Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُکُمُ الۡکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ﴿۱۱۶﴾ؕ

۱۱۶۔ اور جن چیزوں پر تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگاتی ہیں ان کے بارے میں نہ کہو یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ تم اللہ پر جھوٹ افترا کرو، جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں وہ یقینا فلاح نہیں پاتے ۔

115۔116 خطاب اس مرتبہ مسلمانوں سے ہے کہ تم پر جو حرام قرار دیا ہے وہ مردار، خون، سور کا گوشت اور وہ جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ ان کے علاوہ جن چیزوں کو تم حرام و حلال قرار دیتے ہو یہ اللہ پر افترا ہے۔ واضح رہے قانون سازی اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کا حصہ ہے۔ لہٰذا اس میں مداخلت اللہ کی حاکمیت اعلیٰ میں مداخلت ہے۔


مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۪ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ﴿۱۱۷﴾

۱۱۷۔ چند روزہ کیف ہے اور پھر ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔


وَ عَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا مَا قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ﴿۱۱۸﴾

۱۱۸۔ اور جنہوں نے یہودیت اختیار کی ہے ان پر وہی چیزیں ہم نے حرام کر دیں جن کا ذکر پہلے ہم آپ سے کر چکے ہیں اور ہم نے تو ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔


ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ عَمِلُوا السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَ اَصۡلَحُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۱۱۹﴾٪

۱۱۹۔ پھر بے شک آپ کا رب ان کے لیے جنہوں نے نادانی میں برا عمل کیا پھر اس کے بعد توبہ کر لی اور اصلاح کر لی تو یقینا اس کے بعد آپ کا رب بڑا بخشنے والا ، مہربان ہے۔

119۔ یہاں جہالت سے مراد حقیقت گناہ اور اس کے ارتکاب کے برے اثرات سے نا آشنائی ہو سکتی ہے، ورنہ بغیر کسی کوتاہی کے گناہ کا علم ہی نہ ہو تو یہ سرے سے گناہ نہیں ہے۔توبہ کے بعد اصلاح کا ذکر اس لیے آیا کہ اصلاح توبہ کا لازمی نتیجہ ہے، کیونکہ توبہ برے اعمال سے برگشتہ ہونے کو کہتے ہیں اور برے اعمال کو چھوڑنے کا مطلب اصلاح ہے۔


اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیۡفًا ؕ وَ لَمۡ یَکُ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ﴿۱۲۰﴾ۙ

۱۲۰۔ ابراہیم (اپنی ذات میں) ایک امت تھے اللہ کے فرمانبردار اور ( اللہ کی طرف) یکسو ہونے والے تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔


شَاکِرًا لِّاَنۡعُمِہٖ ؕ اِجۡتَبٰہُ وَ ہَدٰىہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ﴿۱۲۱﴾

۱۲۱۔ (وہ) اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں برگزیدہ کیا اور صراط مستقیم کی طرف ان کی ہدایت کی۔


وَ اٰتَیۡنٰہُ فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ﴿۱۲۲﴾ؕ

۱۲۲۔ اور ہم نے دنیا میں انہیں بھلائی دی اور آخرت میں وہ صالحین میں سے ہیں۔

120 تا 122۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام دنیائے کفر کے مقابلے میں ایک ملت کی مانند تھے اور ایک امت کی طرح طاقتور رہے۔ آپ علیہ السلام نے ایک امت کی طرح قیام کیا، ایک امت کی طرح وقت کے طاغوت کا مقابلہ کیا، طاغوت پر فتح حاصل کی اور ایک امت کی طرح انسانیت کی تاریخ کا رخ بدلا۔ وہ اللہ کے فرمانبردار تھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ طاقت اللہ کی اطاعت اور طاقت کے سرچشمہ سے گہرے ربط کی وجہ سے ملی۔

یکسو ہونے والا: وہ تمام غیر اللہ سے منقطع ہو کر یکسوئی کے ساتھ صرف اللہ کی طرف متوجہ رہتے تھے اور اسی پر تکیہ کرتے تھے۔ غیر اللہ سے منقطع ہونے کی صورت میں ہی اللہ پر کامل بھروسا ہو سکتا ہے اور اگر کوئی غیر اللہ پر بھروسا کرتا ہے تو اللہ اس کو اسی غیر اللہ پر چھوڑتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے عقائد اور کردار میں شرک اور غیر اللہ کی طرف توجہ کرنے کا شائبہ تک نہ تھا۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔ مقام شکر پر فائز ہونا حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے خلیل الرحمن کے لیے بھی اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر نعمت قولاً و عملًا کس قدر عند اللہ قابل قدر عمل ہے۔

درج بالا اوصاف کے حامل ہونے پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان عنایتوں سے نوازا گیا: i۔ ان کو برگزیدہ کیا ii۔ ان کو صراط مستقیم کی رہنمائی کی iii۔ دنیا میں بھی ان کو حسنات سے نوازا اور آخرت میں بھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیک اعمال کے اثرات اس زندگی پر بھی مترتب ہوتے ہیں۔


ثُمَّ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ اَنِ اتَّبِعۡ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ﴿۱۲۳﴾

۱۲۳۔ (اے رسول) پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ یکسوئی کے ساتھ ملت ابراہیمی کی پیروی کریں اور ابراہیم مشرکین میں سے نہ تھے۔


اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ عَلَی الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ﴿۱۲۴﴾

۱۲۴۔ سبت (کا احترام ) ان لوگوں پر لازم کیا گیا تھا جنہوں نے اس بارے میں اختلاف کیا اور آپ کا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے۔


اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ﴿۱۲۵﴾

۱۲۵۔ (اے رسول) حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دیں اور ان سے بہتر انداز میں بحث کریں، یقینا آپ کا رب بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔

125۔ دعوت الی الحق دو بنیادوں پر استوار ہے: ایک حکمت اور دوسری موعظہ حسنہ۔ حکمت یعنی حقائق کا صحیح ادراک۔ لہٰذا حکمت کے ساتھ دعوت دینے سے مراد دعوت کا وہ اسلوب ہو سکتا ہے جس سے مخاطب پر حقائق آشکار ہونے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ دعوت کو حکیمانہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مخاطب کی ذہنی و فکری صلاحیت، نفسیاتی حالت، اس کے عقائد و نظریات اور ماحول و عادات کو مدنظر رکھا جائے۔ موقع و محل اور مقتضی حال کے مطابق بات کی جائے کہ مخاطب کو کون سی دلیل متاثر کر سکتی ہے اور اس بات پر بھی توجہ ہو کہ ہر بات ہر جگہ نہیں کہی جاتی بلکہ ہر حق بات ہر جگہ نہیں کہی جاتی۔ جیسا کہ ہر دوائی سے ہر مرض کا علاج نہیں کیا جاتا بلکہ ہر صحیح علاج بھی ہر مریض کے لیے مناسب نہیں۔ اگر مریض کا معدہ اس دوائی کو ہضم کرنے کے قابل نہ ہو۔ جیسا کہ رسول اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تبلیغ اسلام میں تدریجی حکمت عملی اختیار فرمائی اور شروع میں صرف قولوا لاَ اِلہ اِلا اللہ تفلحوا پر اکتفا فرمایا۔ چونکہ یہ حکیمانہ تقاضوں کے منافی تھا کہ نظام شریعت کے تمام احکام بہ یک وقت تبلیغ اور نافذ کیے جاتے۔

الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ : موعظہ کے ساتھ حسنہ کی قید سے معلوم ہوا کہ موعظہ غیر حسنہ بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا اس دعوت میں ہر قسم کا موعظہ درکار نہیں ہے۔ مثلاً وہ موعظہ جس میں واعظ اپنی بڑائی دکھانا چاہتا ہے، مخاطب کو حقیر سمجھتا ہے یا صرف سرزنش پر اکتفا کرتا ہے۔ موعظہ حسنہ کے لیے سب سے پہلے خود واعظ کا اس موعظہ کا پابند ہونا ضروری ہے، ورنہ اس کا موعظہ موثر نہ ہو گا، بلکہ ایسا کرنا قابل سرزنش ہے۔