Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الۡبَحۡرِ ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىکُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ کَفُوۡرًا﴿۶۷﴾

۶۷۔ اور جب سمندر میں تمہیں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو سوائے اللہ کے جن جن کو تم پکارتے تھے وہ سب ناپید ہو جاتے ہیں پھر جب اللہ تمہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو تم منہ موڑنے لگتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ثابت ہوا ہے ۔


اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ یَّخۡسِفَ بِکُمۡ جَانِبَ الۡبَرِّ اَوۡ یُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۶۸﴾

۶۸۔تو کیا تم اس بات سے خائف نہیں ہو کہ اللہ تمہیں خشکی کی طرف زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی چلا دے، پھر تم اپنے لیے کوئی ضامن نہیں پاؤ گے۔


اَمۡ اَمِنۡتُمۡ اَنۡ یُّعِیۡدَکُمۡ فِیۡہِ تَارَۃً اُخۡرٰی فَیُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیۡحِ فَیُغۡرِقَکُمۡ بِمَا کَفَرۡتُمۡ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ عَلَیۡنَا بِہٖ تَبِیۡعًا﴿۶۹﴾

۶۹۔ آیا تمہیں اس بات کا خوف نہیں کہ اللہ تمہیں دوبارہ سمندر کی طرف لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلا دے پھر تمہارے کفر کی پاداش میں تمہیں غرق کر دے؟ پھر تمہیں اپنے لیے اس بات پر ہمارا پیچھا کرنے والا کوئی نہ ملے گا۔

68 ۔ 69 انسان کاملاً اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ دریا میں ہو یا خشکی میں، اس کے لیے اللہ کی گرفت سے بچ نکلنا ممکن نہیں ہے۔ خشکی میں اگر وہ زمین میں دھنس جائے اور آندھی میں گھر جائے اور سمندر کی لہروں میں پھنس جائے تو اللہ کے علاوہ اسے بچانے والا کوئی نہیں ہے، کیونکہ ان تمام چیزوں پر اللہ کی حکومت ہے اور اللہ کی حکومت سے فرار ممکن نہیں ہے۔


وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا﴿٪۷۰﴾

۷۰۔ اور بتحقیق ہم نے اولاد آدم کو عزت و تکریم سے نوازا اور ہم نے انہیں خشکی اور سمندر میں سواری دی اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں بڑی فضیلت دی۔

70۔ انسان کو عزت و تکریم سے اس طرح سے نوازا گیا ہے کہ اللہ نے کائنات کی ہر چیز کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے، جبکہ انسان کو کسی اور مخلوق کے لیے مسخر نہیں کیا نیز انسان میں ارتقائی صلاحیت ودیعت فرمائی، دوسری مخلوقات میں نہیں۔ چنانچہ جانور آج ایٹمی دور میں بھی اسی طرح چرتے ہیں جس طرح وہ تخلیق کے ابتدائی دور میں چرتے تھے۔


یَوۡمَ نَدۡعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمۡ ۚ فَمَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ فَاُولٰٓئِکَ یَقۡرَءُوۡنَ کِتٰبَہُمۡ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۷۱﴾

۷۱۔ قیامت کے دن ہم ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے پھر جن کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا پس وہ اپنا نامہ اعمال پڑھیں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا۔


وَ مَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیۡلًا﴿۷۲﴾

۷۲۔ اور جو شخص اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ (اندھے سے بھی) زیادہ گمراہ ہو گا۔

71۔ 72 اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر زمانے میں امام حق اور امام باطل دونوں موجود ہوتے ہیں۔ جہاں باطل کی طرف دعوت دینے والے امام شیطان اور اس کے ہمنوا ہوتے ہیں، وہاں حق کی طرف دعوت دے کر لوگوں پر حجت پوری کرنے والے امام کا وجود بھی ضروری ہے۔ چنانچہ امام حق کے ساتھ محشور ہونے والوں کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ انتخاب امام اور حق کی پیروی کے مسئلے میں جو لوگ دنیا میں اندھے ہوں گے وہ آخرت میں بھی اندھے رہیں گے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: کیا تم اللہ کی حمد و ثنا بجا نہیں لاتے کہ جب قیامت کے دن اللہ ہر قوم کو اس شخص کے ساتھ بلائے گا جس کی پیشوائی اس نے قبول کی ہو گی تو ہمیں رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ پکارے گا تو تم ہماری پناہ میں آؤ گے؟ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم کدھر لے جائے جاؤ گے؟ رب کعبہ کی قسم! جنت کی طرف۔ اس جملہ کو امام علیہ السلام نے تین مرتبہ دہرایا۔ (مجمع البیان)


وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَفۡتِنُوۡنَکَ عَنِ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ لِتَفۡتَرِیَ عَلَیۡنَا غَیۡرَہٗ ٭ۖ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوۡکَ خَلِیۡلًا﴿۷۳﴾

۷۳۔ اور (اے رسول) یہ لوگ آپ کو اس وحی سے منحرف کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے تاکہ آپ (وحی سے ہٹ کر) کوئی اور بات گھڑ کر ہماری طرف منسوب کریں اس صورت میں وہ ضرور آپ کو دوست بنا لیتے۔


وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰکَ لَقَدۡ کِدۡتَّ تَرۡکَنُ اِلَیۡہِمۡ شَیۡئًا قَلِیۡلًا﴿٭ۙ۷۴﴾

۷۴۔ اور اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو بلاشبہ آپ کچھ نہ کچھ ان کی طرف مائل ہو جاتے۔

74۔ یہ آیت عصمت رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ فرمایا: اگر اللہ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ثابت قدم نہ رکھتا تو بعید نہ تھا کہ ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک جاتے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اب چونکہ اللہ نے آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ثابت قدم رکھا ہے تو ان کی طرف جھکنا بعید ہے۔


اِذًا لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ وَ ضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیۡنَا نَصِیۡرًا﴿۷۵﴾

۷۵۔ اس صورت میں ہم آپ کو زندگی میں بھی دوہرا عذاب اور آخرت میں بھی دوہرا عذاب چکھا دیتے پھر آپ ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ پاتے۔


وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَسۡتَفِزُّوۡنَکَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِیُخۡرِجُوۡکَ مِنۡہَا وَ اِذًا لَّا یَلۡبَثُوۡنَ خِلٰفَکَ اِلَّا قَلِیۡلًا﴿۷۶﴾

۷۶۔ اور قریب تھا کہ یہ لوگ آپ کے قدم اس سرزمین سے اکھاڑ دیں تاکہ آپ کو یہاں سے نکال دیں اور اگر یہ ایسا کریں گے تو آپ کے بعد یہ زیادہ دیر یہاں نہیں ٹھہر سکیں گے۔

76۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی چند سالوں کے اندر صحیح ثابت ہو گئی۔ چنانچہ اس سورے کے نزول کے صرف ایک سال کے بعد رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور کیا گیا اور ابھی آٹھ سال کا عرصہ نہیں گزرا تھا کہ آپ فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے اور اس کے بعد ایک مختصر عرصہ میں جزیرہ عرب مشرکین سے پاک ہو گیا۔