Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَاَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ؕ﴿۸﴾

۸۔ رہے داہنے ہاتھ والے تو داہنے ہاتھ والوں کا کیا کہنا۔

8۔ پہلا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہو گا جنہیں عزت و تکریم کی بنا پر اَصۡحٰبُ مَیۡمَنَۃِ (دائیں ہاتھ والے) کہا گیا ہے۔ ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں آئے گا۔


وَ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ؕ﴿۹﴾

۹۔ اور رہے بائیں ہاتھ والے تو بائیں ہاتھ والوں کا کیا پوچھنا۔

9۔دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہو گا جن کو نحوست کی بنا پر بائیں ہاتھ والے کہا گیا ہے۔ ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں آئے گا۔ بعض مَیۡمَنَۃِ کو برکت اور مَشۡـَٔمَۃِ کو نحوست کے معنوں میں لیتے ہیں۔


وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ﴿ۚۙ۱۰﴾

۱۰۔ اور سبقت لے جانے والے تو آگے بڑھنے والے ہی ہیں۔

10۔ تیسرا گروہ وہ لوگ ہوں گے جو السّٰبِقُوۡنَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ سے موسوم ہیں۔ یہ ہر کار خیر کی طرف عموماً اور ایمان کی طرف خصوصاً سبقت لے جانے والے ہیں۔ ان کے واضح مصادیق اور صف اول کے افراد کی حیثیت سے مومن آل فرعون (حزقیل) حبیب نجار اور علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے نام روایات میں ملتے ہیں۔ ملاحظہ ہو الدر المنثور۔ تفسیر ابن کثیر 4: 283 ط مصر۔ فتح القدیر 5: 148 ط مصر۔


اُولٰٓئِکَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ۚ۱۱﴾

۱۱۔ یہی وہ مقرب لوگ ہیں۔


فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ﴿۱۲﴾

۱۲۔ نعمتوں سے مالا مال جنتوں میں ہوں گے۔


ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾

۱۳۔ ایک جماعت اگلوں میں سے۔


وَ قَلِیۡلٌ مِّنَ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾

۱۴۔ اور تھوڑے لوگ پچھلوں میں سے ہوں گے۔

14۔ الۡاَوَّلِیۡنَ سے سابقہ امتوں اور الۡاٰخِرِیۡنَ میں سے امت محمدی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مراد ہونا اصطلاح قرآن کے قریب ہے۔ یعنی سابقہ امتوں سے السّٰبِقُوۡنَ زیادہ ہوں گے اور امت محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے تھوڑے ہوں گے کیونکہ سابقین مقربین کا ایک بہت بلند درجہ ہے جس میں انبیاء و ائمہ و اوصیاء اور ان کے خواص شامل ہو سکتے ہیں، جو سابقہ امتوں میں زیادہ ہیں اور اس امت میں اس درجے پر فائز لوگ کم ہیں۔


عَلٰی سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾

۱۵۔ جواہر سے مرصع تختوں پر،


مُّتَّکِـِٕیۡنَ عَلَیۡہَا مُتَقٰبِلِیۡنَ﴿۱۶﴾

۱۶۔ تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔


یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ﴿ۙ۱۷﴾

۱۷۔ ان کے گرد تا ابد رہنے والے لڑکے پھر رہے ہوں گے۔

17۔ بعض کے نزدیک یہ لڑکے وہ بچے ہوں گے جن کا کوئی عمل خیر ہے جس کا ثواب مل جائے اور نہ گناہ ہے جس کی سزا مل جائے۔