Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ۴۹﴾

۴۹۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف اللہ کے لیے ہے، وہ جو چاہتا ہے خلق فرماتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نرینہ اولاد عطا کرتا ہے۔

49۔ اولاد نرینہ ہو یا لڑکی، اس کا عطا کنندہ اللہ ہے۔ اگر انسان کو یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ پدر کے Y کو ماں کے X کے ساتھ جفت کر کے لڑکا اور پدر کے X کو ماں کے X کے ساتھ جفت کر کے لڑکی کے پیدا ہونے کے لیے فضا سازگار بنا لیتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اولاد دینے والا ہے۔ اس انسان کو نطفہ پدر، تخم مادر میں سے کسی ایک کے بنانے پر قدرت نہیں ہے۔ صرف راز قدرت کے سمجھنے کی صورت میں اس سے استفادہ کی بات ہے۔ جیسے قدیم سے لوگوں نے تجربہ کیا ہے کہ بعض غذاؤں اور دواؤں کے استعمال کی وجہ سے لڑکی یا لڑکا کے پیدا ہونے میں مدد ملتی ہے۔


اَوۡ یُزَوِّجُہُمۡ ذُکۡرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ وَ یَجۡعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ﴿۵۰﴾

۵۰۔ یا (جسے چاہے) بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے وہ یقینا بڑا جاننے والا ، قدرت والا ہے۔


وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ﴿۵۱﴾

۵۱۔ اور کسی بشر میں یہ صلاحیت نہیں کہ اللہ اس سے بات کرے ماسوائے وحی کے یا پردے کے پیچھے سے یا یہ کہ کوئی پیام رساں بھیجے پس وہ اس کے حکم سے جو چاہے وحی کرے، بے شک وہ بلند مرتبہ ، حکمت والا ہے۔

51۔ وحی کے تین طریقوں کا ذکر ہے۔ وحی یا تو براہ راست رسول کے قلب پر نازل ہوتی ہے یا یہ کہ پردے کے پیچھے سے وحی ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر درخت کے پردے میں وحی ہوئی یا یہ کہ فرشتے کے ذریعے ہوتی ہے۔ ان ذرائع کے علاوہ روبرو ہو کر بات نہیں ہوتی، کیونکہ اللہ کسی محسوس شکل میں نہیں آ سکتا۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر غشی اس وقت طاری ہوتی تھی جب براہ راست آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قلب پر وحی نازل ہوتی تھی، ورنہ جبرئیل ایک خادم کی طرح آپ کے سامنے بیٹھ جاتے۔


وَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ وَ لٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾

۵۲۔ اور اسی طرح ہم نے اپنے امر میں سے ایک روح آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ ہی ایمان کو (جانتے تھے) لیکن ہم نے اسے روشنی بنا دیا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اور آپ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں،

52۔ مِّنۡ اَمۡرِنَا عالم امری اور کن فکانی کے حتمی اور اٹل فیصلے کی طرف سے روحاً ایک حیات بخش قرآن کو آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف وحی کیا۔ اس کتاب کے مندرجات اور ایمان کی تفصیل آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تعالیٰ سے قطع نظر بذات خود نہیں جانتے تھے۔ جو کچھ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جانتے ہیں، وہ اللہ کی طرف سے وحی ہے۔ واضح رہے چالیس سال کے بعد اعلان رسالت سے بہت پہلے آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نبوت پر فائز تھے اور وحی کا تعلق نبوت سے ہے۔ اعلان رسالت اور نبوت میں فرق بیان کیے بغیر یہ کہنا کہ حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نبوت سے پہلے کچھ جانتے ہی نہ تھے اور نبوت سے مراد وہ اعلان رسالت لیتے ہیں، غیر ذمہ دارانہ بات ہے۔


صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِلَی اللّٰہِ تَصِیۡرُ الۡاُمُوۡرُ﴿٪۵۳﴾

۵۳۔ اس اللہ کے راستے کی طرف جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے، آگاہ رہو! تمام معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾

۱۔حا، میم۔


وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾

۲۔ اس روشن کتاب کی قسم ۔


اِنَّا جَعَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۚ﴿۳﴾

۳۔ ہم نے اس (قرآن) کو عربی قرآن بنایا ہے تاکہ تم سمجھ لو۔

3۔ تاکہ تم مخاطبین اول سمجھ سکو۔ چونکہ قرآن کے مخاطبین اول عرب لوگ ہیں۔ پہلے مرحلے میں انہیں سمجھانا مقصود ہے۔ مخاطبین اول پر واجب ہے کہ وہ اس قرآنی پیغام کو دوسری قوموں تک پہنچائیں: وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ۔ (انعام: 19) اُنۡذِرَکُمۡ مخاطبین اول اور مَنۡۢ بَلَغَ دوسری قومیں ہیں۔


وَ اِنَّہٗ فِیۡۤ اُمِّ الۡکِتٰبِ لَدَیۡنَا لَعَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ؕ﴿۴﴾

۴۔ اور بلاشبہ یہ مرکزی کتاب (لوح محفوظ) میں ہمارے پاس برتر، پر حکمت ہے۔

اُمِّ الۡکِتٰبِ سے مراد اکثر کے نزدیک لوح محفوظ ہے۔ چنانچہ سورہ بروج آیات21۔ 22میں فرمایا: بَلۡ ہُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِیۡدٌ ﴿﴾ فِیۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ بلکہ یہ وہ قرآن مجید ہے جو لوح محفوظ میں ہے۔ آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے: یہ قرآن ہمارے نزدیک لوح محفوظ میں بلند پایہ اور حکمت آمیز ہے۔ یعنی لوح محفوظ میں جہاں کل کائنات کا دستور ثبت ہے، وہاں قرآن کا درجہ بلند ہے۔ کیونکہ اس میں انسان کی سعادت کے لیے ایک جامع دستور حیات موجود ہے۔