Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ قَالَ الَّذِیۡ نَجَا مِنۡہُمَا وَ ادَّکَرَ بَعۡدَ اُمَّۃٍ اَنَا اُنَبِّئُکُمۡ بِتَاۡوِیۡلِہٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ﴿۴۵﴾

۴۵۔ اور ان دو قیدیوں میں سے جس نے رہائی پائی تھی اور اسے وہ بات بڑی مدت بعد یاد آ گئی ، اس نے کہا: میں تمہیں اس خواب کی تعبیر بتاتا ہوں مجھے (یوسف کے پاس زندان) بھیج دیجئے۔


یُوۡسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیۡقُ اَفۡتِنَا فِیۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعِ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّیۡۤ اَرۡجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ﴿۴۶﴾

۴۶۔ اے یوسف! اے بڑے راستگو! سات دبلی گائیں سات موٹی گایوں کو کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز اور سات خوشے خشک ہیں، ہمیں (اس کی تعبیر) بتائیں تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جاؤں (آپ کی سچی تعبیر سن کر) شاید وہ جان لیں۔


قَالَ تَزۡرَعُوۡنَ سَبۡعَ سِنِیۡنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدۡتُّمۡ فَذَرُوۡہُ فِیۡ سُنۡۢبُلِہٖۤ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تَاۡکُلُوۡنَ﴿۴۷﴾

۴۷۔ یوسف نے کہا: تم سات برس تک متواتر کھیتی باڑی کرتے رہو گے ان سالوں میں جو فصل تم کاٹو ان میں سے قلیل حصہ تم کھاؤ باقی اس کے خوشوں ہی میں رہنے دو۔


ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ سَبۡعٌ شِدَادٌ یَّاۡکُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَہُنَّ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تُحۡصِنُوۡنَ﴿۴۸﴾

۴۸۔ پھر اس کے بعد سات برس ایسے سخت آئیں گے جن میں وہ غلہ کھا لیا جائے گا جو تم نے ان سالوں کے لیے جمع کر رکھا ہو گا سوائے اس تھوڑے حصے کے جو تم بچا کر رکھو گے۔


ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیۡہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیۡہِ یَعۡصِرُوۡنَ﴿٪۴۹﴾

۴۹۔ اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں کو خوب بارش ملے گی اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے۔


وَ قَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖ ۚ فَلَمَّا جَآءَہُ الرَّسُوۡلُ قَالَ ارۡجِعۡ اِلٰی رَبِّکَ فَسۡـَٔلۡہُ مَا بَالُ النِّسۡوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِکَیۡدِہِنَّ عَلِیۡمٌ﴿۵۰﴾

۵۰۔ اور بادشاہ نے کہا : یوسف کو میرے پاس لاؤ پھر جب قاصد یوسف کے پاس آیا تو انہوں نے کہا :اپنے رب کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا مسئلہ کیا تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ دیے تھے؟ میرا رب تو ان کی مکاریوں سے یقینا خوب باخبر ہے۔

50۔ تعبیر خواب سن کر بادشاہ نے اندازہ لگایا ہو گا کہ یوسف علیہ السلام ایک غیر معمولی شخصیت ہیں۔ وہ نہ صرف خوابوں کی تعبیر جانتے ہیں بلکہ اپنی جوانی زندان میں گزارنے اور جوان و ناتجربہ کار ہونے کے باوجود تدبیر مملکت کی خاصی مہارت رکھتے ہیں

دوسری بات یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے کسی پر الزام دھرنے کی بجائے حقیقت امر میں تحقیق کی خواہش کی اور عزیز مصر کی بیوی کا ذکر نہیں کیا، بلکہ واقعہ کے گواہوں کا ذکر کیا اور حضرت یوسف یہ نہیں چاہتے تھے کہ الزام کا داغ لے کر بادشاہ کی معافی کے ذریعے زندان سے آزاد ہو جائیں۔


قَالَ مَا خَطۡبُکُنَّ اِذۡ رَاوَدۡتُّنَّ یُوۡسُفَ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا عَلِمۡنَا عَلَیۡہِ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ قَالَتِ امۡرَاَتُ الۡعَزِیۡزِ الۡـٰٔنَ حَصۡحَصَ الۡحَقُّ ۫ اَنَا رَاوَدۡتُّہٗ عَنۡ نَّفۡسِہٖ وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ﴿۵۱﴾

۵۱۔ (بادشاہ نے عورتوں سے) پوچھا: اس وقت تمہارا کیا واقعہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے ارادے سے پھسلانے کی کوشش کی تھی؟ سب عورتوں نے کہا: پاکیزہ ہے اللہ، ہم نے تو یوسف میں کوئی برائی نہیں دیکھی، (اس موقع پر) عزیز کی بیوی نے کہا: اب حق کھل کر سامنے آ گیا، میں نے ہی یوسف کو اس کی مرضی کے خلاف پھسلانے کی کوشش کی تھی اور یوسف یقینا سچوں میں سے ہیں۔

51۔ بادشاہ بذات خود اس مسئلے میں تحقیق شروع کرتا ہے اور ان عورتوں سے سوال کرنے سے پہلے لگتا ہے بادشاہ اس معاملے کی تہ تک پہنچ چکا تھا۔ چنانچہ بادشاہ کے سوال کا لب و لہجہ بتاتا ہے مَا خَطۡبُکُنَّ وہ قابل توجہ معاملہ اور اس کی حقیقت کیا تھی، جب تم نے یوسف علیہ السلام کو پھسلانے کی کوشش کی تھی۔ عورتوں نے دیکھا کہ اس جگہ اعتراف جرم کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ معاملہ اس حد تک واضح ہو چکا تھا کہ عورتوں نے اپنی صفائی تک پیش نہیں کی، صرف یوسف کی پاکدامنی کی گواہی دی۔ بعد میں اس جرم کے مرکزی کردار عزیز کی بیوی نے دیکھا راز کھل چکا ہے حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اس نے اعتراف جرم کر لیا اور یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کی گواہی دی۔ مقدمہ ختم ہوا یوسف کی فتح ہوئی۔ اس طویل سازش میں کنعان کا غریب الوطن غلام اور برسوں کا زندانی کامیاب ہوا، جبکہ عزیز مصر، اس کی بیگم اور بڑے بڑے خاندانوں کی بیگمات ناکام ہو گئے اور حق سر بلند ہوا۔


ذٰلِکَ لِیَعۡلَمَ اَنِّیۡ لَمۡ اَخُنۡہُ بِالۡغَیۡبِ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ کَیۡدَ الۡخَآئِنِیۡنَ﴿۵۲﴾

۵۲۔ (یوسف نے کہا) ایسا میں نے اس لیے کیا کہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کاروں کے مکر و فریب کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کرتا۔

52۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ بات اس وقت کہی ہو گی جب شاہی دربار میں فیصلہ آپ علیہ السلام کے حق میں ہوا ہو گا۔ میں نے زندان سے آزاد ہونے کو قبول نہیں کیا اور اپنے اوپر عائد الزام کی تحقیقات کی شرط لگائی تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آ جائے اور عزیز جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی ناموس کے بارے میں کوئی خیانت نہیں کی اور دنیا والے بھی یہ جان لیں کہ مکر و فریب پر مبنی کوئی سازش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتی۔


وَ مَاۤ اُبَرِّیٴُ نَفۡسِیۡ ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۵۳﴾

۵۳۔ اور میں اپنے نفس کی صفائی پیش نہیں کرتا، کیونکہ (انسانی) نفس تو برائی پر اکساتا ہے مگر یہ کہ میرا رب رحم کرے،بیشک میرا رب بڑا بخشنے، رحم کرنے والا ہے۔


وَ قَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖۤ اَسۡتَخۡلِصۡہُ لِنَفۡسِیۡ ۚ فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الۡیَوۡمَ لَدَیۡنَا مَکِیۡنٌ اَمِیۡنٌ﴿۵۴﴾

۵۴۔ اور بادشاہ نے کہا: اسے میرے پاس لے آؤ، میں اسے خاص طور سے اپنے لیے رکھوں گا پھر جب یوسف نے بادشاہ سے گفتگو کی تو اس نے کہا: بے شک آج آپ ہمارے بااختیار امانتدار ہیں۔

54۔ گفتگو کے بعد بادشاہ کو اندازہ ہو گیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نفس کی پاکیزگی اور کردار کی بلندی کے ساتھ فہم و فراست کے لحاظ سے ایک مشیر کے منصب سے بالاتر ہیں۔ اس لیے ان کو امور مملکت کا مالک بنا دیا۔