Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا﴿۷۵﴾

۷۵۔ اس نے کہا: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کر سکیں گے؟


قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُکَ عَنۡ شَیۡءٍۭ بَعۡدَہَا فَلَا تُصٰحِبۡنِیۡ ۚ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّیۡ عُذۡرًا﴿۷۶﴾

۷۶۔موسیٰ نے کہا: اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی بات پر سوال کیا تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں میری طرف سے آپ یقینا عذر کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔


فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَہۡلَ قَرۡیَۃِۣ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَہۡلَہَا فَاَبَوۡا اَنۡ یُّضَیِّفُوۡہُمَا فَوَجَدَا فِیۡہَا جِدَارًا یُّرِیۡدُ اَنۡ یَّنۡقَضَّ فَاَقَامَہٗ ؕ قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّخَذۡتَ عَلَیۡہِ اَجۡرًا﴿۷۷﴾

۷۷۔ پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب وہ دونوں ایک بستی والوں کے ہاں پہنچ گئے تو ان سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے ان کی پذیرائی سے انکار کر دیا، پھر ان دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی پس اس نے اسے سیدھا کر دیا، موسیٰ نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت لے سکتے تھے۔

77۔ سلسلہ تعلیم کا تیسرا سبق شروع ہوتا ہے۔ اس مرتبہ درس کی نوعیت اور اس کے مضمون میں تبدیلی آ گئی۔ پہلے سبق میں وہ مضامین پڑھائے گئے جو بظاہر نا انصافی اور زیادتی دکھائی دیتے ہیں، جبکہ اس مرتبہ وہ مضمون پڑھایا جا رہا ہے جس میں ایک ایسا عمل ہے، جس میں کوئی حکمت اور فلسفہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔ دونوں کو بھوک کا سامنا ہے۔ گاؤں والے کنجوس ہیں۔ بجائے اس کے کہ کوئی ایسا عمل انجام دیا جائے جس سے بھوک کا علاج ہو جائے، ایک ایسا عمل شروع ہو گیا جس کا بظاہر کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اعتراض کا محرک جذبات نہیں، خواہش نفسی ہے اور حکمت عملی کے فقدان کا احساس ہے۔ بظاہر اس کام کی انجام دہی میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا تھا، لیکن باطن میں ایک صالح شخص نے اپنے یتیم بچوں کے لیے جو خزانہ محفوظ کر لیا تھا اسے بچانا مقصود تھا۔


قَالَ ہٰذَا فِرَاقُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنِکَ ۚ سَاُنَبِّئُکَ بِتَاۡوِیۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا﴿۷۸﴾

۷۸۔ انہوں نے کہا: (بس) یہی میری اور آپ کی جدائی کا لمحہ ہے، اب میں آپ کو ان باتوں کی تاویل بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔

78۔ اس تحقیقی و تدریسی سفر کا جاری رکھنا اب ممکن نہیں ہے، جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوسرے سبق کے دوران ہی سمجھ لیا تھا۔

لیکن جدائی سے پہلے ان واقعات سے پردہ اٹھاؤں جن پر تجھے اور ہر چشم ظاہر بین کو اعتراض تھا اور ان میں مضمر ان رازوں کا انکشاف کروں جو نظام حیات کی بہتری کے لیے ضروری ہیں۔


اَمَّا السَّفِیۡنَۃُ فَکَانَتۡ لِمَسٰکِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ فِی الۡبَحۡرِ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِیۡبَہَا وَ کَانَ وَرَآءَہُمۡ مَّلِکٌ یَّاۡخُذُ کُلَّ سَفِیۡنَۃٍ غَصۡبًا﴿۷۹﴾

۷۹۔ وہ کشتی چند غریب لوگوں کی تھی جو سمندر میں محنت کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اسے عیب دار بنا دوں کیونکہ ان کے پیچھے ایک بادشاہ تھا جو ہر (سالم )کشتی کو جبراً چھین لیتا تھا۔


وَ اَمَّا الۡغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤۡمِنَیۡنِ فَخَشِیۡنَاۤ اَنۡ یُّرۡہِقَہُمَا طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ﴿ۚ۸۰﴾

۸۰۔ اور لڑکے (کا مسئلہ یہ تھا کہ اس) کے والدین مؤمن تھے اور ہمیں اندیشہ ہوا کہ لڑکا انہیں سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا۔


فَاَرَدۡنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیۡرًا مِّنۡہُ زَکٰوۃً وَّ اَقۡرَبَ رُحۡمًا﴿۸۱﴾

۸۱۔ پس ہم نے چاہا کہ ان کا رب انہیں اس کے بدلے ایسا فرزند دے جو پاکیزگی میں اس سے بہتر اور محبت میں اس سے بڑھ کر ہو ۔


وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنۡ یَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسۡتَخۡرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَ مَا فَعَلۡتُہٗ عَنۡ اَمۡرِیۡ ؕ ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿ؕ٪۸۲﴾

۸۲۔ اور (رہی) دیوار تو وہ اسی شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ موجود تھا اور ان کا باپ نیک شخص تھا، لہٰذا آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے اپنا خزانہ نکالیں اور یہ میں نے اپنی جانب سے نہیں کیا، یہ ہے ان باتوں کی تاویل جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔

82۔ یہ وہ حقائق ہیں جن پر چشم ظاہر بین کو صبر نہیں آتا۔ یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ کشتی میں سوراخ کرنا اور لڑکے کو قتل کرنا حضرت خضر علیہ السلام کا عمل نہ ہو بلکہ اللہ کے نظام تکوینی میں رونما ہونے والے واقعات کو تمثیلی طور پر پیش کیا گیا ہو اور ان حقائق کو حضرت خضر علیہ السلام کے عمل کی صورت میں دکھایا گیا ہو جو کہ در حقیقت اللہ کی طرف سے تھا۔

تاویل کے بارے میں مقدمہ میں بھی بحث ہو گئی ہے کہ ہر واقعہ اور فعل کی تاویل وہ مرکزی نکتہ ہے جس پر فعل کی مصلحت اور اس کی افادیت کا انحصار ہے۔ وہی اس کا محرک اور جواز بنتا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس طرح نظام کائنات کے پوشیدہ رازوں کا مطالعہ کرانا مقصود ہے۔ البتہ اس فرق کے ساتھ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت خاتم الانبیاء صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جس مرتبہ کا ملکوتی مطالعہ کرایا، موسیٰ علیہ السلام کو اس سے کم تر درجے کا مطالعہ کرایا۔ چنانچہ اس درس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سیکھا کہ اس کائنات میں رونما ہونے والے وہ واقعات جن کی ہم کوئی مثبت توجیہ نہیں کر سکتے، ان کے پیچھے ایک حکمت پوشیدہ ہے جو اس کائنات کے بہتر نظام کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ یہ ہمارے روز کا مشاہدہ ہے کہ ایک شخص کا اکلوتا بچہ مر جاتا ہے۔کسی غریب مسکین کی جمع پونجی ضائع ہو جاتی ہے۔ کسی شخص کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہو جاتا۔ ایک ظالم کے پاس طاقت اور ایک مظلوم کے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ اور اس کی توجیہ اور مصلحت عام لوگوں کی فہم سے خارج ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نظام تکوینی میں رونما ہونے والے اس قسم کے حالات اور حادثات کے پیچھے جو اسرار و رموز پوشیدہ ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو آگاہ فرماتا ہے۔


وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنۡ ذِی الۡقَرۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ سَاَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ مِّنۡہُ ذِکۡرًا ﴿ؕ۸۳﴾

۸۳۔ اور لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہدیجئے: جلد ہی اس کا کچھ ذکر تمہیں سناؤں گا۔

83۔ ذوالقرنین، دو سینگوں والا کی وجہ تسمیہ میں یہ بات زیادہ قرین قیاس ہے کہ خسرو نے سیڈیا اور فارس دونوں بادشاہتوں کو فتح کر لیا، اس لیے دو سینگوں والا لقب ہو گیا اور سینگ اس زمانے میں طاقت کی نشانی ہو سکتی ہے۔ المیزان کے مطابق خسرو کا مجسمہ ماضی قریب میں مرغاب جنوب ایران میں دریافت ہوا، اس میں اس کے تاج میں دو سینگ بھی ابھرے ہوئے نظر آتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ اس بادشاہ کو ذوالقرنین کیوں کہا گیا۔

یہودیوں کے ہاں جس عالمی فرماں روا کو ذوالقرنین کے نام سے شہرت حاصل تھی وہ ایران کے فرماں روا خسرو یا سائرس ہی ہو سکتے ہیں، کیونکہ جب 539 ق م خسرو نے بابل فتح کیا تو اس نے بابل میں اسیر یہودیوں کو اپنے ملک واپس جانے کی اجازت دے دی، جس کی وجہ سے یہودی دوبارہ اپنے وطن میں آباد ہوئے اور اسی خسرو نے یہودیوں کو ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی جو یہودیوں کی تاریخ میں اہم ترین واقعہ ہے۔ لہٰذا زیادہ امکان یہی ہے کہ ذوالقرنین سے مراد خسرو ہی ہے۔

مشہور یہ ہے کہ ذوالقرنین سے مراد سکندر اعظم مقدونی متوفی 323 ق م ہے، جو قرآن کے سیاق کلام کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ سکندر اعظم موحد نہ تھا، نہ ہی اس نے کوئی بند باندھا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ذوالقرنین سے مراد ایرانی بادشاہ کورش کبیر متوفی 539 ق م ہے۔ بعض محققین کے مطابق یہی قرین قیاس ہے۔


اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الۡاَرۡضِ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ سَبَبًا ﴿ۙ۸۴﴾

۸۴۔ بے شک ہم نے اسے زمین میں اقتدار عطا کیا اور ہم نے ہر شے کے (مطلوبہ) وسائل بھی اسے فراہم کیے۔