Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکَ وَ مِمَّنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۸۵﴾

۸۵۔ کہ میں تجھ سے اور ان میں سے تیری پیروی کرنے والوں سے جہنم کو ضرور پر کر دوں گا۔


قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَکَلِّفِیۡنَ﴿۸۶﴾

۸۶۔ کہدیجئے: میں تم لوگوں سے اس بات کا اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں بناوٹ والوں میں سے ہوں۔

86۔ نہ تو تم سے کسی دنیاوی مفاد کا طالب ہوں، نہ ہی کسی تصنّع کا عادی ہوں کہ اپنی بڑائی دکھانے کے لیے وحی کا دعویٰ کروں۔ میری زندگی کا کوئی گوشہ تم سے پوشیدہ نہیں ہے۔ تمہیں معلوم ہے کہ میں کس مزاج کا مالک ہوں۔


اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ﴿۸۷﴾

۸۷۔ یہ تو عالمین کے لیے صرف نصیحت ہے۔


وَ لَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَہٗ بَعۡدَ حِیۡنٍ﴿٪۸۸﴾

۸۸۔ اور تمہیں اس کا علم ایک مدت کے بعد ہو گا۔

88۔ میں جو کچھ کہ رہا ہوں، چند سالوں کے اندر وہ بات پوری ہوتے ہوئے تم خود دیکھ لو گے۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ﴿۱﴾

۱۔ اس کتاب کا نزول بڑے غالب آنے والے اور حکمت والے اللہ کی طرف سے ہے۔


اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ فَاعۡبُدِ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ؕ﴿۲﴾

۲۔ ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب برحق نازل کی ہے لہٰذا آپ دین کو اسی کے لیے خالص کر کے صرف اللہ کی عبادت کریں۔

2۔ اس آیت میں دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کرنے کا حکم ہے۔ خالص سے مراد یہ ہے کہ دین بے شائبہ اور شفاف ہو نیز اللہ کے دین کو اختیار کرنے کا واحد مقصد خود ذات الہٰی اور اس سے عشق و محبت ہو اور اس میں غیر اللہ کا کوئی شائبہ نہ ہو جو ایک مشکل کام ہے۔ دینداری آسان ہے، لیکن اس کو بے شائبہ اور شفاف بنانا مشکل ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت ہے: تَصْفِیَۃُ الْعَمَلِ اَشَدُّ مِنَ الْعَمَلِ ۔ (الکافی 8: 22) عمل کو صاف و شفاف بنانا خود عمل سے زیادہ مشکل ہے۔


اَلَا لِلّٰہِ الدِّیۡنُ الۡخَالِصُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۘ مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ فِیۡ مَا ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ۬ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ﴿۳﴾

۳۔ آگاہ رہو! خالص دین صرف اللہ کے لیے ہے اور جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور وں کو سرپرست بنایا ہے (ان کا کہنا ہے کہ) ہم انہیں صرف اس لیے پوجتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں، اللہ ان کے درمیان یقینا ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں، اللہ جھوٹے منکر کو یقینا ہدایت نہیں کرتا ہے۔

3۔ مشرکین کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وہم و خیال سے بالاتر ہے۔ لہٰذا اس کی براہ راست عبادت نہیں ہو سکتی، اس لیے ہم اس کی عبادت اس کی مقرب ہستیوں کے ذریعے بجا لاتے ہیں، جن کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے تدبیر کائنات کا کام سونپ رکھا ہے۔ وہ مقرب ہستیاں فرشتے، جن اور مقدس انسان ہیں اور یہ بت ان مقدس ہستیوں کی شبیہ ہیں، وہ خود نہیں۔ لیکن جاہل لوگ ان شبیہوں کو ذوات مقدسہ خیال کرتے ہیں۔ یہ ہے خلاصہ مشرکین کے عقائد کا۔ (ماخوذ از المیزان)


لَوۡ اَرَادَ اللّٰہُ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصۡطَفٰی مِمَّا یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ۙ سُبۡحٰنَہٗ ؕ ہُوَ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ﴿۴﴾

۴۔ اگر اللہ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا منتخب کر لیتا، وہ پاکیزہ ہے اور وہ اللہ یکتا، غالب ہے۔

4۔ اگر بفرض محال اللہ کا کوئی بیٹا ہے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ وہ اللہ کا حصہ ہے جو اس سے جدا ہوا ہے۔ یہ ناممکن ہے۔ لہٰذا اگر اللہ کسی کو اپنا بیٹا بناتا تو اپنی مخلوق میں سے کسی کو بیٹا بنا لیتا۔ لیکن جب وہ مخلوق ہے تو بیٹا نہیں ہو سکتا۔ رہا یہ سوال اگر حقیقی بیٹا نہیں ہو سکتا تو کسی کو اعزازی بیٹا بنایا جائے تو کیا حرج ہے؟ جواب یہ ہے: اعزازی بیٹے کو باپ کے ساتھ بہت سے امور میں شریک بنایا جائے تو اعزازی ہو گا، جیسے ملکیت، تدبیر سلطنت وغیرہ میں۔ یہ بھی شرک کی ایک صورت ہے۔


خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ۚ یُکَوِّرُ الَّیۡلَ عَلَی النَّہَارِ وَ یُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیۡلِ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اَلَا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ﴿۵﴾

۵۔ اسی نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا ہے، یہ سب ایک مقررہ وقت تک چلتے رہیں گے، آگاہ رہو! وہی بڑا غالب آنے والا معاف کرنے والا ہے۔