Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اِصۡلَوۡہَا فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا ۚ سَوَآءٌ عَلَیۡکُمۡ ؕ اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴿۱۶﴾

۱۶۔ اب اس میں جھلس جاؤ پھر صبر کرو یا صبر نہ کرو تمہارے لیے یکساں ہے، تمہیں تو بہرحال تمہارے اعمال کی جزائیں دی جائیں گی۔

16۔ صبر اس وقت نتیجہ خیز ہوتا ہے کہ جب کسی بہتر انجام کے لیے اختیار کیا جائے۔ جہنمی جب اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے تو اس صبر کا کوئی انجام نہیں ہوتا۔


اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۱۷﴾

۱۷۔ اہل تقویٰ تو یقینا جنتوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔


فٰکِہِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ۚ وَ وَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ﴿۱۸﴾

۱۸۔ ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا کیا ہے اس پر وہ خوش ہوں گے اور ان کا رب انہیں عذاب جہنم سے بچا لے گا۔


کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا ہَنِیۡٓـًٔۢا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿ۙ۱۹﴾

۱۹۔ خوشگواری سے کھاؤ اور پیو ان اعمال کے عوض جو تم کرتے رہے ہو۔


مُتَّکِئِیۡنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَۃٍ ۚ وَ زَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ﴿۲۰﴾

۲۰۔ وہ صف میں بچھی ہوئی مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اور بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کر دیں گے۔


وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتۡہُمۡ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلۡحَقۡنَا بِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ مَاۤ اَلَتۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ کُلُّ امۡرِیًٴۢ بِمَا کَسَبَ رَہِیۡنٌ﴿۲۱﴾

۲۱۔ اور جو لوگ ایمان لے آئے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ان کی اولاد کو (جنت میں) ہم ان سے ملا دیں گے اور ان کے عمل میں سے ہم کچھ بھی کم نہیں کریں گے، ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہے۔

21۔ والدین کے احسانات صرف دنیا تک محدود نہیں ہیں۔ قیامت کے دن بھی وہ اپنی نیک اولاد کی شفاعت کر کے انہیں جنت میں لے جائیں گے۔ جب والدین کو جنت جانے کی اجازت مل جائے گی اور اولاد کو نہیں اور اولاد والدین کے درجے پر فائز نہ ہو بلکہ ان سے کم درجے کی مومن ہو، لیکن والدین کی خواہش پر اسے بھی والدین کے درجے میں لایا جائے گا اور والدین کے درجات میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ سورئہ مومن آیت 8 اور سورئہ رعد کی آیت 23 سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر والدین کم درجے کے ہیں تو ان کو اولاد کے درجے پر لایا جائے گا: جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ.... (رعد:23) دائمی جنتوں میں خود بھی داخل ہو جائیں گے اور ان باپ داداؤں، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے، مگر اس کے درجے کے نہیں ہوں گے، یعنی یہ لوگ نیک ہوں گے، مگر اس کے درجے کے نہیں ہوں گے، لیکن اس کی خواہش پر اس کے درجے پر لائے جائیں گے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں والدین کو نیک اولاد آخرت میں بھی فائدہ دے گی۔ ہر شخص اپنے عمل کا مرہون ہے۔ یعنی اس کا عمل اچھا ہو تو نتیجہ اچھا اور اگر برا ہو تو نتیجہ بھی برا ہو گا۔ اس اصول کے تحت والدین کا رتبہ کم کر کے اولاد کو نہیں دیا جائے گا، نہ ہی کسی کا عذاب کم کر کے کسی دوسرے پر ڈالا جائے گا۔


وَ اَمۡدَدۡنٰہُمۡ بِفَاکِہَۃٍ وَّ لَحۡمٍ مِّمَّا یَشۡتَہُوۡنَ﴿۲۲﴾

۲۲۔ اور ہم انہیں پھل اور گوشت جو ان کا جی چاہے فراہم کریں گے۔


یَتَنَازَعُوۡنَ فِیۡہَا کَاۡسًا لَّا لَغۡوٌ فِیۡہَا وَ لَا تَاۡثِیۡمٌ﴿۲۳﴾

۲۳۔ وہاں وہ آپس میں جام پھراتے ہوں گے جس میں نہ بیہودگی ہو گی اور نہ گناہ۔

23۔ یَتَنَازَعُوۡنَ : تنازع کا لفظ جب کأس کے ساتھ ہو گا تو ایک دوسرے سے لینے کے معنوں میں ہو گا۔


وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ غِلۡمَانٌ لَّہُمۡ کَاَنَّہُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّکۡنُوۡنٌ﴿۲۴﴾

۲۴۔ اور ان کے گرد نوعمر خدمت گزار لڑکے ان کے لیے چل پھر رہے ہوں گے گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہوں۔


وَ اَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَسَآءَلُوۡنَ﴿۲۵﴾

۲۵۔ اور یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔