Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

کَیۡفَ یَہۡدِی اللّٰہُ قَوۡمًا کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ وَ شَہِدُوۡۤا اَنَّ الرَّسُوۡلَ حَقٌّ وَّ جَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۸۶﴾

۸۶۔ اللہ کیونکر اس قوم کو ہدایت کرے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئی ہے حالانکہ وہ گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول برحق ہے اور ساتھ ہی ان کے پاس روشن دلائل بھی آ گئے تھے اور ایسے ظلم کے مرتکب ہونے والوں کو اللہ ہدایت نہیں کرتا۔

86۔ آیات کے تسلسل سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ یہ لوگ رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مبعوث ہونے سے قبل آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی علامات اور نشانیاں پڑھ کر آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے رسول برحق ہونے کی گواہی بھی دے چکے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعا مانگتے تھے۔ یعنی انہوں نے حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اپنی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں بعد میں جب رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مبعوث بر رسالت ہو گئے تو انہی لوگوں نے کفر اختیار کیا اور آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ماننے سے انکار کیا۔


اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ اَنَّ عَلَیۡہِمۡ لَعۡنَۃَ اللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾

۸۷۔ان لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے۔


خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾

۸۸۔ وہ ہمیشہ اس لعنت میں گرفتار رہیں گے، نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہو گی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔


اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَ اَصۡلَحُوۡا ۟ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۸۹﴾

۸۹۔سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اصلاح کر لی، پس اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

89۔ البتہ ان لوگوں کے ہاں ایمان کے لیے کچھ گنجائش باقی ہے جو توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کرتے رہیں۔ واضح رہے کہ توبہ کا مطلب صرف پشیمان ہونا نہیں ہے بلکہ توبہ کے بعد استقامت شرط ہے کہ دوبارہ اس گناہ کی طرف نہ آئے۔ اسی کو اصلاح کہتے ہیں۔ یعنی توبہ ایک نفسیاتی چیز ہے اور اصلاح اس کے مطابق عمل کرنا ہے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ ثُمَّ ازۡدَادُوۡا کُفۡرًا لَّنۡ تُقۡبَلَ تَوۡبَتُہُمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الضَّآلُّوۡنَ﴿۹۰﴾

۹۰۔ جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا پھر وہ اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہو گی، اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔

90۔ کفر میں اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب کفر کے تقاضوں کے مطابق بد اعمالیوں میں اضافہ کرے جیسا کہ ایمان میں اضافے کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ ایمان کے تقاضوں کے مطابق نیک اعمال میں اضافہ کرے۔

بعض روایات کے مطابق یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو رسول اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف مصروف عمل رہتے تھے اور یہ خیال رکھتے تھے کہ اگر محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کامیاب ہو گئے تو ہم توبہ کر لیں گے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ مَاتُوۡا وَ ہُمۡ کُفَّارٌ فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡ اَحَدِہِمۡ مِّلۡءُ الۡاَرۡضِ ذَہَبًا وَّلَوِ افۡتَدٰی بِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ وَّ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ﴿٪۹۱﴾

۹۱۔ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور کفر کی حالت میں مر گئے ان میں سے کسی سے اس قدر سونا بھی، جس سے روئے زمین بھر جائے، ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ اسے فدیہ میں دے دیں، ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہو گا اور ان کی مدد کرنے والے نہ ہوں گے۔


لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ﴿۹۲﴾

۹۲۔ جب تک تم اپنی پسند کی چیزوں میں سے خرچ نہ کرو تب تک کبھی نیکی کو نہیں پہنچ سکتے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو یقینا اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔

92۔ سابقہ آیت میں کہا گیا کہ کافر روئے زمین بھر سونا فدیہ میں دے دے تو بھی قبول نہ ہو گا۔ اس سے ذہن میں یہ خیال آنا عین ممکن ہے کہ مال خرچ کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا: مومن کے لیے مال بہترین وسیلہ ہے جس کے ذریعے وہ نیکی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو سکتا ہے اور انفاق کی کیفیت بھی بیان فرمائی کہ جس چیز سے آپ کو محبت ہے اگر اس چیز کو راہِ خدا میں دیں تو پتہ چلے گا کہ اللہ کی محبت، مال کی محبت پر غالب ہے۔ یہی نیکی اور کامیابی ہے۔


کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسۡرَآءِیۡلُ عَلٰی نَفۡسِہٖ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تُنَزَّلَ التَّوۡرٰىۃُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِالتَّوۡرٰىۃِ فَاتۡلُوۡہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ﴿۹۳﴾

۹۳۔ بنی اسرائیل کے لیے کھانے کی ساری چیزیں حلال تھیں بجز ان چیزوں کے جو اسرائیل نے توریت نازل ہونے سے پہلے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں، کہدیجئے: اگر تم سچے ہو تو توریت لے آؤ اور اسے پڑھو ۔

93۔ یہودیوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے جزئی اور فروعی اعتراضات کا جواب ہے۔ وہ موجودہ تحریف شدہ یہودی تعلیمات کی روشنی میں اعتراض اٹھاتے ہیں اور قرآن اصلی دین ابراہیمی کی روشنی میں جواب دے رہا ہے۔ اعتراض یہ تھا: اسلام نے کھانے پینے کی بہت سی ایسی چیزوں کو حلال قرار دیا ہے جو سابقہ انبیاء کے ادوار میں حرام تھیں، مثلا وہ اونٹ کا گوشت حرام سمجھتے تھے لیکن اسلام اسے حلال قرار دیتا ہے۔ پھر اسلام کس طرح دین ابراہیمی کا پیروکار ہو سکتا ہے؟ جواب میں قرآن ارشاد فرماتا ہے: بنی اسرائیل کے لیے کھانے کی ساری چیزیں حلال تھیں، سوائے ان کے جن سے اسرائیل یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام نے بعض طبی ضروریات کے تحت اجتناب کیا تھا، لیکن بعد میں بنی اسرائیل نے اسی امر کو اپنی دینی تعلیمات کا حصہ بنا لیا۔ پھر قرآن دعوت دیتا ہے کہ توریت لے آؤ اور دیکھ لو کہ یہ چیزیں حلال ہیں یا نہیں۔


فَمَنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴿؃۹۴﴾

۹۴۔ اس کے بعد بھی جنہوں نے اللہ کی طرف جھوٹی نسبت دی وہی لوگ ظالم ہیں۔


قُلۡ صَدَقَ اللّٰہُ ۟ فَاتَّبِعُوۡا مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ﴿۹۵﴾

۹۵۔ کہدیجئے: اللہ نے سچ فرمایا، پس تم یکسوئی سے دین ابراہیمی کی پیروی کرو اور ابراہیم مشرکین میں سے نہ تھے۔