیے بھلی بنا دی۔

96۔ سامری نے خود یہ بات بھی گھڑ لی تھی کہ رسول کے قدموں کی مٹی کی یہ کرامت تھی کہ گوسالہ میں یہ آواز آ گئی۔ ممکن ہے رسول سے مراد خود حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوں یا جبرئیل، جبکہ گوسالہ کی ساخت اس طرح تھی کہ اس سے ہوا گزرتی تو آواز نکلتی تھی۔


قَالَ فَاذۡہَبۡ فَاِنَّ لَکَ فِی الۡحَیٰوۃِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ ۪ وَ اِنَّ لَکَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَہٗ ۚ وَ انۡظُرۡ اِلٰۤی اِلٰـہِکَ الَّذِیۡ ظَلۡتَ عَلَیۡہِ عَاکِفًا ؕ لَنُحَرِّقَنَّہٗ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّہٗ فِی الۡیَمِّ نَسۡفًا﴿۹۷﴾

۹۷۔موسیٰ نے کہا: دور ہو جا(تیری سزا یہ ہے کہ ) تجھے زندگی بھر یہ کہتے رہنا ہو گا مجھے ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لیے ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں ہے اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس (کی پوجا) میں تو منہمک تھا، ہم اسے ضرور جلا ڈالیں گے پھر اس (کی راکھ ) کو اڑا کر دریا میں ضرور بکھیر دیں گے ۔

97۔ یعنی اسے معاشرے سے اس طرح جدا کر دیا گیا کہ وہ خود اس کا اعلان کرتا پھرے: خبردار مجھے چھونا نہیں۔ ممکن ہے اسے ایسی بیماری میں مبتلا کر دیا گیا ہو جس سے وہ اچھوت بن کر رہ گیا ہو۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بد دعا سے کوڑھ کی بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ ہر قریب آنے والے کو مطلع کرتا رہتا تھا کہ میں ناپاک ہوں، مجھے چھونا نہیں۔


اِنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ وَسِعَ کُلَّ شَیۡءٍ عِلۡمًا﴿۹۸﴾

۹۸۔ بتحقیق تمہارا معبود تو وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔

98۔ یعنی معبود وہ ہوتا ہے جو اپنی معبودیت میں یکتا ہو۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جب کسی معبودیت میں شرکت آ جائے تو وہ باطل ہے۔


کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ مَا قَدۡ سَبَقَ ۚ وَ قَدۡ اٰتَیۡنٰکَ مِنۡ لَّدُنَّا ذِکۡرًا ﴿ۖۚ۹۹﴾

۹۹۔ (اے رسول) اسی طرح ہم آپ سے گزشتگان کی خبریں بیان کرتے ہیں اور ہم نے آپ کو اپنے ہاں سے ایک نصیحت عطا کی ہے۔

99۔ گزشتہ قوموں کی سرگزشت میں آنے والی قوموں کے لیے درسہائے عبرت ہوتے ہیں جن سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

مِنۡ لَّدُنَّا ذِکۡرًا : ذکر سے مراد قرآن مجید ہے اور ممکن ہے حوادث و واقعات کو ذکر کہا ہو چونکہ ان میں انسان کے لیے عبرتوں، اخلاقیات اور احکام وغیرہ پر مشتمل نصائح موجود ہیں۔


مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡہُ فَاِنَّہٗ یَحۡمِلُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وِزۡرًا﴿۱۰۰﴾ۙ

۱۰۰۔ جو اس سے منہ موڑے گا پس بروز قیامت وہ یقینا ایک بوجھ اٹھائے گا۔


خٰلِدِیۡنَ فِیۡہِ ؕ وَ سَآءَ لَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ حِمۡلًا﴿۱۰۱﴾ۙ

۱۰۱۔ جس میں یہ لوگ ہمیشہ مبتلا رہیں گے اور قیامت کے دن یہ ان کے لیے بدترین بوجھ ہو گا۔

100۔ 101 جس نے بھی اس ذکر سے، یعنی ان عبرتوں سے منہ موڑ لیا اس نے اپنی پشت پر گناہوں کا بوجھ اٹھا لیا۔ یہ بوجھ اس قسم کا ہو گا جو اس کی پشت پر ہمیشہ سوار رہے گا۔


یَّوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ وَ نَحۡشُرُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ یَوۡمَئِذٍ زُرۡقًا﴿۱۰۲﴾ۚۖ

۱۰۲۔ اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور ہم مجرموں کو جمع کریں گے (خوف کے مارے) اس روز جن کی آنکھیں بے نور ہو جائیں گی۔

102۔ قیامت کے دن تمام مخلوقات کو جمع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو قدم اٹھایا جائے گا اسے صور میں پھونکنے سے تعبیر کیا ہے جو ہمارے لیے قریب الفہم ہے اور مجرموں کو نابینائی کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔


یَّتَخَافَتُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا عَشۡرًا﴿۱۰۳﴾

۱۰۳۔ (اس وقت) وہ آپس میں دھیمے دھیمے کہیں گے(دنیا میں) تم صرف دس دن رہے ہو گے۔


نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذۡ یَقُوۡلُ اَمۡثَلُہُمۡ طَرِیۡقَۃً اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا یَوۡمًا﴿۱۰۴﴾٪

۱۰۴۔ ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ کرتے ہیں جب ان میں سے زیادہ صائب الرائے کا یہ کہنا ہو گا کہ تم تو صرف ایک دن رہے ہو۔

103۔ 104 قیامت کی حقیقی اور ابدی زندگی کا مشاہدہ کرنے کے بعد دنیاوی عارضی زندگی کی بے مائیگی سامنے آ جائے گی اور اس پوری زندگی کو صرف دس دن تصور کریں گے اور جو زیادہ صائب الرائے ہو گا، جسے آخرت کی ابدی زندگی کا صحیح ادراک ہو گا وہ اس کے مقابلے میں دنیاوی زندگی کو ایک دن شمار کرے گا اور اگر حیات برزخی ہوئی تو عالم برزخ کے بارے میں بھی ان کا یہی خیال ہو گا کہ تھوڑے دن گزارے ہیں۔ یعنی آخرت کی حقیقی زندگی سامنے آنے کے بعد دوسری زندگیوں کی بے وقعتی سامنے آئے گی۔