Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

یَّوۡمَ تَبۡیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسۡوَدُّ وُجُوۡہٌ ۚ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ ۟ اَکَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ﴿۱۰۶﴾

۱۰۶۔ قیامت کے دن کچھ لوگ سرخرو اور کچھ لوگ سیاہ رو ہوں گے، پس روسیاہ لوگوں سے کہا جائے گا :کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا؟ پس اب اپنے اس کفر کے بدلے عذاب چکھو۔

106۔ ایمان کے بعد کفر سے مراد اہل بدعت اور باطل نظریات رکھنے والے فرقے ہیں، جیسا کہ روایت میں آیا ہے (مجمع البیان ذیل آیت)


وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ ابۡیَضَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ فَفِیۡ رَحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۱۰۷﴾

۱۰۷۔ اور جن کے چہرے روشن ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔


تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعٰلَمِیۡنَ﴿۱۰۸﴾

۱۰۸۔ یہ ہیں اللہ کی نشانیاں جو صحیح انداز میں ہم آپ کو سنا رہے ہیں اور اللہ اہل عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا۔


وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۱۰۹﴾٪

۱۰۹۔ اور آسمانوں اور زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہے اور تمام معاملات کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے۔


کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ وَ لَوۡ اٰمَنَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ مِنۡہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ اَکۡثَرُہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ﴿۱۱۰﴾

۱۱۰۔تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح) کے لیے پیدا کیے گئے ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو خود ان کے لیے بہتر تھا۔ اگرچہ ان میں سے کچھ لوگ ایمان والے ہیں لیکن ان کی اکثریت فاسق ہے۔

110۔ ہر حکم شرعی جو آپ کے علم میں ہے اسے دوسروں تک پہنچانا واجب ہے۔ آپ کے سامنے ایک شخص گناہ کرتا ہے تو آپ پر واجب ہے کہ اسے روکیں، اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو طاقت استعمال کریں ورنہ زبانی طور پر۔ اگر یہ غیر مؤثر ہے تو قلبی کراہت ضروری ہے۔ اسی طرح اگر آپ کے سامنے ایک شخص وضو درست طریقے سے نہیں کر رہا تو آپ پر واجب ہے اسے صحیح طریقہ بتائیں۔ بہترین امت ہونے کا دار و مدار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر ہے۔ اس پروگرام پر عمل سے اسلام کا انسان ساز اور حیات آفرین نظام عملاً نافذ رہتا ہے۔ تفسیر در منثور میں آیا ہے: خیر امت سے مراد اہل بیت نبی اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں۔


لَنۡ یَّضُرُّوۡکُمۡ اِلَّاۤ اَذًی ؕ وَ اِنۡ یُّقَاتِلُوۡکُمۡ یُوَلُّوۡکُمُ الۡاَدۡبَارَ ۟ ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوۡنَ﴿۱۱۱﴾

۱۱۱۔ یہ لوگ ایذا رسانی کے سوا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اگر تمہارے ساتھ لڑائی کی نوبت آئی تو یہ تمہیں پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے، پھر انہیں کہیں سے مدد نہیں ملے گی۔

111۔ اگر مسلمان خیر امت کے منصب پر فائز رہنے کی شرط یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تحریک سے وابستہ رہیں تو اس صورت میں تین بشارتیں موجود ہیں: اول یہ کہ دشمن انہیں قابل ذکر ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ دوم یہ کہ اگر دشمن میدان جنگ میں مسلمانوں کا مقابلہ کریں تو انہیں شکست ہو گی۔ سوم یہ کہ دشمن بے یار و مددگار رہیں گے اور ان کا کوئی حمایتی نہ ہو گا۔ سیاق آیت سے مفہوم ہوتا ہے کہ یہاں دشمن سے مراد اہل کتاب ہیں۔


ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ اَیۡنَ مَا ثُقِفُوۡۤا اِلَّا بِحَبۡلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ حَبۡلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡمَسۡکَنَۃُ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقۡتُلُوۡنَ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ﴿۱۱۲﴾٭

۱۱۲۔یہ جہاں بھی ہوں گے ذلت و خواری سے دوچار ہوں گے ، مگر یہ کہ اللہ کی پناہ سے اور لوگوں کی پناہ سے متمسک ہو جائیں اور یہ اللہ کے غضب میں مبتلا رہیں گے اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی ہے، یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے۔ ان (جرائم کے ارتکاب) کا سبب یہ ہے کہ وہ نافرمانی اور زیادتی کرتے تھے۔

112۔ سلسلہ کلام اہل کتاب کے بارے میں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے حق میں یہ ذلت و خواری قانون جزیہ وغیرہ نافذ ہونے کی وجہ سے ہو اور اسلامی شریعت کی روسے یہ لوگ ذلیل ٹھہریں، جب تک وہ اسلامی قوانین کی بالادستی قبول نہ کریں یا مسلمانوں کی امان میں پناہ نہ لیں۔ ممکن ہے کہ اللہ ان کی تقدیر کی پیشگوئی فرما رہا ہو کہ یہ لوگ ہمیشہ ذلت و خواری سے دو چار رہیں گے اور اگر انہیں کہیں امن و سکون نصیب ہو گا تو دوسروں کی مہربانی و حمایت سے ہو گا۔ یعنی کبھی اللہ کے قانون کی پناہ میں اور کبھی دوسرے لوگوں کے رحم و کرم کے سہارے سکھ اور چین نصیب ہو سکے گا۔


لَیۡسُوۡا سَوَآءً ؕ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتۡلُوۡنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآءَ الَّیۡلِ وَ ہُمۡ یَسۡجُدُوۡنَ﴿۱۱۳﴾

۱۱۳۔ سب برابر نہیں ہیں، اہل کتاب میں کچھ (لوگ) ایسے بھی ہیں جو (حکم خدا پر) قائم ہیں، رات کے وقت آیات خدا کی تلاوت کرتے ہیں اور سر بسجود ہوتے ہیں۔


یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ﴿۱۱۴﴾

۱۱۴۔وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے، نیک کاموں کا حکم دیتے، برائیوں سے روکتے اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی صالح لوگوں میں سے ہیں۔


وَ مَا یَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلَنۡ یُّکۡفَرُوۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِیۡنَ﴿۱۱۵﴾

۱۱۵۔ اور یہ لوگ نیکی کا جو بھی کام انجام دیں گے اس کی ناقدری نہ ہو گی اور اللہ تقویٰ والوں کو خوب جانتا ہے۔

113 تا115۔ ان آیات میں ایک ممکنہ غلط فہمی کا ازالہ ہے کہ اہل کتاب اور خاص کر یہودیوں کی سیاہ کاریاں دیکھ کر مسلمانوں کے ذہن میں ایک نسلی منافرت اور قومی عصبیت پیدا نہ ہو جائے۔ اس لیے انہیں بتایا گیا کہ تمام اہل کتاب کو یکساں نہ سمجھو اور ان سے نسلی اور قبائلی بنیادوں پر تعصب نہ برتو، کیونکہ ان میں اہل ایمان، صالح اور متقی لوگ بھی ہیں۔